<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 05:17:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 05:17:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش: ریاست مخالف خبریں شائع کرنے کے الزام پر 191 نیوز ویب سائٹس بلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196373/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی حکومت نے 191 ویب سائٹس کو ریاست مخالف خبریں شائع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے جس سے بنگلہ دیش میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1734736/bangladesh-orders-191-anti-state-news-sites-blocked"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزیر اطلاعات حسن محمود نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ حکومت نے ٹیلی کام ریگولیٹر کو ہدایت جاری کردی ہے کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق مذکورہ ویب سائٹس کے ڈومینز بند کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ان نیوز ویب سائٹس کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ ویب سائٹس ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو عوام کے ذہنوں میں الجھن پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے خود پر تنقید کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کی کوششوں پر سماجی حقوق کی تنظیموں اور امریکا سمیت غیر ملکی حکومتیں طویل عرصے سے تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کا سخت گیر قانون ’ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ‘ سب سے زیادہ تشویش کا باعث بنا جس کے تحت 2018 کے بعد سے اب تک سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آرٹیکل 19 ساؤتھ ایشیا‘ کے علاقائی ڈائریکٹر فاروق فیصل نے کہا کہ ’انٹرنیٹ کی ترویج کا رخ حکومت کو طے نہیں کرنا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نیوز ویب سائٹس کو بلاک کرنے سے ملک میں آزادی اظہار رائے کا حق پامال ہوگا اور غلط اور جھوٹی معلومات کا بآاسانی پھیلاؤ ممکن ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اسٹیفن دوجارک نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے حق کا تحفظ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نیویارک میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ صحافیوں کو اپنی نیوز ویب سائٹس آزادانہ اور بلا روک ٹوک چلانے کا حق حاصل ہے، ہم اس سمت میں مثبت پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز  2022 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس نے بنگلہ دیش کو 162 ویں نمبر پر رکھا جو روس (155) اور افغانستان (156) کی درجہ بندی سے بھی بدتر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش کی حکومت نے 191 ویب سائٹس کو ریاست مخالف خبریں شائع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے جس سے بنگلہ دیش میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1734736/bangladesh-orders-191-anti-state-news-sites-blocked"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزیر اطلاعات حسن محمود نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ حکومت نے ٹیلی کام ریگولیٹر کو ہدایت جاری کردی ہے کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق مذکورہ ویب سائٹس کے ڈومینز بند کر دیں۔</p>
<p>انہوں نے ان نیوز ویب سائٹس کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ ویب سائٹس ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو عوام کے ذہنوں میں الجھن پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے خود پر تنقید کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کی کوششوں پر سماجی حقوق کی تنظیموں اور امریکا سمیت غیر ملکی حکومتیں طویل عرصے سے تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196341"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بنگلہ دیش کا سخت گیر قانون ’ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ‘ سب سے زیادہ تشویش کا باعث بنا جس کے تحت 2018 کے بعد سے اب تک سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>’آرٹیکل 19 ساؤتھ ایشیا‘ کے علاقائی ڈائریکٹر فاروق فیصل نے کہا کہ ’انٹرنیٹ کی ترویج کا رخ حکومت کو طے نہیں کرنا چاہیے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نیوز ویب سائٹس کو بلاک کرنے سے ملک میں آزادی اظہار رائے کا حق پامال ہوگا اور غلط اور جھوٹی معلومات کا بآاسانی پھیلاؤ ممکن ہوجائے گا۔</p>
<p>ترجمان سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اسٹیفن دوجارک نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے حق کا تحفظ ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے نیویارک میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ صحافیوں کو اپنی نیوز ویب سائٹس آزادانہ اور بلا روک ٹوک چلانے کا حق حاصل ہے، ہم اس سمت میں مثبت پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز  2022 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس نے بنگلہ دیش کو 162 ویں نمبر پر رکھا جو روس (155) اور افغانستان (156) کی درجہ بندی سے بھی بدتر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196373</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Feb 2023 12:00:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/011122268830542.jpg?r=112547" type="image/jpeg" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/011122268830542.jpg?r=112547"/>
        <media:title>ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت بنگلہ دیش میں سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
