<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:40:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:40:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سستی اور ماحول دوست ایٹمی توانائی پاکستان کے لیے کیوں ضروری ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196496/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں ان دنوں توانائی کا شعبہ حکومت کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے تو عوام اور صنعتوں کے لیے اذیت کا سبب۔ ملک میں مہنگی توانائی، خصوصاً بجلی کے بڑھتے بلوں کی وجہ سے عوام بہت پریشان ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت جس قیمت پر بجلی پیدا کررہی ہے، اس قیمت پر فروخت کرنے میں ناکام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بجلی کی اوسط قیمت 40 روپے فی یونٹ ہے لیکن گھریلو صارفین سے 29 روپے فی یونٹ وصول کیا جارہا ہے۔ اس کی وجہ سے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ بڑھتا جارہا ہے۔ یہ قرضہ 4 ہزار 100 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں بجلی کے شعبے میں گردشی قرض 2 ہزار 500 ارب اور گیس کے شعبے میں ایک ہزار 600 ارب شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ايم ايف کی جانب سے حکومت پر نقصانات کم کرنے کے لیے بجلی پر سبسڈی کم کرنے اور ٹیرف بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کی قیمت 7 سے 10 روپے بڑھانے کے ساتھ رواں مالی سال میں 675 ارب روپے کی سبسڈی ختم کی جائے گی۔ اسی طرح گیس کی بھی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت میں 75 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے اور خصوصاً بجلی کے شعبے میں مہنگے داموں بجلی کی خریداری کے منصوبے تنقید کی زد میں رہے ہیں جبکہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے نتیجے میں ملکی ماحولیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایٹمی ایندھن سے بجلی کی پیداوار عوام کو دیگر ذرائع کے مقابلے میں سستی بجلی فراہم کرنے کے علاوہ ماحول دوست تونائی کے حصول میں بھی معاون ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کراچی نیوکلیئر پاور جنریشن اسٹیشن میں قائم &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1196475/"&gt;&lt;strong&gt;کے 3 پاور پلانٹ کا باضابطہ افتتاح کردیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہے۔ کراچی کے ساحل پر قائم کے 2 اور کے 3 پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2200 میگاواٹ ہے اور یہ پاکستان میں لگے سب سے بڑے جنریٹرز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/appcsocialmedia/status/1621047738690596866"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو  ماحولیاتی مسائل، ایندھن کے مہنگا ہونے اور کیپسٹی چارجز کی ادائیگی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے اپنے خطاب میں وزیرِاعظم میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سستی اور ماحول دوست توانائی کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ملک اب ایٹمی توانائی کے استعمال کو بڑھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار 28 ہزار 466 ارب گیگاواٹ ہے۔ اس میں سے گیس سے 22.9 فیصد، تیل سے 2.5 فیصد، پن بجلی سے 15 فیصد، کوئلے سے 36 فیصد اور ایٹمی توانائی سے 9.8 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایٹمی بجلی پر سب سے زیادہ انحصار فرانس کا ہے جو 69 فیصد ایٹمی توانائی استعمال کررہا ہے۔ اس وقت دنیا کے 33 ممالک میں 444 ایٹمی بجلی گھر کام کررہے ہیں جن کی مجموعی پیداوار 394 گیگا واٹ ہے۔ یہ دنیا کی مجموعی بجلی پیداوار کا 10.4 فیصد ہے۔ اس وقت دنیا میں 57 ایٹمی بجلی گھر زیرِ تعمیر ہیں جن میں سے چین میں 18، بھارت میں 8 اور  روس میں 4 تعمیر کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا جائزہ لیا جائے تو نیپرا کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 144 ارب گیگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ جس میں گیس سے 34.6 فیصد، ہائیڈرو سے27 فیصد، تیل سے 7.7 فیصد، کوئلے سے 19.5 فیصد اور ایٹمی توانائی سے 7.7 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/02/03150435897b2b5.jpg'  alt='  کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے نتیجے میں ملکی ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے نتیجے میں ملکی ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے مطابق چشمہ اور کراچی کے مقام پر مجموعی طور پر 3 ہزار 625 میگاواٹ ایٹمی توانائی کے یونٹ لگے ہیں جبکہ سال 2030ء تک مزید چشمہ 5، مظفرگڑھ 1 اور 2 لگانے کا منصوبہ ہے۔ اس کے بعد ایٹمی توانائی سے بجلی کی مجموعی پیداوار  8 ہزار 800 میگاواٹ ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ سال 2042ء تک 21 ہزار اور 2050ء تک 40 ہزار میگاواٹ پیداوار کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایٹمی توانائی کے حوالے سے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ایک فعال ادارہ ہے۔ ممبر پاور محمد سعید الرحمٰن سے کراچی میں ایک ملاقات ہوئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے لیے ایٹمی توانائی بہت اہم ہے۔ یہ سستی ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست بھی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے سستا ہونے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’چشمہ ،کراچی اور مظفر گڑھ میں ایٹمی بجلی کے یونٹس لگانے کی منصوبہ بندی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے 1970ء میں ایٹمی توانائی کے استعمال سے بجلی کی پیداوار شروع کی اور کینپ 1 کا پلانٹ کینیڈا کے تعاون سے لگایا گیا مگر عالمی دباؤ پر کینیڈا نے پاور پلانٹ کا ایندھن دینے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد پاکستان نے اس پاور پلانٹ کا ایندھن خود تیار کیا اور کامیابی سے اس پلانٹ کو 50 سال تک چلایا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایٹمی توانائی انتہائی سستی ہوتی ہے اور اس کے ایندھن کے لیے کوئی خاص سپلائی چین بھی نہیں بنانی پڑتی۔ کسی بھی ایٹمی پاور پلانٹ میں اس کے 18 ماہ کے استعمال کا ایندھن موجود رہتا ہے اور ایک بڑے کمرے میں کئی سال کا ایندھن محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ ایٹمی ایندھن کا ایک انچ سے بھی کم حجم کا ٹکڑا ایک ٹن کوئلے، 471 لیٹر سیال ایندھن اور 481 کیوبک میٹر گیس کے مساوی توانائی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹمی ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی سستی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://instagram.com/p/CoJw5l0NF8J/" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://instagram.com/p/CoJw5l0NF8J/" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://instagram.com/p/CoJw5l0NF8J/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں کام کرنے والے چشمہ 1 ایٹمی پاور پلانٹ سے بجلی کا ایک یونٹ 6.61 روپے، چشمہ 2 سے 11.86 روپے، چشمہ 3 سے 17.09 روپے، چشمہ 4 سے 16.95 روپے اور کینپ 2 اور 3 سے 14.05 روپے میں بجلی کا ایک یونٹ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے 2 اور کے 3 پاور پلانٹس پر تقریباً 9 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ایندھن کا حصہ 1.2 روپے ہے۔ پلانٹ کے روزمرہ کاموں کو جاری رکھنے اور دیکھ بھال کے لیے 1.3 روپے، پلانٹ کو ڈی کمیشن کرنے کے لیے 4 پیسے، مقامی قرض کی واپسی کے لیے 68 پیسے، غیر ملکی قرض کی واپسی کے لیے 8.2 روپے اور سرمایہ کاری پر منافع دینے کے لیے 2.44 روپے  شامل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایٹمی بجلی کے ایندھن کی قیمت مستحکم رہتی ہے لیکن کوئلے، آر ایل این جی اور تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اس سے بجلی ناقابلِ برداشت حد تک مہنگی ہوئی ہے۔ محمد سعید الرحمٰن کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے بیرونی اور مقامی قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی ویسے ویسے ایٹمی بجلی یونٹس کی بجلی مزید سستی ہوتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد سعید الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’ایٹمی توانائی کے حوالے سے اٹامک انرجی کمیشن نے اپنا مکمل لائحہ عمل تیار کیا ہے اور اس کے پلانٹس حکومتی خزانے پر بوجھ نہیں ہیں۔ ان بجلی گھروں سے ہونے والی اگر 80 فیصد آمدنی کمیشن کو واپس دے دی جائے تو وہ نہ صرف اپنے تمام منصوبوں کی دیکھ بھال کرسکتا ہے بلکہ مستقبل کے منصوبوں کی فنانسنگ بھی کرسکتا ہے، یوں حکومت پر کسی قسم کا بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اسی طرح کمیشن نے 1400 میگاواٹ کے چشمہ 5 کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ چشمہ 5 کی کُل لاگت 3 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ اس کے 80 فیصد قرضے کا انتظام چین کی تعمیراتی کمپنی کرے گی۔ کے 1 اور 2 سے سالانہ 2 ارب ڈالر زرِمبادلہ کی بچت ہوگی، اسی طرح چشمہ 5 سے مزید ایک ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔ تاہم حکومتی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک سال تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔ چشمہ 5 کے علاوہ مظفرگڑھ میں ایم 1 2023ء اور ایم 2 2024ء میں شروع کرنا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایٹمی توانائی کاربن کے اخراج کو بھی نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے پر گیس ٹربائن 30 لاکھ ٹن، تیل سے 50 لاکھ ٹن اور کوئلے سے 60 لاکھ ٹن گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہوتا ہے۔ دوسری جانب ایٹمی توانائی میں یہ اخراج صفر ہوتا ہے۔ چشمہ پر لگے بجلی گھر سالانہ 61 لاکھ ٹن کاربن کے اخراج کو روکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایٹمی بجلی گھروں میں ایندھن کو لوڈ کرنے کا دورانیہ 18 ماہ کا ہوتا ہے اور اس وقت لگے ہوئے پاور پلانٹس بغیر کسی بندش کے 100 سے لے کر 280 دن تک مستقل کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر صلاحیت کی بات کی جائے تو ایٹمی پاور پلانٹس 90 فیصد تک اپنی گنجائش کے مطابق بجلی فراہم کرتے ہیں جبکہ کوئلے سے چلنے والے پلانٹ 66.9 فیصد، تیل اور گیس سے چلنے والے 34 فیصد اور پن بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ 45.1 فیصد کی گنجائش پر کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حفاظتی نقطہ نظر سے بھی کے 2 اور کے 3 ایٹمی ری ایکٹرز کو عالمی سطح پر دستیاب جدید ترین ٹیکنالوجی سے تعمیر کیا گیا ہے۔ ان کی ڈیزائن لائف 60 سال ہے جس کو بڑھا کر 80 سال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں سونامی کے بعد فوکوشیما ایٹمی ری ایکٹر کے حادثے کے بعد کے 2 اور کے 3 کو جنریشن تھری کے معیارات پر تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں فوکوشیما حادثے سے حاصل ہونے والے نتائج کے بعد بننے والے پروٹوکولز پر عمل کیا گیا ہے۔ ان دونوں ری ایکٹرز کا اسٹرکچر 0.3 گریویٹی (جی) کا زلزلہ جھیل سکتا ہے۔ جبکہ کینپ 0.11 جی پر تعمیر ہوا تھا اور اس وقت دنیا میں ایٹمی پاور پلانٹس کی تعمیر کو 0.2 جی پر کیا جاتا ہے۔ سونامی سے بچاؤ کے لیے بھی ان پاور پلانٹس کو سطح سمندر سے 12 میٹر کی بلندی پر تعمیر کیا گیا ہے اور اگر کوئی طیارہ بھی اس ری ایکٹر سے ٹکرا جائے تو اس کا دوہرا شیل اسے کسی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوکوشیما حادثے کے بعد اب اس پلانٹ کو کسی بھی حادثے کی صورت میں کور کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پاور جنریٹرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس ری ایکٹر کے کور کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک خودکار نظام بنایا گیا ہے۔ اس طرح دنیا میں اب تک ایٹمی ری ایکٹر اور ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال کے لیے دستیاب تمام تر حفاظتی اقدامات کو اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں تو بجلی کی فراہمی کے لیے اٹامک انرجی کمیشن کا معاہدہ براہِ راست این ٹی ڈی سی سے ہے اور اگر ان یونٹس سے بجلی کراچی کو فراہم کرنا مقصود ہو تو پہلے یہ بجلی 100 کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرکے کراچی کے ساحل سے این ٹی ڈی سی کے انٹر کنکشن جام شورو پہنچتی ہے جہاں یہ بجلی کراچی کو ملتی ہے۔ اس قدر لمبی ٹرانسمیشن لائن کی وجہ سے این ٹی ڈی سی کے لائن لاسز بھی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب کے الیکٹرک نے نیپرا اور این ٹی ڈی سی کی اجازت سے کینپ کے ساتھ 500 کے وی اے کا گرڈ قائم کرنے کا عمل شروع کردیا ہے جس پر 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کی بدولت کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے  500 سے 800 میگاواٹ بجلی حاصل کرسکے گی اور اس کی تعمیر سے بجلی کی ترسیل کا  نظام بھی جدید خطوط پر استوار ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں واقع پاور پلانٹ سے براہ راست شہر کو بجلی فراہمی کے بارے میں ممبر پاور محمد سعید الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’کے الیکٹرک کینپ 1 سے براہِ راست بجلی خریدتا رہا ہے اور اس کی ادائیگی بروقت کرتا رہا ہے۔ اگر کے الیکٹرک چاہے تو مستقبل کے منصوبوں کے 4 اور کے 5 سے براہِ راست بجلی کی خریداری کا معاہدہ اٹامک انرجی کمیشن کے ساتھ کرسکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اپنے ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ محفوظ، قابلِ بھروسہ اور سستی بجلی کے لیے ایٹمی توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا اور بجلی کے پیداواری انرجی مکس کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ ملکی ترقی کا پہیہ درآمدی ایندہن کے بغیر بھی چل سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں ان دنوں توانائی کا شعبہ حکومت کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے تو عوام اور صنعتوں کے لیے اذیت کا سبب۔ ملک میں مہنگی توانائی، خصوصاً بجلی کے بڑھتے بلوں کی وجہ سے عوام بہت پریشان ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت جس قیمت پر بجلی پیدا کررہی ہے، اس قیمت پر فروخت کرنے میں ناکام ہے۔</p>
<p>ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بجلی کی اوسط قیمت 40 روپے فی یونٹ ہے لیکن گھریلو صارفین سے 29 روپے فی یونٹ وصول کیا جارہا ہے۔ اس کی وجہ سے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ بڑھتا جارہا ہے۔ یہ قرضہ 4 ہزار 100 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں بجلی کے شعبے میں گردشی قرض 2 ہزار 500 ارب اور گیس کے شعبے میں ایک ہزار 600 ارب شامل ہے۔</p>
<p>آئی ايم ايف کی جانب سے حکومت پر نقصانات کم کرنے کے لیے بجلی پر سبسڈی کم کرنے اور ٹیرف بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کی قیمت 7 سے 10 روپے بڑھانے کے ساتھ رواں مالی سال میں 675 ارب روپے کی سبسڈی ختم کی جائے گی۔ اسی طرح گیس کی بھی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت میں 75 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔</p>
<p>توانائی کے شعبے اور خصوصاً بجلی کے شعبے میں مہنگے داموں بجلی کی خریداری کے منصوبے تنقید کی زد میں رہے ہیں جبکہ کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے نتیجے میں ملکی ماحولیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایٹمی ایندھن سے بجلی کی پیداوار عوام کو دیگر ذرائع کے مقابلے میں سستی بجلی فراہم کرنے کے علاوہ ماحول دوست تونائی کے حصول میں بھی معاون ہوتی ہے۔</p>
