<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:39:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:39:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: اردو بولنے پر بچے کے منہ پر سیاہی لگانے کا واقعہ، تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196214/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت سندھ کے محکمہ تعلیم نے کراچی کے نجی اسکول میں بچے کو اردو بولنے پر بطور سزا منہ پر سیاہ نشان لگانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بچے کے والد نے دعویٰ کیا کہ ان کا بیٹا نارتھ ناظم آباد کے بلاک جے میں واقع ’سویلائزیشن‘ نامی اسکول میں پڑھتا ہے اور آج انہوں نے اردو بولنے پر میرے بچے کے منہ پر کالک لگائی اور سب بچوں کو کھڑا کر کے بولا کہ اس پر ہنسو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں نے مذکورہ معاملے پر اسکول کی انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کسی قسم کی کارروائی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184360"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ اب یہ میرے بچے کو اسکول سے فارغ کریں گے جس کے لیے میں تیار ہوں لیکن بچے کی عزت نفس داؤ پر لگا کر میں اسے یہاں نہیں پڑھا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر انہوں نے ویڈیو میں بچے کو بھی دکھایا جس کے چہرے پر  کالا نشان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ تعلیم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i_m_nbc/status/1619356061731024896"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے بلاک جے میں ’سویلائزیشن اسکول‘ میں اردو زبان بولنے پر بچے کو سزا دینے اور اس کی تضحیک کرنے کی ویڈیو اور خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹیٹیوشن کے رول18 کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کی سربراہی چیئرمین محمد افضل کریں گے جبکہ اس کے علاوہ کمیٹی میں چار سینئر ارکان شامل ہیں جو اسکول کا دورہ کریں گے اور انتظامیہ، ٹیچرز اور بچے کے والدین کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد تین دن کے اندر رپورٹ پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت سندھ کے محکمہ تعلیم نے کراچی کے نجی اسکول میں بچے کو اردو بولنے پر بطور سزا منہ پر سیاہ نشان لگانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بچے کے والد نے دعویٰ کیا کہ ان کا بیٹا نارتھ ناظم آباد کے بلاک جے میں واقع ’سویلائزیشن‘ نامی اسکول میں پڑھتا ہے اور آج انہوں نے اردو بولنے پر میرے بچے کے منہ پر کالک لگائی اور سب بچوں کو کھڑا کر کے بولا کہ اس پر ہنسو۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں نے مذکورہ معاملے پر اسکول کی انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کسی قسم کی کارروائی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184360"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ اب یہ میرے بچے کو اسکول سے فارغ کریں گے جس کے لیے میں تیار ہوں لیکن بچے کی عزت نفس داؤ پر لگا کر میں اسے یہاں نہیں پڑھا سکتا۔</p>
<p>اس موقع پر انہوں نے ویڈیو میں بچے کو بھی دکھایا جس کے چہرے پر  کالا نشان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ تعلیم نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i_m_nbc/status/1619356061731024896"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے بلاک جے میں ’سویلائزیشن اسکول‘ میں اردو زبان بولنے پر بچے کو سزا دینے اور اس کی تضحیک کرنے کی ویڈیو اور خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹیٹیوشن کے رول18 کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔</p>
<p>کمیٹی کی سربراہی چیئرمین محمد افضل کریں گے جبکہ اس کے علاوہ کمیٹی میں چار سینئر ارکان شامل ہیں جو اسکول کا دورہ کریں گے اور انتظامیہ، ٹیچرز اور بچے کے والدین کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد تین دن کے اندر رپورٹ پیش کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196214</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Jan 2023 23:46:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکامتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/28231416572ff40.png?r=231457" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/28231416572ff40.png?r=231457"/>
        <media:title>محکمہ تعلیم کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی تین دن میں معاملے پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی— فوٹو: اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
