<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:00:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:00:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایچ آئی وی سے حفاظت کی دوسری ویکسین کی آزمائش بھی ناکام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195977/</link>
      <description>&lt;p&gt;موذی مرض ایڈز کا سبب بننے والے وائرس ایچ آئی وی کو روکنے یا اس سے حفاظت کے لیے بنائی گئی امریکی دوا ساز کمپنی ’جانسن ایںڈ جانسن‘ کی ویکسین کی آزمائش بھی ناکام ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل فروری 2020 میں امریکی حکومت کی جانب سے مختلف طبی اور دوا ساز اداروں کے اشتراک سے بنائی گئی ویکسین کی آزمائش بھی ناکام ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ آئی وی سے حفاظت کے لیے بنائی گئی مسلسل دوسری ویکسین کی آزمائش بھی ناکام ہونے پر ماہرین نے شدید اضطراب کا شکار ہیں اور جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین کی مزید آزمائش کو روک دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1119749"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/jj-discontinue-hiv-vaccine-trial-2023-01-18/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین کی آزمائش 2019 میں شروع کی گئی تھی اور مذکورہ آزمائش کا مرحلہ اہم ترین تھا مگر اس کے نتائج اچھے نہیں نکلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے جانسن اینڈ جانسن کی جانب سے دوسری کمپنی کے اشتراک سے بنائی گئی ویکسین کو دنیا کے متعدد ممالک کے 50 مختلف علاقوں کے رضاکاروں پر آزمایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویکسین کو برازیل، میکسیکو، ارجٹینا، اٹلی، پیرو، پولینڈ، پیورٹو ریکو، اسپین اور امریکا کے 50 مختلف علاقوں میں رہنے والے 3900 افراد پر آزمایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن افراد پر ویکسین کی آزمائش کی گئی تھی، اس میں خواجہ سرا، ٹرانس جینڈرز اور ہم جنس پرست افراد بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کو امید تھی کہ ویکسین تیسرے اور اہم ترین آزمائشی مرحلے میں خاطر خواہ نتائج دے گی، تاہم ایسا نہیں ہوسکا اور ویکسین ایچ آئی وی وائرس کو بڑھنے سے روکنے میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جانسن اینڈ جانسن نے بھی اپنی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.jnj.com/janssen-and-global-partners-to-discontinue-phase-3-mosaico-hiv-vaccine-clinical-trial"&gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ ویکسین ایچ آئی وی کے وائرس کو بڑھنے سے روکنے میں ناکام رہی اور اس سے متاثرہ افراد کے مدافعتی نظام کو تقویت نہیں ملی، جس وجہ سے ویکسین کی مزید آزمائش روک دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1044537"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں بتایا گیا کہ آزمائش کے دوران تمام رضاکاروں کو ہر تین ماہ بعد اور ایک سال میں 4 ویکسینز لگائی گئیں مگر ان کا نتیجہ تمام ہی 50 علاقوں پر منفی نکلا، جس وجہ سے اس کی آزمائش روک دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ایچ آئی وی کو روکنے یا اس سے حفاظت کی ویکسین کی آزمائش ناکام ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے وائرس کا شکار ہونے والے افراد سے ہمدردی کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں مریضوں کے لیے ویکسین تیار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویکسین کی ناکامی کے بعد ایچ آئی وی سے حفاظت کے لیے تیار کی گئی مسلسل دوسری ویکسین کی آزمائش ناکام ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس وقت بھی مختلف ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیوں کی کم سے کم تین ایچ آئی وی ویکسینز کی آزمائش جاری ہے، جن کے حوالے سے ماہرین پر امید ہیں کہ ان کے نتائج حوصلہ کن آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ایچ آئی وی کے مریضوں کا علاج مختلف ادویات کے ذریعے کیا جا رہا ہے، تاہم ان کی حفاظت کے لیے کسی طرح کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایچ آئی وی وائرس کی پہچان 1980 کے بعد ہوئی تھی، اس وائرس سے متاثرہ افراد ایڈز کا شکار بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وائرس یا مرض سے بچاؤ کے لیے اب تک کوئی بھی ویکسین دستیاب نہیں ہے تاہم امریکی سائنسدانوں نے دنیا کے دیگر ممالک کے ماہرین کے اشتراک سے 1997 میں ویکسین تیار کرلی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1997 میں تیار کی جانے والی ویکسین پر مزید کئی سال تحقیق کرنے کے بعد سائسندانوں نے اسے مکمل تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور 2016 میں اس کی آزمائش شروع کی گئی تھی مگر اس کی آزمائش بھی ناکام گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جانسن اینڈ جانسن نے بھی چند سال قبل ہی ویکسین بنالی تھی اور اس نے 2019 سے ویکسین کی آزمائش شروع کی لیکن بدقسمتی سے ان کی ویکسین کی آزمائش بھی ناکام ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>موذی مرض ایڈز کا سبب بننے والے وائرس ایچ آئی وی کو روکنے یا اس سے حفاظت کے لیے بنائی گئی امریکی دوا ساز کمپنی ’جانسن ایںڈ جانسن‘ کی ویکسین کی آزمائش بھی ناکام ہوگئی۔</p>
