<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:24:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:24:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خواتین کیلئے ملازمتوں کے مواقع: دنیا کی تیز رفتار ٹرین چلانے والی سعودی خواتین</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196275/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کی تیز رفتار ٹرینوں میں سے ایک ’حرمین ٹرین‘ میں خواتین کی شمولیت اور دیگر شعبوں میں خواتین کی نمایاں ترقی سے سعودی عرب کی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب سال 2016 کے مقابلے دُگنے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبررساں ادارے کی  &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1734331/women-drive-fast-train-to-makkah-as-saudi-workforce-evolves"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  ہائی اسپیڈ ٹرین چلانے والی پہلی سعودی خاتون ڈرائیور تارا علی نے عازمین کو مدینہ سے مکہ تک کا سفر طے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی خواتین کو سنہ 2018 سے گاڑی کی اجازت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;25 سالہ تارا علی گزشتہ سال حرمین ہائی ریلوے میں خواتین ڈرائیور کے لیے مختص 32 سیٹوں کے لیے درخواست دینے والی 28 ہزار درخواست گزاروں میں سے ایک تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی تیز رفتار ٹرین مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے درمیان 450 کلو میٹر راستہ 300 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار میں طے کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگریزی کی سابقہ استاد تارا علی اُن چند خوش نصیب خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ ماہ اپنا پہلا سفر مکمل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تارا علی نے بتایا کہ ’جب میں اپنے کام کے پہلے دن آئی اور پہلی بار ٹرین کے کیبن میں داخل ہوئی تو یہ میرے لیے خواب جیسا تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جب آپ کیبن میں ہوتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ چیزیں بہت تیز رفتاری سے آپ کی طرف بڑھ رہی ہیں، کام کے ابتدائی دنوں میں اُس وقت خوف اور ڈر محسوس ہوگیا تھا لیکن خدا کا شکر ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اور سخت تربیت کی وجہ سے مجھ میں خود اعتمادی آئی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 37 فیصد ہوچکا ہے جو 2016 کے بعد سے دُگنے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعدادوشمار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مملکت میں ان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنے دور میں خواتین کے حقوق کی بحالی اور فروغ کے لیے اقدامات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعدادوشمار کے باوجود سعودی خواتین میں بے روزگاری زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے، گزشتہ سال سعودی مردوں میں روزگار کا تناسب 4.3 فیصد تھا اس کے مقابلے سعودی خواتین کے روزگارکا تناسب 20.5 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/30122455869a764.png'  alt='سعودی عرب میں خواتین کے لیے سماجی رویوں میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں&amp;mdash;فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سعودی عرب میں خواتین کے لیے سماجی رویوں میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سعودی-خواتین-کیلئے-ملازمتوں-کے-مواقع" href="#سعودی-خواتین-کیلئے-ملازمتوں-کے-مواقع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سعودی خواتین کیلئے ملازمتوں کے مواقع&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;چند سعودی خواتین نے روایتی طور پر تعلیم اور طِبی شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حالیہ برسوں میں کام کی جگہ پر صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خلاف قوانین اور ڈیرس کوڈ کی پابندیوں  میں نرمی سے متعلق متعارف کرائے گئے قوانین کے تحت خواتین کی ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں ویٹر، شیف،  ہوٹل ریسپشنسٹ جیسیی نئی ملازمتیں شامل ہیں، قابل ازیں یہ ملازمتیں دیگر ممالک میں زیادہ عام تھیں لیکن سعودی حکومت کے ’سعودائزیشن‘ ایجنڈے کے تحت خواتین ایک بار پھر معاشرے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب میں حال ہی میں