<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:46:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:46:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرمبادلہ کے کم ذخائر، ڈالر 5.20 روپے اضافے کے بعد 276 روپے 60 پیسے کا ہوگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196539/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ رک نہ سکا، آج بھی روپیہ 5 روپے 22 پیسے کی بڑی کمی کے بعد 276 روپے 58 پیسے کی کم ترین سطح پر آگیا، جس کی وجہ ماہرین زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سیاسی عدم استحکام کو قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق روپے کے مقابلے میں ڈالر 5 روپے 22 پیسے یا 1.89 فیصد اضافے کے بعد 276.58 روپے کا ہوگیا، جو گزشتہ روز 271 روپے 30 پیسے پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1621457744577585152"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے ڈالر کی قدر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر مزید تقریباً 60 کروڑ ڈالر کم ہوگئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے پاس ذخائر 12، 13 سال کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان ذخائر میں دوست ممالک کے ڈپازٹس بھی شامل ہیں، اگر ہم اس طرح دیکھیں تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچا نے مزید کہا کہ ملک کے سیاسی حالات بھی سدھرنے کی طرف نہیں آرہے، اس کے علاوہ دہشت گردی کی جو ایک نئی لہر آئی ہے وہ بہت خطرناک ہے، پشاور میں پولیس لائنز کے قریب مسجد میں حملے کے علاوہ بھی خیبرپختونخوا میں 4، 5 اور حملے بھی ہوچکے ہیں جبکہ ایک حملہ پنجاب میں تھانے پر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196328"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز (آرمی، عدلیہ، کاروباری افراد) کو ایک میز پر بیٹھنا چاہیے، پھر بیٹھ کر طویل المعیاد پالیسی بنائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچا نے کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل سفر کو بند کیا جائے، تمام کام زوم پر کیا جائے اور گھر سے کام کرنے کو فروغ دیا جائے، مارکیٹیں 6 بجے بند کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جو حالات بن گئے ہیں اگر ہم نے معاشی ایمرجنسی نافذ نہیں کی تو بہت برے حالات نظر آرہے ہیں، ہمیں امید ہو چلی تھی کہ ڈالر کا کیپ ہٹانے سے بہتری آئے گی لیکن ایک دو دن کے بعد پھر مایوسی نظر آرہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل سیکریٹری کا مزید کہنا تھا کہ انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کے تین علیحدہ قیمتیں رکھنی پڑیں گی، بیرون ملک پاکستانی اور ایکسچینج کمپنیوں کے لیے الگ، برآمد کنندگان کے لیے الگ اور درآمد کنندگان کے لیے الگ قدر رکھنا پڑے گی تاکہ درآمدات مہنگی ہوں جبکہ ترسیلات زر کا اچھا ریٹ ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196278"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد 27 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1196512/"&gt;&lt;strong&gt;زرمبادلہ کے ذخائر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; 16 فیصد مزید کم ہو کر 3 اب 9 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے جن سے بمشکل صرف 3 ہفتوں سے بھی کم کی درآمدات کی ادائیگیاں ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی سرمایہ کاری فرم عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے مطابق ذخائر فروری 2014 کے بعد کم ترین سطح پر ہیں اور صرف 18 روز کی درآمدات کی ادائیگیاں پوری کرنے کے قابل ہیں جو 1998 کے بعد سے کم ترین مدت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5 ارب 65 کروڑ ڈالر ہیں جس کے ساتھ ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب 74 کروڑ ڈالر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ رک نہ سکا، آج بھی روپیہ 5 روپے 22 پیسے کی بڑی کمی کے بعد 276 روپے 58 پیسے کی کم ترین سطح پر آگیا، جس کی وجہ ماہرین زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور سیاسی عدم استحکام کو قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق روپے کے مقابلے میں ڈالر 5 روپے 22 پیسے یا 1.89 فیصد اضافے کے بعد 276.58 روپے کا ہوگیا، جو گزشتہ روز 271 روپے 30 پیسے پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1621457744577585152"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>کرنسی ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے ڈالر کی قدر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر مزید تقریباً 60 کروڑ ڈالر کم ہوگئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے پاس ذخائر 12، 13 سال کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ان ذخائر میں دوست ممالک کے ڈپازٹس بھی شامل ہیں، اگر ہم اس طرح دیکھیں تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔</p>
<p>ظفر پراچا نے مزید کہا کہ ملک کے سیاسی حالات بھی سدھرنے کی طرف نہیں آرہے، اس کے علاوہ دہشت گردی کی جو ایک نئی لہر آئی ہے وہ بہت خطرناک ہے، پشاور میں پولیس لائنز کے قریب مسجد میں حملے کے علاوہ بھی خیبرپختونخوا میں 4، 5 اور حملے بھی ہوچکے ہیں جبکہ ایک حملہ پنجاب میں تھانے پر ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196328"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز (آرمی، عدلیہ، کاروباری افراد) کو ایک میز پر بیٹھنا چاہیے، پھر بیٹھ کر طویل المعیاد پالیسی بنائی جائے۔</p>
<p>ظفر پراچا نے کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں، ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل سفر کو بند کیا جائے، تمام کام زوم پر کیا جائے اور گھر سے کام کرنے کو فروغ دیا جائے، مارکیٹیں 6 بجے بند کی جائیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جو حالات بن گئے ہیں اگر ہم نے معاشی ایمرجنسی نافذ نہیں کی تو بہت برے حالات نظر آرہے ہیں، ہمیں امید ہو چلی تھی کہ ڈالر کا کیپ ہٹانے سے بہتری آئے گی لیکن ایک دو دن کے بعد پھر مایوسی نظر آرہی ہے۔</p>
<p>جنرل سیکریٹری کا مزید کہنا تھا کہ انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کے تین علیحدہ قیمتیں رکھنی پڑیں گی، بیرون ملک پاکستانی اور ایکسچینج کمپنیوں کے لیے الگ، برآمد کنندگان کے لیے الگ اور درآمد کنندگان کے لیے الگ قدر رکھنا پڑے گی تاکہ درآمدات مہنگی ہوں جبکہ ترسیلات زر کا اچھا ریٹ ملے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196278"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد 27 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1196512/"><strong>زرمبادلہ کے ذخائر</strong></a> 16 فیصد مزید کم ہو کر 3 اب 9 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے جن سے بمشکل صرف 3 ہفتوں سے بھی کم کی درآمدات کی ادائیگیاں ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>مقامی سرمایہ کاری فرم عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے مطابق ذخائر فروری 2014 کے بعد کم ترین سطح پر ہیں اور صرف 18 روز کی درآمدات کی ادائیگیاں پوری کرنے کے قابل ہیں جو 1998 کے بعد سے کم ترین مدت ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5 ارب 65 کروڑ ڈالر ہیں جس کے ساتھ ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب 74 کروڑ ڈالر رہ گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196539</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Feb 2023 16:51:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (تلقین زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/03153529e14ca8c.jpg?r=163808" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/03153529e14ca8c.jpg?r=163808"/>
        <media:title>ظفر پراچا نے کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
