<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 00:12:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 00:12:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقتدار میں واپس آئے تو آئی ایم ایف پر انحصار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، عمران خان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196080/</link>
      <description>&lt;p&gt;سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ مالی معاونت کے لیے پاکستان کا آئی ایم ایف سے رجوع نہ کرنا فوری طور پر ممکن نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’بلوم برگ‘ کو &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2023-01-24/imran-khan-confident-he-ll-win-pakistan-election-would-back-continued-imf-role#xj4y7vzkg"&gt;&lt;strong&gt;انٹرویو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اقتدار میں واپس آتی ہے تو اس کے پاس آئی ایم ایف کی مالی معاونت پر انحصار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان نے انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر ہم اقتدار میں واپس آئے تو ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہوگا، فوری فیصلے کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کے منصوبے میں آئی ایم ایف کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا شامل ہے؟ جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BloombergTV/status/1618008044251537409"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کی حریف موجودہ حکومت ستمبر 2022 سے زیر التوا جائزے کو مکمل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے جس کے بعد فنڈز جاری کیے جاسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس اقدام سے جڑی سخت شرائط آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہونے میں رکاوٹ کا سبب رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان شرائط میں بجلی کی سبسڈیز ختم کرنے، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے مطابق گیس کے نرخوں کو معقول بنانے، مارکیٹ کی جانب سے طے شدہ شرح تبادلہ اور ایل سی کھولنے پر پابندی کا خاتمہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابی سال میں داخل ہونے کے بعد حکمران اتحاد آئی ایم ایف کے مطالبات پر عمل درآمد میں محتاط ہے کیونکہ اس سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا جو پہلے ہی دسمبر میں 24.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194720"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جس نے مبینہ طور پر ملک میں معاشی بحران میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کو اقتدار میں واپس آنے کے بعد غیر معمولی پالیسیاں بنانا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کو درپیش دیوالیہ کے خدشے کے حوالے سے کہا کہ ہمیں سری لنکا جیسی صورتحال کا خدشہ ہے، اقتدار میں واپس آئے تو شوکت ترین کو دوبارہ وزیر خزانہ مقرر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی چیئرمین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ایک آزاد خارجہ پالیسی پر عمل کرے گی جو کسی ایک ملک (امریکا یا چین) پر انحصار نہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی حکومت کے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بہترین تعلقات تھے لیکن جو بائیڈن کے منتخب ہونے کے بعد ان تعلقات کو دھچکا لگا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جب جو بائیڈن اقتدار میں آئے تو میں نے کسی وجہ سے ان کی جانب سے ہچکچاہٹ محسوس کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے مطابق پاک ۔ امریکا تعلقات اس لیے خراب ہوئے کیونکہ امریکا کو افغانستان سے انخلا کا الزام عائد کرنے کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے اختلافات پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’پوری سیاسی اشرافیہ میرے خلاف ہے، اس وقت مجھے ڈر ہے کہ میرے دشمن طاقتور ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193759"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے اگلے عام انتخابات میں دھاندلی کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بخوبی جانتے ہیں کہ رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی) کا ذمہ دار کون تھا جس نے گزشتہ برس پی ٹی آئی کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ مالی معاونت کے لیے پاکستان کا آئی ایم ایف سے رجوع نہ کرنا فوری طور پر ممکن نہیں ہے۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’بلوم برگ‘ کو <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2023-01-24/imran-khan-confident-he-ll-win-pakistan-election-would-back-continued-imf-role#xj4y7vzkg"><strong>انٹرویو</strong></a> دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اقتدار میں واپس آتی ہے تو اس کے پاس آئی ایم ایف کی مالی معاونت پر انحصار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔</p>
<p>عمران خان نے انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر ہم اقتدار میں واپس آئے تو ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہوگا، فوری فیصلے کرنا ہوں گے۔</p>
<p>چیئرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کے منصوبے میں آئی ایم ایف کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا شامل ہے؟ جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BloombergTV/status/1618008044251537409"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>پی ٹی آئی کی حریف موجودہ حکومت ستمبر 2022 سے زیر التوا جائزے کو مکمل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے جس کے بعد فنڈز جاری کیے جاسکیں گے۔</p>
<p>تاہم اس اقدام سے جڑی سخت شرائط آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہونے میں رکاوٹ کا سبب رہی ہیں۔</p>
<p>ان شرائط میں بجلی کی سبسڈیز ختم کرنے، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے مطابق گیس کے نرخوں کو معقول بنانے، مارکیٹ کی جانب سے طے شدہ شرح تبادلہ اور ایل سی کھولنے پر پابندی کا خاتمہ شامل ہے۔</p>
<p>انتخابی سال میں داخل ہونے کے بعد حکمران اتحاد آئی ایم ایف کے مطالبات پر عمل درآمد میں محتاط ہے کیونکہ اس سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا جو پہلے ہی دسمبر میں 24.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194720"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جس نے مبینہ طور پر ملک میں معاشی بحران میں اضافہ کیا۔</p>
<p>بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کو اقتدار میں واپس آنے کے بعد غیر معمولی پالیسیاں بنانا ہوں گی۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کو درپیش دیوالیہ کے خدشے کے حوالے سے کہا کہ ہمیں سری لنکا جیسی صورتحال کا خدشہ ہے، اقتدار میں واپس آئے تو شوکت ترین کو دوبارہ وزیر خزانہ مقرر کریں گے۔</p>
<p>پی ٹی آئی چیئرمین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ایک آزاد خارجہ پالیسی پر عمل کرے گی جو کسی ایک ملک (امریکا یا چین) پر انحصار نہ کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی حکومت کے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بہترین تعلقات تھے لیکن جو بائیڈن کے منتخب ہونے کے بعد ان تعلقات کو دھچکا لگا‘۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جب جو بائیڈن اقتدار میں آئے تو میں نے کسی وجہ سے ان کی جانب سے ہچکچاہٹ محسوس کی۔</p>
<p>عمران خان کے مطابق پاک ۔ امریکا تعلقات اس لیے خراب ہوئے کیونکہ امریکا کو افغانستان سے انخلا کا الزام عائد کرنے کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔</p>
<p>ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے اختلافات پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’پوری سیاسی اشرافیہ میرے خلاف ہے، اس وقت مجھے ڈر ہے کہ میرے دشمن طاقتور ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193759"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے اگلے عام انتخابات میں دھاندلی کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بخوبی جانتے ہیں کہ رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی) کا ذمہ دار کون تھا جس نے گزشتہ برس پی ٹی آئی کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196080</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Jan 2023 16:53:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/2614242988184b7.png" type="image/png" medium="image" height="479" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/2614242988184b7.png"/>
        <media:title>عمران نے کہا کہ اگر ہم اقتدار میں واپس آئے تو ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہوگا — فائل فوٹو: ٹوئٹر/پی ٹی آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
