<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 02:06:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 02:06:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شام کے صوبے ادلب میں عسکریت پسندوں کا حملہ، 11 فوجی ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196477/</link>
      <description>&lt;p&gt;شام میں حیات تحریر الشام گروپ (ایچ ٹی ایس) کی جانب سے علیحدہ علیحدہ حملوں کے نتیجے میں صوبے ادلب میں 11 فوجی ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1734866/militants-kill-11-soldiers-in-northwest-syria"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایچ ٹی ایس نے صوبہ ادلب میں کفر روما کے قریب شامی فوجی چوکی پر گولے اور راکٹ فائر کیے، جس کے نتیجے میں 8 فوجی ہلاک ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسی صوبے میں کفر نابل کے قریب 3 شامی فوجی اسنائپر کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے، ایچ ٹی ایس کے سربراہ القاعدہ کے سابق رکن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام کے سرکاری میڈیا نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق شمال مغربی صوبے ادلب کا تقریباً نصف حصہ اور ہمسایہ صوبوں حلب، حما اور لطاکیہ سے متصل علاقوں پر ایچ ٹی ایس اور دیگر باغی دھڑوں کا غلبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبہ ادلب 30 لاکھ افراد کا گھر ہے جس میں سے تقریباً آدھے بے گھر ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبصر گروپ کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ انقرہ اور دمشق کے درمیان میل جول کے پیش نظر 2022 کے اختتام سے عسکریت پسندوں نے ادلب میں فورسز کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دھڑوں اور فورسز کے درمیان تصادم اور فائرنگ کے تبادلے میں سال کے آغاز سے اب تک 60 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہلاک عسکریت پسند فرانس کا شہری تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شام میں حیات تحریر الشام گروپ (ایچ ٹی ایس) کی جانب سے علیحدہ علیحدہ حملوں کے نتیجے میں صوبے ادلب میں 11 فوجی ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1734866/militants-kill-11-soldiers-in-northwest-syria"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایچ ٹی ایس نے صوبہ ادلب میں کفر روما کے قریب شامی فوجی چوکی پر گولے اور راکٹ فائر کیے، جس کے نتیجے میں 8 فوجی ہلاک ہوگئے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسی صوبے میں کفر نابل کے قریب 3 شامی فوجی اسنائپر کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے، ایچ ٹی ایس کے سربراہ القاعدہ کے سابق رکن ہیں۔</p>
<p>شام کے سرکاری میڈیا نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق شمال مغربی صوبے ادلب کا تقریباً نصف حصہ اور ہمسایہ صوبوں حلب، حما اور لطاکیہ سے متصل علاقوں پر ایچ ٹی ایس اور دیگر باغی دھڑوں کا غلبہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صوبہ ادلب 30 لاکھ افراد کا گھر ہے جس میں سے تقریباً آدھے بے گھر ہوگئے ہیں۔</p>
<p>مبصر گروپ کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ انقرہ اور دمشق کے درمیان میل جول کے پیش نظر 2022 کے اختتام سے عسکریت پسندوں نے ادلب میں فورسز کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ دھڑوں اور فورسز کے درمیان تصادم اور فائرنگ کے تبادلے میں سال کے آغاز سے اب تک 60 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہلاک عسکریت پسند فرانس کا شہری تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196477</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Feb 2023 16:05:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/02141111b39472f.jpg?r=160545" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/02141111b39472f.jpg?r=160545"/>
        <media:title>رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسی صوبے میں کفر نابل کے قریب 3 شامی فوجی اسنائپر کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے — فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