<p>وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کراچی نیوکلیئر پاور جنریشن اسٹیشن میں قائم <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1196475/"><strong>کے 3 پاور پلانٹ کا باضابطہ افتتاح کردیا</strong></a> ہے۔ کراچی کے ساحل پر قائم کے 2 اور کے 3 پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2200 میگاواٹ ہے اور یہ پاکستان میں لگے سب سے بڑے جنریٹرز ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/appcsocialmedia/status/1621047738690596866"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ملک کو  ماحولیاتی مسائل، ایندھن کے مہنگا ہونے اور کیپسٹی چارجز کی ادائیگی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے اپنے خطاب میں وزیرِاعظم میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سستی اور ماحول دوست توانائی کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ملک اب ایٹمی توانائی کے استعمال کو بڑھا رہے ہیں۔</p>
<p>عالمی سطح پر دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار 28 ہزار 466 ارب گیگاواٹ ہے۔ اس میں سے گیس سے 22.9 فیصد، تیل سے 2.5 فیصد، پن بجلی سے 15 فیصد، کوئلے سے 36 فیصد اور ایٹمی توانائی سے 9.8 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔</p>
<p>ایٹمی بجلی پر سب سے زیادہ انحصار فرانس کا ہے جو 69 فیصد ایٹمی توانائی استعمال کررہا ہے۔ اس وقت دنیا کے 33 ممالک میں 444 ایٹمی بجلی گھر کام کررہے ہیں جن کی مجموعی پیداوار 394 گیگا واٹ ہے۔ یہ دنیا کی مجموعی بجلی پیداوار کا 10.4 فیصد ہے۔ اس وقت دنیا میں 57 ایٹمی بجلی گھر زیرِ تعمیر ہیں جن میں سے چین میں 18، بھارت میں 8 اور  روس میں 4 تعمیر کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا جائزہ لیا جائے تو نیپرا کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 144 ارب گیگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ جس میں گیس سے 34.6 فیصد، ہائیڈرو سے27 فیصد، تیل سے 7.7 فیصد، کوئلے سے 19.5 فیصد اور ایٹمی توانائی سے 7.7 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/02/03150435897b2b5.jpg'  alt='  کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے نتیجے میں ملکی ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے نتیجے میں ملکی ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے مطابق چشمہ اور کراچی کے مقام پر مجموعی طور پر 3 ہزار 625 میگاواٹ ایٹمی توانائی کے یونٹ لگے ہیں جبکہ سال 2030ء تک مزید چشمہ 5، مظفرگڑھ 1 اور 2 لگانے کا منصوبہ ہے۔ اس کے بعد ایٹمی توانائی سے بجلی کی مجموعی پیداوار  8 ہزار 800 میگاواٹ ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ سال 2042ء تک 21 ہزار اور 2050ء تک 40 ہزار میگاواٹ پیداوار کا منصوبہ ہے۔</p>
<p>ایٹمی توانائی کے حوالے سے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ایک فعال ادارہ ہے۔ ممبر پاور محمد سعید الرحمٰن سے کراچی میں ایک ملاقات ہوئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے لیے ایٹمی توانائی بہت اہم ہے۔ یہ سستی ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست بھی ہے‘۔</p>
<p>بجلی کے سستا ہونے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’چشمہ ،کراچی اور مظفر گڑھ میں ایٹمی بجلی کے یونٹس لگانے کی منصوبہ بندی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے 1970ء میں ایٹمی توانائی کے استعمال سے بجلی کی پیداوار شروع کی اور کینپ 1 کا پلانٹ کینیڈا کے تعاون سے لگایا گیا مگر عالمی دباؤ پر کینیڈا نے پاور پلانٹ کا ایندھن دینے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد پاکستان نے اس پاور پلانٹ کا ایندھن خود تیار کیا اور کامیابی سے اس پلانٹ کو 50 سال تک چلایا ہے‘۔</p>
