<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:20:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:20:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نوازالدین صدیقی بستر اور باتھ روم تک استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے، اہلیہ کا الزام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196395/</link>
      <description>&lt;p&gt;بولی وڈ اداکار نوازالدین صدیقی کی اہلیہ نے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انہیں کھانا، بستر اور حتیٰ کہ باتھ روم تک استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/entertainment/bollywood/nawazuddin-siddiqui-his-family-ensured-no-food-bathroom-is-given-to-my-client-claims-actor-s-wife-aaliya-s-advocate-101675177877674.html"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق عالیہ صدیقی نے اپنے  وکیل رضوان صدیقی کے ذریعے بیان میں کہا کہ ’نوازالدین صدیقی  اور ان کے اہل خانہ نے میری مؤکلہ عالیہ صدیقی کو گھر سے بے دخل کرنے کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، مؤکلہ کے خلاف جائیداد کے تنازع  پر شکایت درج کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے ذریعے عالیہ صدیقی کو گرفتار کرنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں اور ہر ایک دن پولیس اسٹیشن بلایا جارہا ہے،۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کے رویے اور پولیس محکمے کی ناکامی کو ان سے منسوب نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پولیس افسران کے سامنے میری مؤکلہ عالیہ صدیقی کی توہین کی گئی لیکن کوئی بھی پولیس افسر میری مؤکلہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1074813"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نہ صرف ان کے شوہر نواز الدین صدیقی کے ساتھ تعلق پر سوال اٹھایا گیا بلکہ ان کے چھوٹے بیٹے کی قانونی حیثیت سے متعلق بھی پولیس افسران کے سامنے سوال اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے کہا کہ تعزیراتِ انڈیا کی دفعہ 509 کے تحت میری مؤکلہ کی جانب سے درج ہونے والی شکایت پر پولیس افسر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے کہا کہ نواز الدین صدیقی اور ان کے اہل خانہ نے میری موکلہ کو گزشتہ 7 روز کے دوران کھانا، سونے کے لیے بستر اور نہانے کے لیے باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میری مؤکلہ کے اردگرد باڈی گارڈ تعینات کردیے  گئے ہیں، جس جگہ میری مؤکلہ اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مقیم ہیں وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سب کے باوجود نواز الدین صدیقی اور ان کے اہل خانہ نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح عدالت میں کیس درج کرنے کے لیے میں مؤکلہ کا دستخط حاصل نہ کرسکوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کاکہنا تھا کہ ان تمام دھمکیوں اور پولیس افسران کی مدد نہ کرنے کے باوجود میں نے اور میری ٹیم نے عدالت میں درخواست دائر کرنے کے لیے مؤکلہ کےدستخط حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1087253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ  نواز الدین صدیقی کی والدہ کی جانب سے بہو کے خلاف جائیداد کے تنازع پر مقدمہ درج کرنے کے بعد عالیہ صدیقی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں سسرال والوں جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل عالیہ صدیقی اپنے شوہر نواز الدین صدیقی سے خلع لینے کے لیے عدالت سے &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://https://www.dawnnews.tv/news/1131609"&gt;رجوع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کرچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074813"&gt;2018 میں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; نوازالدین صدیقی پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر نجی جاسوسوں سے اپنی اہلیہ کا فون ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ نوازالدین صدیقی اور عالیہ کی شادی کو 10 سال کا عرصہ ہوچکا ہے اور ان کے دو بچے بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2017 میں یہ افواہیں سامنے آئی تھیں کہ ان دونوں کے تعلقات خراب ہورہے ہیں جبکہ ان کی طلاق بھی ہورہی ہے تاہم دونوں نے ہی ان خبروں کو بے بنیاد ٹھہرایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالیہ صدیقی نے اے بی پی نیوز کو اس حوالے سے بتایا کہ ’مجھے نواز سے ایک نہیں بلکہ کئی مسائل ہیں اور وہ سب خاصے سنگین ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالیہ صدیقی کے مطابق ان کے تعلقات شادی کے ایک سال بعد 2010 سے ہی خراب ہونا شروع ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بولی وڈ اداکار نوازالدین صدیقی کی اہلیہ نے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انہیں کھانا، بستر اور حتیٰ کہ باتھ روم تک استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتے۔</p>