<p>اس سے قبل فروری 2020 میں امریکی حکومت کی جانب سے مختلف طبی اور دوا ساز اداروں کے اشتراک سے بنائی گئی ویکسین کی آزمائش بھی ناکام ہوگئی تھی۔</p>
<p>ایچ آئی وی سے حفاظت کے لیے بنائی گئی مسلسل دوسری ویکسین کی آزمائش بھی ناکام ہونے پر ماہرین نے شدید اضطراب کا شکار ہیں اور جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین کی مزید آزمائش کو روک دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1119749"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/jj-discontinue-hiv-vaccine-trial-2023-01-18/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین کی آزمائش 2019 میں شروع کی گئی تھی اور مذکورہ آزمائش کا مرحلہ اہم ترین تھا مگر اس کے نتائج اچھے نہیں نکلے۔</p>
<p>ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے جانسن اینڈ جانسن کی جانب سے دوسری کمپنی کے اشتراک سے بنائی گئی ویکسین کو دنیا کے متعدد ممالک کے 50 مختلف علاقوں کے رضاکاروں پر آزمایا گیا۔</p>
<p>مذکورہ ویکسین کو برازیل، میکسیکو، ارجٹینا، اٹلی، پیرو، پولینڈ، پیورٹو ریکو، اسپین اور امریکا کے 50 مختلف علاقوں میں رہنے والے 3900 افراد پر آزمایا گیا۔</p>
<p>جن افراد پر ویکسین کی آزمائش کی گئی تھی، اس میں خواجہ سرا، ٹرانس جینڈرز اور ہم جنس پرست افراد بھی شامل تھے۔</p>
<p>ماہرین کو امید تھی کہ ویکسین تیسرے اور اہم ترین آزمائشی مرحلے میں خاطر خواہ نتائج دے گی، تاہم ایسا نہیں ہوسکا اور ویکسین ایچ آئی وی وائرس کو بڑھنے سے روکنے میں ناکام رہی۔</p>
<p>جانسن اینڈ جانسن نے بھی اپنی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.jnj.com/janssen-and-global-partners-to-discontinue-phase-3-mosaico-hiv-vaccine-clinical-trial"><strong>ویب سائٹ</strong></a> پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ ویکسین ایچ آئی وی کے وائرس کو بڑھنے سے روکنے میں ناکام رہی اور اس سے متاثرہ افراد کے مدافعتی نظام کو تقویت نہیں ملی، جس وجہ سے ویکسین کی مزید آزمائش روک دی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1044537"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں بتایا گیا کہ آزمائش کے دوران تمام رضاکاروں کو ہر تین ماہ بعد اور ایک سال میں 4 ویکسینز لگائی گئیں مگر ان کا نتیجہ تمام ہی 50 علاقوں پر منفی نکلا، جس وجہ سے اس کی آزمائش روک دی گئی۔</p>
<p>کمپنی نے ایچ آئی وی کو روکنے یا اس سے حفاظت کی ویکسین کی آزمائش ناکام ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے وائرس کا شکار ہونے والے افراد سے ہمدردی کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں مریضوں کے لیے ویکسین تیار ہوگی۔</p>
<p>مذکورہ ویکسین کی ناکامی کے بعد ایچ آئی وی سے حفاظت کے لیے تیار کی گئی مسلسل دوسری ویکسین کی آزمائش ناکام ہوئی ہے۔</p>
<p>تاہم اس وقت بھی مختلف ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیوں کی کم سے کم تین ایچ آئی وی ویکسینز کی آزمائش جاری ہے، جن کے حوالے سے ماہرین پر امید ہیں کہ ان کے نتائج حوصلہ کن آئیں گے۔</p>
<p>اس وقت ایچ آئی وی کے مریضوں کا علاج مختلف ادویات کے ذریعے کیا جا رہا ہے، تاہم ان کی حفاظت کے لیے کسی طرح کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ ایچ آئی وی وائرس کی پہچان 1980 کے بعد ہوئی تھی، اس وائرس سے متاثرہ افراد ایڈز کا شکار بن جاتے ہیں۔</p>
<p>اس وائرس یا مرض سے بچاؤ کے لیے اب تک کوئی بھی ویکسین دستیاب نہیں ہے تاہم امریکی سائنسدانوں نے دنیا کے دیگر ممالک کے ماہرین کے اشتراک سے 1997 میں ویکسین تیار کرلی تھی۔</p>
<p>1997 میں تیار کی جانے والی ویکسین پر مزید کئی سال تحقیق کرنے کے بعد سائسندانوں نے اسے مکمل تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور 2016 میں اس کی آزمائش شروع کی گئی تھی مگر اس کی آزمائش بھی ناکام گئی تھی۔</p>
<p>جانسن اینڈ جانسن نے بھی چند سال قبل ہی ویکسین بنالی تھی اور اس نے 2019 سے ویکسین کی آزمائش شروع کی لیکن بدقسمتی سے ان کی ویکسین کی آزمائش بھی ناکام ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195977</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Jan 2023 22:22:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/242026062f8c328.jpg?r=202630" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/242026062f8c328.jpg?r=202630"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