<p>ایٹمی توانائی انتہائی سستی ہوتی ہے اور اس کے ایندھن کے لیے کوئی خاص سپلائی چین بھی نہیں بنانی پڑتی۔ کسی بھی ایٹمی پاور پلانٹ میں اس کے 18 ماہ کے استعمال کا ایندھن موجود رہتا ہے اور ایک بڑے کمرے میں کئی سال کا ایندھن محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ ایٹمی ایندھن کا ایک انچ سے بھی کم حجم کا ٹکڑا ایک ٹن کوئلے، 471 لیٹر سیال ایندھن اور 481 کیوبک میٹر گیس کے مساوی توانائی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹمی ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی سستی ہوتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://instagram.com/p/CoJw5l0NF8J/" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://instagram.com/p/CoJw5l0NF8J/" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://instagram.com/p/CoJw5l0NF8J/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان میں کام کرنے والے چشمہ 1 ایٹمی پاور پلانٹ سے بجلی کا ایک یونٹ 6.61 روپے، چشمہ 2 سے 11.86 روپے، چشمہ 3 سے 17.09 روپے، چشمہ 4 سے 16.95 روپے اور کینپ 2 اور 3 سے 14.05 روپے میں بجلی کا ایک یونٹ ملتا ہے۔</p>
<p>کے 2 اور کے 3 پاور پلانٹس پر تقریباً 9 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ایندھن کا حصہ 1.2 روپے ہے۔ پلانٹ کے روزمرہ کاموں کو جاری رکھنے اور دیکھ بھال کے لیے 1.3 روپے، پلانٹ کو ڈی کمیشن کرنے کے لیے 4 پیسے، مقامی قرض کی واپسی کے لیے 68 پیسے، غیر ملکی قرض کی واپسی کے لیے 8.2 روپے اور سرمایہ کاری پر منافع دینے کے لیے 2.44 روپے  شامل ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایٹمی بجلی کے ایندھن کی قیمت مستحکم رہتی ہے لیکن کوئلے، آر ایل این جی اور تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ اس سے بجلی ناقابلِ برداشت حد تک مہنگی ہوئی ہے۔ محمد سعید الرحمٰن کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے بیرونی اور مقامی قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی ویسے ویسے ایٹمی بجلی یونٹس کی بجلی مزید سستی ہوتی جائے گی۔</p>
<p>محمد سعید الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’ایٹمی توانائی کے حوالے سے اٹامک انرجی کمیشن نے اپنا مکمل لائحہ عمل تیار کیا ہے اور اس کے پلانٹس حکومتی خزانے پر بوجھ نہیں ہیں۔ ان بجلی گھروں سے ہونے والی اگر 80 فیصد آمدنی کمیشن کو واپس دے دی جائے تو وہ نہ صرف اپنے تمام منصوبوں کی دیکھ بھال کرسکتا ہے بلکہ مستقبل کے منصوبوں کی فنانسنگ بھی کرسکتا ہے، یوں حکومت پر کسی قسم کا بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔</p>
<p>’اسی طرح کمیشن نے 1400 میگاواٹ کے چشمہ 5 کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ چشمہ 5 کی کُل لاگت 3 ارب 70 کروڑ ڈالر ہے۔ اس کے 80 فیصد قرضے کا انتظام چین کی تعمیراتی کمپنی کرے گی۔ کے 1 اور 2 سے سالانہ 2 ارب ڈالر زرِمبادلہ کی بچت ہوگی، اسی طرح چشمہ 5 سے مزید ایک ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔ تاہم حکومتی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک سال تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔ چشمہ 5 کے علاوہ مظفرگڑھ میں ایم 1 2023ء اور ایم 2 2024ء میں شروع کرنا ہے۔‘</p>
<p>ایٹمی توانائی کاربن کے اخراج کو بھی نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے پر گیس ٹربائن 30 لاکھ ٹن، تیل سے 50 لاکھ ٹن اور کوئلے سے 60 لاکھ ٹن گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہوتا ہے۔ دوسری جانب ایٹمی توانائی میں یہ اخراج صفر ہوتا ہے۔ چشمہ پر لگے بجلی گھر سالانہ 61 لاکھ ٹن کاربن کے اخراج کو روکتے ہیں۔</p>
<p>ایٹمی بجلی گھروں میں ایندھن کو لوڈ کرنے کا دورانیہ 18 ماہ کا ہوتا ہے اور اس وقت لگے ہوئے پاور پلانٹس بغیر کسی بندش کے 100 سے لے کر 280 دن تک مستقل کام کرتے ہیں۔</p>