<p>بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/entertainment/bollywood/nawazuddin-siddiqui-his-family-ensured-no-food-bathroom-is-given-to-my-client-claims-actor-s-wife-aaliya-s-advocate-101675177877674.html">رپورٹ</a></strong> کے مطابق عالیہ صدیقی نے اپنے  وکیل رضوان صدیقی کے ذریعے بیان میں کہا کہ ’نوازالدین صدیقی  اور ان کے اہل خانہ نے میری مؤکلہ عالیہ صدیقی کو گھر سے بے دخل کرنے کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، مؤکلہ کے خلاف جائیداد کے تنازع  پر شکایت درج کی گئی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے ذریعے عالیہ صدیقی کو گرفتار کرنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں اور ہر ایک دن پولیس اسٹیشن بلایا جارہا ہے،۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کے رویے اور پولیس محکمے کی ناکامی کو ان سے منسوب نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پولیس افسران کے سامنے میری مؤکلہ عالیہ صدیقی کی توہین کی گئی لیکن کوئی بھی پولیس افسر میری مؤکلہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1074813"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ نہ صرف ان کے شوہر نواز الدین صدیقی کے ساتھ تعلق پر سوال اٹھایا گیا بلکہ ان کے چھوٹے بیٹے کی قانونی حیثیت سے متعلق بھی پولیس افسران کے سامنے سوال اٹھایا گیا۔</p>
<p>وکیل نے کہا کہ تعزیراتِ انڈیا کی دفعہ 509 کے تحت میری مؤکلہ کی جانب سے درج ہونے والی شکایت پر پولیس افسر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔</p>
<p>وکیل نے کہا کہ نواز الدین صدیقی اور ان کے اہل خانہ نے میری موکلہ کو گزشتہ 7 روز کے دوران کھانا، سونے کے لیے بستر اور نہانے کے لیے باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میری مؤکلہ کے اردگرد باڈی گارڈ تعینات کردیے  گئے ہیں، جس جگہ میری مؤکلہ اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مقیم ہیں وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔</p>
<p>اس سب کے باوجود نواز الدین صدیقی اور ان کے اہل خانہ نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح عدالت میں کیس درج کرنے کے لیے میں مؤکلہ کا دستخط حاصل نہ کرسکوں۔</p>
<p>ان کاکہنا تھا کہ ان تمام دھمکیوں اور پولیس افسران کی مدد نہ کرنے کے باوجود میں نے اور میری ٹیم نے عدالت میں درخواست دائر کرنے کے لیے مؤکلہ کےدستخط حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1087253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ  نواز الدین صدیقی کی والدہ کی جانب سے بہو کے خلاف جائیداد کے تنازع پر مقدمہ درج کرنے کے بعد عالیہ صدیقی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں سسرال والوں جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل عالیہ صدیقی اپنے شوہر نواز الدین صدیقی سے خلع لینے کے لیے عدالت سے <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://https://www.dawnnews.tv/news/1131609">رجوع</a></strong> کرچکی ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074813">2018 میں</a></strong> نوازالدین صدیقی پر الزام لگا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر نجی جاسوسوں سے اپنی اہلیہ کا فون ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔</p>
<p>یاد رہے کہ نوازالدین صدیقی اور عالیہ کی شادی کو 10 سال کا عرصہ ہوچکا ہے اور ان کے دو بچے بھی ہیں۔</p>
<p>2017 میں یہ افواہیں سامنے آئی تھیں کہ ان دونوں کے تعلقات خراب ہورہے ہیں جبکہ ان کی طلاق بھی ہورہی ہے تاہم دونوں نے ہی ان خبروں کو بے بنیاد ٹھہرایا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب عالیہ صدیقی نے اے بی پی نیوز کو اس حوالے سے بتایا کہ ’مجھے نواز سے ایک نہیں بلکہ کئی مسائل ہیں اور وہ سب خاصے سنگین ہیں‘۔</p>
<p>عالیہ صدیقی کے مطابق ان کے تعلقات شادی کے ایک سال بعد 2010 سے ہی خراب ہونا شروع ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196395</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Feb 2023 12:26:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/01155429beddb79.gif?r=155506" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/01155429beddb79.gif?r=155506"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: بھارتی ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
