<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:39:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:39:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا اب بھی عالمی ایمرجنسی مگر خاتمہ قریب ہے، عالمی ادارہ صحت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196298/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ تین سال گزر جانے کے باوجود  کورونا اب بھی عالمی ایمرجنسی ہے مگر رواں سال کے اختتام تک اس کے ایمرجنسی خاتمے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں کورونا کے کم ہوتے کیسز کے پیش نظر حال ہی میں عالمی ادارہ صحت نے اس کے ہنگامی حالات کو برقرار رکھنے یا نہ رکھنے سے متعلق اہم اجلاس بلایا، جس میں صورتحال کی سنگینی کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورونا کا آغاز دسمبر 2019 میں چین سے ہوا تھا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے جنوری 2020 میں کورونا کو ’گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1124376"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وبا میں تیزی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے کورونا کو مارچ 2020 میں عالمی وبا قرار دیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں اس سے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے گئے، لاک ڈاؤن نافذ کیے گئے، سفری پابندیاں عائد کی گئیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے پر مجبور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین سال سے تاحال دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا سے تحفظ کے لیے لاک ڈاؤن سمیت دیگر بعض پابندیاں نافذ ہیں مگر دنیا بھر کے لوگوں کا خیال ہے کہ اب کورونا ختم ہوچکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ کورونا اب بھی عالمی ایمرجنسی ہے مگر اس میں ماضی کے مقابلے بہت تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں اور انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک کورونا عالمی ایمرجنسی نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/covid-remains-public-health-emergency-says-who-2023-01-30/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اب بھی کورونا عالمی ایمرجنسی ہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق کورونا اس وقت تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے، جس وجہ سے اس پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ مزید نہ پھیلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق کورونا پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر میں اٹھائے گئے اقدامات اور اس سے بچاؤ کی ویکسینز کی فراہمی کے بعد اس میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور اس کی حالیہ تبدیلیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک کورونا عالمی ایمرجنسی نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے واضح کیا کہ کورونا کے عالمی ایمرجنسی رہنے یا نہ رہنے سے متعلق فوری طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا، تاہم اس وقت اسے پھیلنے سے روکنا اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا سے متعلق حالیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ چین سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا کی قسم اومیکرون کی مزید نئی قسمیں سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کورونا سب سے زیادہ چین میں پھیل رہا ہے جب کہ امریکا میں حالیہ کچھ ہفتوں میں وہاں کورونا کی قسم اومیکرون کی نئی قسم کے پھیلنے میں تیزی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورونا سے اس وقت دنیا بھر میں 70 لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تک جا پہنچی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ تین سال گزر جانے کے باوجود  کورونا اب بھی عالمی ایمرجنسی ہے مگر رواں سال کے اختتام تک اس کے ایمرجنسی خاتمے کا امکان ہے۔</p>
<p>دنیا بھر میں کورونا کے کم ہوتے کیسز کے پیش نظر حال ہی میں عالمی ادارہ صحت نے اس کے ہنگامی حالات کو برقرار رکھنے یا نہ رکھنے سے متعلق اہم اجلاس بلایا، جس میں صورتحال کی سنگینی کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>کورونا کا آغاز دسمبر 2019 میں چین سے ہوا تھا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے جنوری 2020 میں کورونا کو ’گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ قرار دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1124376"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعد ازاں وبا میں تیزی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے کورونا کو مارچ 2020 میں عالمی وبا قرار دیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں اس سے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے گئے، لاک ڈاؤن نافذ کیے گئے، سفری پابندیاں عائد کی گئیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے پر مجبور کیا گیا۔</p>
<p>گزشتہ تین سال سے تاحال دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا سے تحفظ کے لیے لاک ڈاؤن سمیت دیگر بعض پابندیاں نافذ ہیں مگر دنیا بھر کے لوگوں کا خیال ہے کہ اب کورونا ختم ہوچکا۔</p>
<p>تاہم اب عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ کورونا اب بھی عالمی ایمرجنسی ہے مگر اس میں ماضی کے مقابلے بہت تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں اور انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک کورونا عالمی ایمرجنسی نہیں رہے گا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/covid-remains-public-health-emergency-says-who-2023-01-30/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اب بھی کورونا عالمی ایمرجنسی ہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ادارے کے مطابق کورونا اس وقت تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے، جس وجہ سے اس پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ یہ مزید نہ پھیلے۔</p>
<p>حکام کے مطابق کورونا پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر میں اٹھائے گئے اقدامات اور اس سے بچاؤ کی ویکسینز کی فراہمی کے بعد اس میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور اس کی حالیہ تبدیلیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک کورونا عالمی ایمرجنسی نہیں رہے گا۔</p>
<p>ادارے نے واضح کیا کہ کورونا کے عالمی ایمرجنسی رہنے یا نہ رہنے سے متعلق فوری طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا، تاہم اس وقت اسے پھیلنے سے روکنا اہم ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا سے متعلق حالیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ چین سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا کی قسم اومیکرون کی مزید نئی قسمیں سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>اس وقت کورونا سب سے زیادہ چین میں پھیل رہا ہے جب کہ امریکا میں حالیہ کچھ ہفتوں میں وہاں کورونا کی قسم اومیکرون کی نئی قسم کے پھیلنے میں تیزی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>کورونا سے اس وقت دنیا بھر میں 70 لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تک جا پہنچی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196298</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Jan 2023 12:23:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/301931492b62dc6.jpg?r=193245" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/301931492b62dc6.jpg?r=193245"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