خواتین کے لیے سماجی رویوں کے حوالے سے بھی تبدیلیاں آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ملازمت اختیار کرنے والی رنیم عزور کاکہنا ہے کہ مدینہ کے سفر کے اختتام پر ایک خاتون مسافر کو یقین نہیں آرہا تھا کہ خواتین ایسا بھی کام کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب میں نے نوکری کا اشتہار دیکھا تو میں اس کے بالکل خلاف تھی، میری اس وقت رائے تھی کہ اگر میری بیٹی بھی مجھے ڈارئیو کے لیے لے جائے گی تو میں اس ساتھ گاڑی میں سوار نہیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی ریلوے کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر ریان الحربی نے بتایا کہ خواتین ڈرائیورز اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے تربیت کے دوران اپنی قابلیت ثابت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خواتین-کی-ملازمت-کرنے-پر-تنقید" href="#خواتین-کی-ملازمت-کرنے-پر-تنقید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خواتین کی ملازمت کرنے پر تنقید&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں جدہ ایئرپورٹ پر تیز رفتار ٹرین کے سرکاری ملازم محمد عیسیٰ نے کہا کہ خواتین کو گھریلو کام کاج پر توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1097765"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اگر ایک عورت خود کو صرف گھر تک محدود رکھے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کامیاب خاندان تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مؤقف تھا کہ ’اگر عورت گھر میں رہنے کے بجائے باہر جاکر کام کرے گی تو گھر میں اس کا کردار کون ادا کرے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں عرب خلیجی ریاستوں کے انسٹی ٹیوٹ کی سوسن سیکالی نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سعودی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مردوں کی جانب سے تبصرہ کیا گیا تھا کہ اب خواتین مردوں کی ملازمتوں میں حصہ لے رہی ہیں لیکن اس طرح کے بیانات انتہائی کم تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ فیلو نجاح الطائیبی نے کہا کہ ’ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ ملک کی پوری آبادی حکومتی پالیسی کی حمایت کرے‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کی تیز رفتار ٹرینوں میں سے ایک ’حرمین ٹرین‘ میں خواتین کی شمولیت اور دیگر شعبوں میں خواتین کی نمایاں ترقی سے سعودی عرب کی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب سال 2016 کے مقابلے دُگنے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبررساں ادارے کی  <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1734331/women-drive-fast-train-to-makkah-as-saudi-workforce-evolves">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  ہائی اسپیڈ ٹرین چلانے والی پہلی سعودی خاتون ڈرائیور تارا علی نے عازمین کو مدینہ سے مکہ تک کا سفر طے کیا۔</p>
<p>سعودی خواتین کو سنہ 2018 سے گاڑی کی اجازت دی گئی تھی۔</p>
<p>25 سالہ تارا علی گزشتہ سال حرمین ہائی ریلوے میں خواتین ڈرائیور کے لیے مختص 32 سیٹوں کے لیے درخواست دینے والی 28 ہزار درخواست گزاروں میں سے ایک تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سعودی عرب کی تیز رفتار ٹرین مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے درمیان 450 کلو میٹر راستہ 300 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار میں طے کرتی ہے۔</p>
<p>انگریزی کی سابقہ استاد تارا علی اُن چند خوش نصیب خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ ماہ اپنا پہلا سفر مکمل کیا۔</p>
<p>تارا علی نے بتایا کہ ’جب میں اپنے کام کے پہلے دن آئی اور پہلی بار ٹرین کے کیبن میں داخل ہوئی تو یہ میرے لیے خواب جیسا تھا‘۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جب آپ کیبن میں ہوتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ چیزیں بہت تیز رفتاری سے آپ کی طرف بڑھ رہی ہیں، کام کے ابتدائی دنوں میں اُس وقت خوف اور ڈر محسوس ہوگیا تھا لیکن خدا کا شکر ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اور سخت تربیت کی وجہ سے مجھ میں خود اعتمادی آئی‘۔</p>
<p>سعودی عرب کی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 37 فیصد ہوچکا ہے جو 2016 کے بعد سے دُگنے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔</p>
