<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:13:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:13:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوری میں ملکی برآمدات 15 فیصد کم ہو کر 2.21 ارب ڈالر ریکارڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196521/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک کی برآمدات میں کمی کا رجحان مسلسل 5 مہینے سے جاری ہے، جنوری میں سالانہ بنیادوں پر 15.42 فیصد کمی کے بعد 2 ارب 21 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جس سے صنعتوں خاص طور پر ٹیکسٹائل صنعتی یونٹس بند ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1735033/exports-fall-over-15pc-in-january"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ جنوری میں ماہانہ بنیادوں پر برآمدات میں 4.41 فیصد کی کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی سے برآمدات میں منفی نمو شروع ہوئی جبکہ اگست میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، برآمدات میں تنزلی پریشان کن عنصر ہے جو ملک کے بیرونی کھاتوں میں توازن کے حوالے سے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال 23-2022 کے ابتدائی 7 مہینے (جولائی تا جنوری)  میں برآمدات 7.16 فیصد تنزلی کے بعد 16 ارب 46 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 17 ارب 74 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، گراوٹ کے سبب حکومت کو رواں مالی سال میں برآمدی ہدف پورا کرنے میں دشواری ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتکار اور برآمدکنندگان جاوید بلوانی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ زیادہ تر فیکٹریوں میں پیداوار میں 30 سے 50 فیصد کمی ہو چکی ہے جبکہ بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے چھوٹے یونٹس نے آپریشن مکمل معطل کردیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاوید بلوانی نے مزید کہا کہ پیداوار گرنے کا صحیح اثر مارچ اور اپریل کی برآمدات کے اعداد و شمار میں ظاہر ہو گا، انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ محکمہ ٹیکس برآمد کنندگان کے ریفنڈز روک رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جبکہ حکومت توانائی پر سبسڈی ختم کرنے اور برآمدی شعبے خاص طور پر ٹیکسٹائل کی صنعت میں استعمال ہونے والے خام مال پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کا سوچ رہی ہے، ہم نے حکومت کو پہلے ہی بتا دیا ہے کہ ان  اقدامات کے برآمدات پر اکیا اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جنوری میں درآمدات بھی 19.55 فیصد کم ہو کر 4 ارب 85 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ برس اسی مہینے میں 6 ارب 3 کروڑ ڈالر تھیں، رواں مالی سال کے ابتدائی 7 مہینوں میں درآمدات 22.53 فیصد تنزلی کے بعد 36 ارب 10 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ برس 46 ارب 59 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جولائی تا جنوری کے دوران تجارتی خسارہ 31.97 فیصد کمی کے بعد 19 ارب  63 کروڑ ڈالر رہ گیا جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 28 ارب 86 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں سالانہ بنیادوں پر تجارتی خسارہ 22.71 فیصد گرنے کے بعد 2 ارب 64 کروڑ رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدکنندگان کے مطابق گرتی برآمدات کی ایک بڑی وجہ غیرمستحکم شرح تبادلہ ہے، حکومت کی جانب سے مقامی ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرابیک ختم کرنے سے بھی برآمدی شعبے میں نقدیت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے کم ہوتی برآمدات کی وجوہات کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، وفاقی وزیر خزانہ نوید قمر عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مسلسل غیر ملکی دوروں پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال 22-2021 میں پاکستان نے نہ صرف برآمدی اہداف حاصل کیا تھا بلکہ 30 ارب ڈالرکی نفسیاتی حد بھی عبور کی تھی، برآمدات 26.6 فیصد اضافے کے بعد 31 ارب 85 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھیں جو اس سے پچھلے سال 25 ارب 16 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مالی سال 22-2021 میں درآمدی بل بھی 43 فیصد اضافے کے بعد 80 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا جو اس سے پچھلے سال 56 ارب 12 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک کی برآمدات میں کمی کا رجحان مسلسل 5 مہینے سے جاری ہے، جنوری میں سالانہ بنیادوں پر 15.42 فیصد کمی کے بعد 2 ارب 21 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جس سے صنعتوں خاص طور پر ٹیکسٹائل صنعتی یونٹس بند ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1735033/exports-fall-over-15pc-in-january"><strong>رپورٹ</strong></a> میں سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ جنوری میں ماہانہ بنیادوں پر برآمدات میں 4.41 فیصد کی کمی ہوئی۔</p>
