<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 14:07:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 14:07:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طالبان نے یونیورسٹیوں کے داخلہ ٹیسٹ میں خواتین کی شرکت پر پابندی عائد کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196233/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کی پالیسی پر زور دیتے ہوئے طالبان کے زیرانتظام اعلیٰ تعلیم کی وزارت نے افغانستان میں نجی یونیورسٹیوں کو حکم دیا ہے کہ آئندہ ماہ طالبات کو داخلہ کے امتحانات دینے کی اجازت نہ دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبررساں ادارے کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1734201/taliban-bar-female-students-from-varsity-entrance-exams"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق وزارت کی جانب سے افغانستان کے تعلیمی اداروں کو خط جاری کیا گیا جہاں کابل سمیت شمالی صوبوں میں اگلے ماہ کے آخر میں داخلہ امتحانات ہونے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں تعلیمی اداروں کے خلاف  قانونی کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ دسمبر 2022 میں وزارت اعلیٰ تعلیم نے جامعات کو کہا تھا کہ طالبان حکومت کے اگلے حکم نامے تک طالبات کو جامعہ میں آنے کی اجازت نہ دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191828"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیان کے کچھ روز بعد انتظامیہ نے فلاحی اداروں کی بیشتر خواتین کا کام کرنے سے روک دیا تھا، متعدد لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیمی اسکولوں کو بھی حکام کی جانب سے بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین پر کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے پر پابندی کے بعد عالمی برادری نے شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی سفارت کاروں نے اشارہ دیا ہے کہ طالبان کو خواتین کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان کو عالمی معاشی تنہائی کو کم کرنے کا موقع ملے اور عالمی برادری بھی ملک کو تسلیم کرسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کی پالیسی پر زور دیتے ہوئے طالبان کے زیرانتظام اعلیٰ تعلیم کی وزارت نے افغانستان میں نجی یونیورسٹیوں کو حکم دیا ہے کہ آئندہ ماہ طالبات کو داخلہ کے امتحانات دینے کی اجازت نہ دی جائے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبررساں ادارے کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1734201/taliban-bar-female-students-from-varsity-entrance-exams">رپورٹ</a></strong> کے مطابق وزارت کی جانب سے افغانستان کے تعلیمی اداروں کو خط جاری کیا گیا جہاں کابل سمیت شمالی صوبوں میں اگلے ماہ کے آخر میں داخلہ امتحانات ہونے والے ہیں۔</p>
<p>خط میں کہا گیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں تعلیمی اداروں کے خلاف  قانونی کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>یاد رہے کہ دسمبر 2022 میں وزارت اعلیٰ تعلیم نے جامعات کو کہا تھا کہ طالبان حکومت کے اگلے حکم نامے تک طالبات کو جامعہ میں آنے کی اجازت نہ دی جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191828"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس بیان کے کچھ روز بعد انتظامیہ نے فلاحی اداروں کی بیشتر خواتین کا کام کرنے سے روک دیا تھا، متعدد لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیمی اسکولوں کو بھی حکام کی جانب سے بند کردیا گیا تھا۔</p>
<p>خواتین پر کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے پر پابندی کے بعد عالمی برادری نے شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔</p>
<p>مغربی سفارت کاروں نے اشارہ دیا ہے کہ طالبان کو خواتین کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان کو عالمی معاشی تنہائی کو کم کرنے کا موقع ملے اور عالمی برادری بھی ملک کو تسلیم کرسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196233</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Jan 2023 14:24:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/2912033443a3a30.png?r=120836" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/2912033443a3a30.png?r=120836"/>
        <media:title>خط میں کہا گیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں تعلیمی اداروں کے خلاف  قانونی کارروائی کی جائے گی—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
