<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:57:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:57:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: اسکول میں طالبہ پر تشدد کا معاملہ، متاثرہ لڑکی سمیت 5 طالبات معطل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195969/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک نجی اسکول میں ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملے پر انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ لڑکی سمیت 5 طالبات کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے ڈیفنس میں  بی بی بلاک میں قائم امریکن انٹرنیشنل اسکول کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 4 طالبات کی طرف سے ایک ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملے پر انتظامیہ نے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے طالبات کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ بشمول پرنسپل اور دیگر سینیئر اساتذہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں اسکول انتظامیہ نے کہا کہ سینیئر اساتذہ پر مشتمل تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 10روز میں اپنی انکوئری مکمل کرکے رپورٹ انتظامیہ کے پاس جمع کرائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کے مطابق کمیٹی کی تحقیقات کی روشنی میں ذمہ دار طالبات کے خلاف کارروائی کی جائے گی کیونکہ طالبات نے اسکول کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے میں موجود 5 طالبات کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکول پرنسپل نے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کی 25 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ 20 جنوری کو لاہور کے نجی اسکول کی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب متاثرہ لڑکی کو ساتھی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کرنے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ لڑکی کے والد عمران یونس کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں بی بی بلاک میں قائم امریکن انٹرنیشنل اسکول میں زیرتعلیم ہے، والد نے الزام لگایا کہ حملہ کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کے ہاتھ میں خنجر بھی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195821"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ آور ہونے والی لڑکیوں نے ان کی بیٹی کو بالوں سے کھینچ کر زمین پر گھسیٹا اور اس کے اوپر چڑھ گئیں اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران یونس کا کہنا تھا کہ حملہ آور لڑکیوں میں سے ایک لڑکی باکسر ہے جس نے میری بیٹی کے چہرے پر مکا مارا جس کے نتیجے وہ زخمی ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اور لڑکی نے متاثرہ لڑکی کا گلا دبانے کی کوشش کی، حملہ آور لڑکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے سوشل میڈیا میں موجود ویڈیو کلپ ثبوت کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1121033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد ان کی بیٹی کو شدید صدمہ پہنچا تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں 21 جنوری کو لاہور سیشن عدالت نے نجی اسکول میں طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں مقدمے میں نامزد 3 طالبات کی عبوری ضمانتیں منظور کرلیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب متاثرہ لڑکی کو ساتھی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کرنے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک نجی اسکول میں ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملے پر انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ لڑکی سمیت 5 طالبات کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کردیا گیا ہے۔</p>
<p>لاہور کے علاقے ڈیفنس میں  بی بی بلاک میں قائم امریکن انٹرنیشنل اسکول کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق 4 طالبات کی طرف سے ایک ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملے پر انتظامیہ نے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے طالبات کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کردیا ہے۔</p>
<p>انتظامیہ بشمول پرنسپل اور دیگر سینیئر اساتذہ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں اسکول انتظامیہ نے کہا کہ سینیئر اساتذہ پر مشتمل تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 10روز میں اپنی انکوئری مکمل کرکے رپورٹ انتظامیہ کے پاس جمع کرائے گی۔</p>
<p>انتظامیہ کے مطابق کمیٹی کی تحقیقات کی روشنی میں ذمہ دار طالبات کے خلاف کارروائی کی جائے گی کیونکہ طالبات نے اسکول کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے.</p>
<p>اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے میں موجود 5 طالبات کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسکول پرنسپل نے واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کی 25 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ 20 جنوری کو لاہور کے نجی اسکول کی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔</p>
<p>پولیس کی جانب سے مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب متاثرہ لڑکی کو ساتھی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کرنے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہوئی تھی۔</p>
<p>متاثرہ لڑکی کے والد عمران یونس کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں بی بی بلاک میں قائم امریکن انٹرنیشنل اسکول میں زیرتعلیم ہے، والد نے الزام لگایا کہ حملہ کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کے ہاتھ میں خنجر بھی تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195821"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ آور ہونے والی لڑکیوں نے ان کی بیٹی کو بالوں سے کھینچ کر زمین پر گھسیٹا اور اس کے اوپر چڑھ گئیں اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>عمران یونس کا کہنا تھا کہ حملہ آور لڑکیوں میں سے ایک لڑکی باکسر ہے جس نے میری بیٹی کے چہرے پر مکا مارا جس کے نتیجے وہ زخمی ہوگئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اور لڑکی نے متاثرہ لڑکی کا گلا دبانے کی کوشش کی، حملہ آور لڑکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے سوشل میڈیا میں موجود ویڈیو کلپ ثبوت کے لیے کافی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1121033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد ان کی بیٹی کو شدید صدمہ پہنچا تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔</p>
<p>بعدازاں 21 جنوری کو لاہور سیشن عدالت نے نجی اسکول میں طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں مقدمے میں نامزد 3 طالبات کی عبوری ضمانتیں منظور کرلیں۔</p>
<p>پولیس کی جانب سے مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب متاثرہ لڑکی کو ساتھی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کرنے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195969</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Jan 2023 20:25:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/24180750542e034.gif?r=180832" type="image/gif" medium="image" height="484" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/24180750542e034.gif?r=180832"/>
        <media:title>متاثرہ لڑکی کے والد عمران یونس کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا بعدازاں ان کی ضمانت منظور ہوئی تھی۔—فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
