<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 11:34:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 11:34:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بائیڈن اور ٹرمپ کے بعد سابق صدر مائیک پینس کی رہائش گاہ سے بھی خفیہ دستاویزات برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195989/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق امریکی نائب صدر مائیک پینس کے انڈیانا کے گھر سے گزشتہ ہفتے خفیہ دستاویزات ملی ہیں اور انہوں نے وہ خفیہ دستاویزات ایف بی آئی کے سپرد کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مائیک پینس کے نمائندے نے نیشنل آرکائیوز کو ایک خط بھیج کر دستاویزات کے حوالے سے آگاہ کیا اور ایک علیحدہ خط میں کہا کہ ایف بی آئی دستاویزات لینے کے لیے سابق نائب صدر کے گھر آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دستاویزات ملنے کے ساتھ ہی مائیک پینس سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجود صدر جو بائیڈن کی صف میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ان دونوں کی رہائش گاہ سے بھی خفیہ دستاویزات ملی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1186901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیک پینس کے نمائندے گریگ جیکب نے 18 جنوری کو نیشنل آرکائیوز کو لکھے گئے خط میں کہا کہ جو بائیڈن کے گھر سے خفیہ مواد برآمد ہونے کی خبر نشر ہونے کے ساتھ ہی پینس نے وکیل سے مشاورت کی تھی تاکہ اپنے گھر پر محفوظ خفیہ ریکارڈ پر نظرثانی کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیکب نے خط میں مزید لکھا کہ وکیل کو ان میں سے کچھ دستاویزات حساس یا خفیہ نوعیت کی معلوم ہوئیں جنہیں سابق صدر نے فوری طور پر ایک خفیہ لاکر میں رکھ دیا اور اب اس کے حوالے سے وہ نیشنل آرکائیوز کی ہدایات کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;22 جنوری کو لکھے گئے ایک علیحدہ خط میں جیکب نے کہا کہ محکمہ انصاف نے روایتی طریقہ کار کے برعکس پینس کی رہائش گاہ سے براہ راست دستاویزات اپنے قبضے میں لینے کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195863"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق سدر سے معاہدہ طے پانے کے بعد ایف بی آئی 19جنوری کو ان کی انڈیانا کی رہائش گاہ پر آئی تاکہ لاکر میں محفوظ ان خفیہ دستاویزات کو وصول کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ سابق سدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجود صدر بائیڈن کی رہائش گاہوں سے ملنے والی خفیہ دستاویزات کے معاملے پر دونوں کو محکمہ انصاف کے سامنے پیش ہونا ہے جہاں ان دونوں پر ان خفیہ دستاویزات کے حوالے سے لاپرواہی برتنے کا الزام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر صدارتی مدت کے اختتام پر خفیہ دستاویزات کو چے شدہ طریقہ کار کے تحت امریکی نیشنل آرکائیوز کی قانونی تحویل میں دیا جاتاہے اور ان ان دستاویزات کو جانتے بوجھتے یا انجانے میں اپنے پاس رکھنا غیرقانونی ہے کیونکہ اگر یہ دستاویزات غلط ہاتھوں میں پڑ جائیں تو اس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق امریکی نائب صدر مائیک پینس کے انڈیانا کے گھر سے گزشتہ ہفتے خفیہ دستاویزات ملی ہیں اور انہوں نے وہ خفیہ دستاویزات ایف بی آئی کے سپرد کردی ہیں۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مائیک پینس کے نمائندے نے نیشنل آرکائیوز کو ایک خط بھیج کر دستاویزات کے حوالے سے آگاہ کیا اور ایک علیحدہ خط میں کہا کہ ایف بی آئی دستاویزات لینے کے لیے سابق نائب صدر کے گھر آئی تھی۔</p>
<p>یہ دستاویزات ملنے کے ساتھ ہی مائیک پینس سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجود صدر جو بائیڈن کی صف میں شامل ہو گئے ہیں جہاں ان دونوں کی رہائش گاہ سے بھی خفیہ دستاویزات ملی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1186901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مائیک پینس کے نمائندے گریگ جیکب نے 18 جنوری کو نیشنل آرکائیوز کو لکھے گئے خط میں کہا کہ جو بائیڈن کے گھر سے خفیہ مواد برآمد ہونے کی خبر نشر ہونے کے ساتھ ہی پینس نے وکیل سے مشاورت کی تھی تاکہ اپنے گھر پر محفوظ خفیہ ریکارڈ پر نظرثانی کر سکیں۔</p>
<p>جیکب نے خط میں مزید لکھا کہ وکیل کو ان میں سے کچھ دستاویزات حساس یا خفیہ نوعیت کی معلوم ہوئیں جنہیں سابق صدر نے فوری طور پر ایک خفیہ لاکر میں رکھ دیا اور اب اس کے حوالے سے وہ نیشنل آرکائیوز کی ہدایات کے منتظر ہیں۔</p>
<p>22 جنوری کو لکھے گئے ایک علیحدہ خط میں جیکب نے کہا کہ محکمہ انصاف نے روایتی طریقہ کار کے برعکس پینس کی رہائش گاہ سے براہ راست دستاویزات اپنے قبضے میں لینے کی درخواست کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195863"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سابق سدر سے معاہدہ طے پانے کے بعد ایف بی آئی 19جنوری کو ان کی انڈیانا کی رہائش گاہ پر آئی تاکہ لاکر میں محفوظ ان خفیہ دستاویزات کو وصول کر سکے۔</p>
<p>یاد رہے کہ سابق سدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجود صدر بائیڈن کی رہائش گاہوں سے ملنے والی خفیہ دستاویزات کے معاملے پر دونوں کو محکمہ انصاف کے سامنے پیش ہونا ہے جہاں ان دونوں پر ان خفیہ دستاویزات کے حوالے سے لاپرواہی برتنے کا الزام ہے۔</p>
<p>ہر صدارتی مدت کے اختتام پر خفیہ دستاویزات کو چے شدہ طریقہ کار کے تحت امریکی نیشنل آرکائیوز کی قانونی تحویل میں دیا جاتاہے اور ان ان دستاویزات کو جانتے بوجھتے یا انجانے میں اپنے پاس رکھنا غیرقانونی ہے کیونکہ اگر یہ دستاویزات غلط ہاتھوں میں پڑ جائیں تو اس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195989</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Jan 2023 00:23:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/25001250b6d8b86.jpg?r=002213" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/25001250b6d8b86.jpg?r=002213"/>
        <media:title>خفیہ دستاویزات سابق امریکی نائب صدر کے انڈیانا کے گھر سے ملیں جو انہوں نے ایف بی آئی کے سپرد کردی ہیں— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
