<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:39:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:39:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے معاشی مسائل کا حل ’سی پیک‘ ہے، سینیٹر مشاہد حسین</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196677/</link>
      <description>&lt;p&gt;سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ اگر پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا گیا تو پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی ضرورت نہیں پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1735558/mushahid-calls-cpec-panacea-for-economic-woes"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پیک کے تحت سندھ میں توانائی کے مختلف منصوبوں کے دورے کے موقع پر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پریس ریلیز کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین نے سی پیک کو گزشتہ 30 برسوں کے دوران اقتصادی ترقی کے لیے بڑی تبدیلی کا اہم اقدام قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل بشمول معدنی دولت، قدرتی گیس اور سمندر موجود ہے جس کو ’بلیو اکانومی‘ کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182125"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ صرف تھر میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں اور اب سی پیک کی بدولت یہ ’بلیک گولڈ‘ قومی معیشت میں حصہ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے پورٹ قاسم پر ’پاور چائنا پروجیکٹ‘ اور تھر میں لگنے والے نئے پاور پلانٹ کا دورہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کو بتایا گیا کہ پورٹ قاسم پاور پلانٹ نے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں 60 کروڑ ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا ہے اور تھر میں پاور پلانٹ نے مقامی لوگوں کے لیے 12 ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر مشاہد حسین نے سی پیک کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے ایک بہتر مستقبل کا ضامن قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ اگر پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا گیا تو پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی ضرورت نہیں پڑے گی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1735558/mushahid-calls-cpec-panacea-for-economic-woes"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پیک کے تحت سندھ میں توانائی کے مختلف منصوبوں کے دورے کے موقع پر کیا۔</p>
<p>ایک پریس ریلیز کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین نے سی پیک کو گزشتہ 30 برسوں کے دوران اقتصادی ترقی کے لیے بڑی تبدیلی کا اہم اقدام قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل بشمول معدنی دولت، قدرتی گیس اور سمندر موجود ہے جس کو ’بلیو اکانومی‘ کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182125"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ صرف تھر میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں اور اب سی پیک کی بدولت یہ ’بلیک گولڈ‘ قومی معیشت میں حصہ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>وفد نے پورٹ قاسم پر ’پاور چائنا پروجیکٹ‘ اور تھر میں لگنے والے نئے پاور پلانٹ کا دورہ کیا۔</p>
<p>وفد کو بتایا گیا کہ پورٹ قاسم پاور پلانٹ نے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں 60 کروڑ ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا ہے اور تھر میں پاور پلانٹ نے مقامی لوگوں کے لیے 12 ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا کی ہیں۔</p>
<p>سینیٹر مشاہد حسین نے سی پیک کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے لیے ایک بہتر مستقبل کا ضامن قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196677</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Feb 2023 14:38:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/061312062f66532.jpg?r=143837" type="image/jpeg" medium="image" height="452" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/061312062f66532.jpg?r=143837"/>
        <media:title>سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے بہتر مستقبل کا ضامن ہے — فائل فوٹو بشکریہ جاوید حسین
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