<p>اگر صلاحیت کی بات کی جائے تو ایٹمی پاور پلانٹس 90 فیصد تک اپنی گنجائش کے مطابق بجلی فراہم کرتے ہیں جبکہ کوئلے سے چلنے والے پلانٹ 66.9 فیصد، تیل اور گیس سے چلنے والے 34 فیصد اور پن بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ 45.1 فیصد کی گنجائش پر کام کرتے ہیں۔</p>
<p>حفاظتی نقطہ نظر سے بھی کے 2 اور کے 3 ایٹمی ری ایکٹرز کو عالمی سطح پر دستیاب جدید ترین ٹیکنالوجی سے تعمیر کیا گیا ہے۔ ان کی ڈیزائن لائف 60 سال ہے جس کو بڑھا کر 80 سال کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>جاپان میں سونامی کے بعد فوکوشیما ایٹمی ری ایکٹر کے حادثے کے بعد کے 2 اور کے 3 کو جنریشن تھری کے معیارات پر تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں فوکوشیما حادثے سے حاصل ہونے والے نتائج کے بعد بننے والے پروٹوکولز پر عمل کیا گیا ہے۔ ان دونوں ری ایکٹرز کا اسٹرکچر 0.3 گریویٹی (جی) کا زلزلہ جھیل سکتا ہے۔ جبکہ کینپ 0.11 جی پر تعمیر ہوا تھا اور اس وقت دنیا میں ایٹمی پاور پلانٹس کی تعمیر کو 0.2 جی پر کیا جاتا ہے۔ سونامی سے بچاؤ کے لیے بھی ان پاور پلانٹس کو سطح سمندر سے 12 میٹر کی بلندی پر تعمیر کیا گیا ہے اور اگر کوئی طیارہ بھی اس ری ایکٹر سے ٹکرا جائے تو اس کا دوہرا شیل اسے کسی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>فوکوشیما حادثے کے بعد اب اس پلانٹ کو کسی بھی حادثے کی صورت میں کور کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پاور جنریٹرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس ری ایکٹر کے کور کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک خودکار نظام بنایا گیا ہے۔ اس طرح دنیا میں اب تک ایٹمی ری ایکٹر اور ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال کے لیے دستیاب تمام تر حفاظتی اقدامات کو اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p>یوں تو بجلی کی فراہمی کے لیے اٹامک انرجی کمیشن کا معاہدہ براہِ راست این ٹی ڈی سی سے ہے اور اگر ان یونٹس سے بجلی کراچی کو فراہم کرنا مقصود ہو تو پہلے یہ بجلی 100 کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرکے کراچی کے ساحل سے این ٹی ڈی سی کے انٹر کنکشن جام شورو پہنچتی ہے جہاں یہ بجلی کراچی کو ملتی ہے۔ اس قدر لمبی ٹرانسمیشن لائن کی وجہ سے این ٹی ڈی سی کے لائن لاسز بھی ہوتے ہیں۔</p>
<p>اب کے الیکٹرک نے نیپرا اور این ٹی ڈی سی کی اجازت سے کینپ کے ساتھ 500 کے وی اے کا گرڈ قائم کرنے کا عمل شروع کردیا ہے جس پر 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کی بدولت کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے  500 سے 800 میگاواٹ بجلی حاصل کرسکے گی اور اس کی تعمیر سے بجلی کی ترسیل کا  نظام بھی جدید خطوط پر استوار ہوجائے گا۔</p>
<p>کراچی میں واقع پاور پلانٹ سے براہ راست شہر کو بجلی فراہمی کے بارے میں ممبر پاور محمد سعید الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’کے الیکٹرک کینپ 1 سے براہِ راست بجلی خریدتا رہا ہے اور اس کی ادائیگی بروقت کرتا رہا ہے۔ اگر کے الیکٹرک چاہے تو مستقبل کے منصوبوں کے 4 اور کے 5 سے براہِ راست بجلی کی خریداری کا معاہدہ اٹامک انرجی کمیشن کے ساتھ کرسکتا ہے‘۔</p>
<p>پاکستان کو اپنے ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ محفوظ، قابلِ بھروسہ اور سستی بجلی کے لیے ایٹمی توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا اور بجلی کے پیداواری انرجی مکس کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ ملکی ترقی کا پہیہ درآمدی ایندہن کے بغیر بھی چل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196496</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Feb 2023 17:45:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (راجہ کامران)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/03144858ff9c1f0.jpg?r=145032" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/03144858ff9c1f0.jpg?r=145032"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
