<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:10:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:10:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اٹارنی جنرل کی تعیناتی میں تاخیر: ہائی کورٹ نے بھی وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195996/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی پاکستان کے اٹارنی جنرل کی تعیناتی میں تاخیر کے حوالے سے وفاقی حکومت سے جواب  طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1733474/after-sc-high-court-reproaches-govt-over-law-officers-vacant-post"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایک روز قبل سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستان کے اٹارنی جنرل کا عہدہ اکتوبر 2022 سے خالی ہونے پر  برہمی کا اظہار کیا گیا تھا تاہم ابھی تک اس اہم عہدے پر کسی شخص کو تعینات نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ کیا حکومت اتنی نااہل ہے کہ ایک اٹارنی جنرل نہیں لگاسکتی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسلام آباد میں سماعت کے دوران  جسٹس طارق محمود جہانگیر  نے اٹارنی جنرل کی تعیناتی میں تاخیر کے حوالے سے وجوہات طلب کرلیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195242"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران سابق ایڈیشنل آڈیٹر جنرل عرفان جہانگیر وٹو کی  جانب سے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس طارق محمود  نے سماعت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس طارق محمود نے جب کیس میں معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کیا تو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ملک محمد اقبال نے عدالت کو بتایا کہ  اٹارنی جنرل کا عہدہ خالی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج نے وزیر قانون کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 2 ہفتوں کے اندر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے کہ اس عہدے پر ابھی تک کسی شخص کو تعینات کیوں نہیں کیا گیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں عدالت نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی)  کو احکامات کی تعمیل میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرفیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کا انتباہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں سابق ایڈیشنل آڈیٹر جنرل عرفان جہانگیر وٹو نے  دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن مقابلے کے امتحان (سی ایس ایس) اور دیگر امتحانات کے انعقاد کے لیے ’ہدایات‘ کے نام سے قواعدکی پیروی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان قواعد یا ہدایات کو  قانونی اعانت حاصل نہیں ہے کیونکہ اسے وفاقی حکومت نے کبھی منظور نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ویب سائٹ پر موجود  بی ایس-16 یا اس سے اوپر درجے کے عہدے پر نئی تقرریوں کے حوالے ہدایات کو چیلنج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق آڈیٹر جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے آرڈیننس 1977 کے قواعد نمبر 10 کے تحت کمیشن کے بجائے وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن شائع کرکے مقابلے کے امتحان اور سرکاری محکموں میں نئی بھرتیوں کے حوالے سے قوانین کا مسودہ تیار کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرفان جہانگیر وٹو نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات آرڈیننس کے قواعد نمبر 10 کے تحت نہیں آتیں، انہوں نے عدالت سے ان قوانین کو کیس سے الگ کرنے کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194281"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس طارق محمود نے عدالت کے حکم کے باوجود رپورٹ جمع نہ کروانے پرفیڈرل پبلک سروس کمیشن کے حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 اکتوبر 2022 کی سماعت کے دوران عدالت نے ایف پی ایس سی کو جواب دینے کے لیے 2 ہفتے کا وقت دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تین ماہ کا وقت گزرجانے کے بعد بھی فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے عدالت کے احکامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر (قانون) نے رپورٹ جمع کرانے کے لیے مزید 2 ہفتوں کا وقت مانگنے کی استدعا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو 2 ہفتوں کے اندر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر احکامات کی تعمیل نہ کی گئی تو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کو ذاتی طور پر پیش ہونے اور عدالت کے احکامات پر عمل میں تاخیر کی وجہ بتانے کے لیے طلب کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی پاکستان کے اٹارنی جنرل کی تعیناتی میں تاخیر کے حوالے سے وفاقی حکومت سے جواب  طلب کرلیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1733474/after-sc-high-court-reproaches-govt-over-law-officers-vacant-post">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ایک روز قبل سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستان کے اٹارنی جنرل کا عہدہ اکتوبر 2022 سے خالی ہونے پر  برہمی کا اظہار کیا گیا تھا تاہم ابھی تک اس اہم عہدے پر کسی شخص کو تعینات نہیں کیا گیا۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ کیا حکومت اتنی نااہل ہے کہ ایک اٹارنی جنرل نہیں لگاسکتی؟</p>
<p>تاہم اسلام آباد میں سماعت کے دوران  جسٹس طارق محمود جہانگیر  نے اٹارنی جنرل کی تعیناتی میں تاخیر کے حوالے سے وجوہات طلب کرلیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195242"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سماعت کے دوران سابق ایڈیشنل آڈیٹر جنرل عرفان جہانگیر وٹو کی  جانب سے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس طارق محمود  نے سماعت کی تھی۔</p>
<p>جسٹس طارق محمود نے جب کیس میں معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کیا تو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ملک محمد اقبال نے عدالت کو بتایا کہ  اٹارنی جنرل کا عہدہ خالی ہے۔</p>
<p>جج نے وزیر قانون کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 2 ہفتوں کے اندر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے کہ اس عہدے پر ابھی تک کسی شخص کو تعینات کیوں نہیں کیا گیا؟</p>
<p>قبل ازیں عدالت نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی)  کو احکامات کی تعمیل میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرفیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کا انتباہ دیا۔</p>
<p>عدالت میں سابق ایڈیشنل آڈیٹر جنرل عرفان جہانگیر وٹو نے  دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن مقابلے کے امتحان (سی ایس ایس) اور دیگر امتحانات کے انعقاد کے لیے ’ہدایات‘ کے نام سے قواعدکی پیروی کر رہا ہے۔</p>
<p>تاہم ان قواعد یا ہدایات کو  قانونی اعانت حاصل نہیں ہے کیونکہ اسے وفاقی حکومت نے کبھی منظور نہیں کیا۔</p>
<p>انہوں نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ویب سائٹ پر موجود  بی ایس-16 یا اس سے اوپر درجے کے عہدے پر نئی تقرریوں کے حوالے ہدایات کو چیلنج کیا۔</p>
<p>سابق آڈیٹر جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے آرڈیننس 1977 کے قواعد نمبر 10 کے تحت کمیشن کے بجائے وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن شائع کرکے مقابلے کے امتحان اور سرکاری محکموں میں نئی بھرتیوں کے حوالے سے قوانین کا مسودہ تیار کرے۔</p>
<p>عرفان جہانگیر وٹو نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات آرڈیننس کے قواعد نمبر 10 کے تحت نہیں آتیں، انہوں نے عدالت سے ان قوانین کو کیس سے الگ کرنے کی درخواست کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194281"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس طارق محمود نے عدالت کے حکم کے باوجود رپورٹ جمع نہ کروانے پرفیڈرل پبلک سروس کمیشن کے حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p>7 اکتوبر 2022 کی سماعت کے دوران عدالت نے ایف پی ایس سی کو جواب دینے کے لیے 2 ہفتے کا وقت دیا تھا۔</p>
<p>تاہم تین ماہ کا وقت گزرجانے کے بعد بھی فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے عدالت کے احکامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر (قانون) نے رپورٹ جمع کرانے کے لیے مزید 2 ہفتوں کا وقت مانگنے کی استدعا کی۔</p>
<p>جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو 2 ہفتوں کے اندر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر احکامات کی تعمیل نہ کی گئی تو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کو ذاتی طور پر پیش ہونے اور عدالت کے احکامات پر عمل میں تاخیر کی وجہ بتانے کے لیے طلب کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195996</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Jan 2023 10:15:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/25092145dc9d702.jpg?r=092200" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/25092145dc9d702.jpg?r=092200"/>
        <media:title>—فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