<p>رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی سے برآمدات میں منفی نمو شروع ہوئی جبکہ اگست میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، برآمدات میں تنزلی پریشان کن عنصر ہے جو ملک کے بیرونی کھاتوں میں توازن کے حوالے سے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔</p>
<p>رواں مالی سال 23-2022 کے ابتدائی 7 مہینے (جولائی تا جنوری)  میں برآمدات 7.16 فیصد تنزلی کے بعد 16 ارب 46 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 17 ارب 74 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، گراوٹ کے سبب حکومت کو رواں مالی سال میں برآمدی ہدف پورا کرنے میں دشواری ہو گی۔</p>
<p>صنعتکار اور برآمدکنندگان جاوید بلوانی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ زیادہ تر فیکٹریوں میں پیداوار میں 30 سے 50 فیصد کمی ہو چکی ہے جبکہ بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے چھوٹے یونٹس نے آپریشن مکمل معطل کردیے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جاوید بلوانی نے مزید کہا کہ پیداوار گرنے کا صحیح اثر مارچ اور اپریل کی برآمدات کے اعداد و شمار میں ظاہر ہو گا، انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ محکمہ ٹیکس برآمد کنندگان کے ریفنڈز روک رہا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جبکہ حکومت توانائی پر سبسڈی ختم کرنے اور برآمدی شعبے خاص طور پر ٹیکسٹائل کی صنعت میں استعمال ہونے والے خام مال پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کا سوچ رہی ہے، ہم نے حکومت کو پہلے ہی بتا دیا ہے کہ ان  اقدامات کے برآمدات پر اکیا اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق جنوری میں درآمدات بھی 19.55 فیصد کم ہو کر 4 ارب 85 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ برس اسی مہینے میں 6 ارب 3 کروڑ ڈالر تھیں، رواں مالی سال کے ابتدائی 7 مہینوں میں درآمدات 22.53 فیصد تنزلی کے بعد 36 ارب 10 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ برس 46 ارب 59 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق جولائی تا جنوری کے دوران تجارتی خسارہ 31.97 فیصد کمی کے بعد 19 ارب  63 کروڑ ڈالر رہ گیا جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 28 ارب 86 کروڑ ڈالر تھا۔</p>
<p>جنوری میں سالانہ بنیادوں پر تجارتی خسارہ 22.71 فیصد گرنے کے بعد 2 ارب 64 کروڑ رہ گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>برآمدکنندگان کے مطابق گرتی برآمدات کی ایک بڑی وجہ غیرمستحکم شرح تبادلہ ہے، حکومت کی جانب سے مقامی ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرابیک ختم کرنے سے بھی برآمدی شعبے میں نقدیت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے کم ہوتی برآمدات کی وجوہات کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، وفاقی وزیر خزانہ نوید قمر عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مسلسل غیر ملکی دوروں پر ہیں۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال 22-2021 میں پاکستان نے نہ صرف برآمدی اہداف حاصل کیا تھا بلکہ 30 ارب ڈالرکی نفسیاتی حد بھی عبور کی تھی، برآمدات 26.6 فیصد اضافے کے بعد 31 ارب 85 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھیں جو اس سے پچھلے سال 25 ارب 16 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>تاہم مالی سال 22-2021 میں درآمدی بل بھی 43 فیصد اضافے کے بعد 80 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا جو اس سے پچھلے سال 56 ارب 12 کروڑ ڈالر تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196521</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Feb 2023 12:44:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/03110401ba635ba.gif?r=110631" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/03110401ba635ba.gif?r=110631"/>
        <media:title>رپورٹ کے مطابق جولائی تا جنوری کے دوران تجارتی خسارہ 31.97 فیصد کمی کے بعد 19 ارب  63 کروڑ ڈالر رہ گیا— فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
