<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 11:20:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 11:20:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کے ذخائر 16 فیصد مزید گر کر 3 ارب 9 کروڑ ڈالر رہ گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196512/</link>
      <description>&lt;p&gt;جمعرات کے روز روپیہ اب تک کی کم ترین سطح پر آگیا اور مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر کی غیر معمولی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئے جب کہ ملک معاشی اور سیاسی بحران سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1735036/sbp-reserves-plunge-16pc-to-309bn"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد 27 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 16 فیصد مزید کم ہو کر 3 اب 9 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے جن سے بمشکل صرف 3 ہفتوں سے بھی کم کی درآمدات کی ادائیگیاں ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی سرمایہ کاری فرم عارف حبیب لمیٹڈ  (اے ایچ ایل) کے مطابق ذخائر فروری 2014 کے بعد کم ترین سطح پر ہیں اور صرف 18 روز کی درآمدات کی ادائیگیاں پوری کرنے کے قابل ہیں جو 1998 کے بعد سے کم ترین مدت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5 ارب 65 کروڑ ڈالر ہیں جس کے ساتھ ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے  ذخائر 8 ارب 74 کروڑ ڈالر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے عارف حبیب لمیٹڈ میں ریسرچ ہیڈ طاہر عباس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ملک کو تازہ رقوم کی آمد کی اشد ضرورت ہے اور بحران سے بچنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)  پروگرام کو جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193839"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام بحالی کے لیے پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد دیگر پلیٹ فارمز سے بھی رقم ملنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے منگل کے روز آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کی تاکہ معاشی بحران سے بچنے کے لیے 7 ارب  ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کو حاصل کیا جاسکے، 9 فروری تک جاری رہنے والی بات چیت کا مقصد آئی ایم ایف توسیعی فنڈ سہولت کے نویں جائزے کی تکمیل  ہے، پروگرام کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے شکار ممالک کی مدد کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جمعرات کے روز روپیہ اب تک کی کم ترین سطح پر آگیا اور مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر کی غیر معمولی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئے جب کہ ملک معاشی اور سیاسی بحران سے دوچار ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1735036/sbp-reserves-plunge-16pc-to-309bn">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد 27 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 16 فیصد مزید کم ہو کر 3 اب 9 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے جن سے بمشکل صرف 3 ہفتوں سے بھی کم کی درآمدات کی ادائیگیاں ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>مقامی سرمایہ کاری فرم عارف حبیب لمیٹڈ  (اے ایچ ایل) کے مطابق ذخائر فروری 2014 کے بعد کم ترین سطح پر ہیں اور صرف 18 روز کی درآمدات کی ادائیگیاں پوری کرنے کے قابل ہیں جو 1998 کے بعد سے کم ترین مدت ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5 ارب 65 کروڑ ڈالر ہیں جس کے ساتھ ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے  ذخائر 8 ارب 74 کروڑ ڈالر رہ گئے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے عارف حبیب لمیٹڈ میں ریسرچ ہیڈ طاہر عباس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ملک کو تازہ رقوم کی آمد کی اشد ضرورت ہے اور بحران سے بچنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)  پروگرام کو جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193839"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پروگرام بحالی کے لیے پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد دیگر پلیٹ فارمز سے بھی رقم ملنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>حکومت نے منگل کے روز آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کی تاکہ معاشی بحران سے بچنے کے لیے 7 ارب  ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کو حاصل کیا جاسکے، 9 فروری تک جاری رہنے والی بات چیت کا مقصد آئی ایم ایف توسیعی فنڈ سہولت کے نویں جائزے کی تکمیل  ہے، پروگرام کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے شکار ممالک کی مدد کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196512</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Feb 2023 14:24:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/03090805c99e344.jpg?r=142412" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/03090805c99e344.jpg?r=142412"/>
        <media:title>ذخائر فروری 2014 کے بعد کم ترین سطح پر ہیں جو صرف 18 روز کی درآمدات کے لیے کافی ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