<p>یہ اعدادوشمار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مملکت میں ان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنے دور میں خواتین کے حقوق کی بحالی اور فروغ کے لیے اقدامات کیے۔</p>
<p>ان اعدادوشمار کے باوجود سعودی خواتین میں بے روزگاری زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے، گزشتہ سال سعودی مردوں میں روزگار کا تناسب 4.3 فیصد تھا اس کے مقابلے سعودی خواتین کے روزگارکا تناسب 20.5 فیصد تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/01/30122455869a764.png'  alt='سعودی عرب میں خواتین کے لیے سماجی رویوں میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں&mdash;فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سعودی عرب میں خواتین کے لیے سماجی رویوں میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں—فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="سعودی-خواتین-کیلئے-ملازمتوں-کے-مواقع" href="#سعودی-خواتین-کیلئے-ملازمتوں-کے-مواقع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سعودی خواتین کیلئے ملازمتوں کے مواقع</h3>
<p>چند سعودی خواتین نے روایتی طور پر تعلیم اور طِبی شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔</p>
<p>تاہم حالیہ برسوں میں کام کی جگہ پر صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خلاف قوانین اور ڈیرس کوڈ کی پابندیوں  میں نرمی سے متعلق متعارف کرائے گئے قوانین کے تحت خواتین کی ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188146"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان میں ویٹر، شیف،  ہوٹل ریسپشنسٹ جیسیی نئی ملازمتیں شامل ہیں، قابل ازیں یہ ملازمتیں دیگر ممالک میں زیادہ عام تھیں لیکن سعودی حکومت کے ’سعودائزیشن‘ ایجنڈے کے تحت خواتین ایک بار پھر معاشرے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب میں حال ہی میں خواتین کے لیے سماجی رویوں کے حوالے سے بھی تبدیلیاں آرہی ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں ملازمت اختیار کرنے والی رنیم عزور کاکہنا ہے کہ مدینہ کے سفر کے اختتام پر ایک خاتون مسافر کو یقین نہیں آرہا تھا کہ خواتین ایسا بھی کام کرسکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب میں نے نوکری کا اشتہار دیکھا تو میں اس کے بالکل خلاف تھی، میری اس وقت رائے تھی کہ اگر میری بیٹی بھی مجھے ڈارئیو کے لیے لے جائے گی تو میں اس ساتھ گاڑی میں سوار نہیں ہوں گی۔</p>
<p>سعودی ریلوے کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر ریان الحربی نے بتایا کہ خواتین ڈرائیورز اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے تربیت کے دوران اپنی قابلیت ثابت کی ہے۔</p>
<h3><a id="خواتین-کی-ملازمت-کرنے-پر-تنقید" href="#خواتین-کی-ملازمت-کرنے-پر-تنقید" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خواتین کی ملازمت کرنے پر تنقید</h3>
<p>حال ہی میں جدہ ایئرپورٹ پر تیز رفتار ٹرین کے سرکاری ملازم محمد عیسیٰ نے کہا کہ خواتین کو گھریلو کام کاج پر توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1097765"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اگر ایک عورت خود کو صرف گھر تک محدود رکھے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کامیاب خاندان تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ان کا مؤقف تھا کہ ’اگر عورت گھر میں رہنے کے بجائے باہر جاکر کام کرے گی تو گھر میں اس کا کردار کون ادا کرے گا؟</p>
<p>واشنگٹن میں عرب خلیجی ریاستوں کے انسٹی ٹیوٹ کی سوسن سیکالی نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سعودی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مردوں کی جانب سے تبصرہ کیا گیا تھا کہ اب خواتین مردوں کی ملازمتوں میں حصہ لے رہی ہیں لیکن اس طرح کے بیانات انتہائی کم تھے۔</p>
<p>کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ فیلو نجاح الطائیبی نے کہا کہ ’ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ ملک کی پوری آبادی حکومتی پالیسی کی حمایت کرے‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196275</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Jan 2023 12:31:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/30121502c61f299.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/30121502c61f299.png"/>
        <media:title>سعودی خواتین کو سنہ 2018 سے گاڑی کی اجازت دی گئی تھی— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
