<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:57:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 16:57:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وائرل انفیکشنز کے شکار افراد میں نیورو بیماریاں ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196701/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک طویل اور جامع تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد متعدد بار مختلف وائرل انفیکشنز کا شکار بنتے ہیں، ان میں نیورو ڈیجنریٹو بیماریاں زیادہ تر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورو ڈیجنریٹو بیماریاں انسانی جسم کے مرکزی اعصابی حصے کو متاثر کرتی ہے جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی نے منسلک ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورو ڈیجنریٹو بیماریاں عام طور پر 6 بیماریوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے، تاہم اس میں مزید بیماریاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی بیماریوں میں زائمر، پارکنسن، ڈیمینشیا، ملٹی پل سلوروسس، اسپائنل مسلر اٹرافی اور لوئر باڈی ڈیزیز شامل ہیں، تاہم ان میں مزید بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں کو ذہنی اور اعصابی بیماریاں کہا جاتا ہے جو کہ یادداشت، سوچنے، بولنے، گھومنے، چلنے پھرنے اور زندگی کی معمولات کو متاثر کرتی ہیں اور ایسی بیماریوں کا اس وقت تک کوئی علاج دستتیاب نہیں، تاہم ماہرین صحت مختلف ادویات سے ان پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031672"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ مذکورہ بیماریاں زائد العمری کی وجہ سے ہوتی ہیں، تاہم ایک حالیہ جامع تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو افراد زندگی میں متعدد بار وائرل انفیکشنز کا شکار ہوتے ہیں ان مین ایسی بیماریاں زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cell.com/neuron/fulltext/S0896-6273(22)01147-3#secsectitle0105"&gt;&lt;strong&gt;نیورون&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں شائع تحقیق کے مطابق برطانوی ماہرین نے نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں اور وائرل انفیکشن میں تعلق دریافت کرنے کے لیے فن لینڈ اور برطانیہ کے 8 لاکھ افراد کے میڈیکل ڈیٹا کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے پہلے ڈیٹا کی مدد سے ان افراد کو ڈھونڈ نکالا جو نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں میں مبتلا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ماہرین نے ان تمام افراد کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لے کر یہ بات جاننے کی کوشش کی کہ ان میں سے کتنے افراد مذکورہ بیماریوں کا شکار بننے سے قبل وائرل انفیکشنز کا علاج کروا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے دیکھا کہ فن لینڈ کے جو افراد نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں میں مبتلا تھے، ان میں سے زیادہ تتر افراد 45 مختلف وائرل انفیکشنز کا علاج کرواتے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ماہرین نے برطانیہ کے افراد کا میڈیکل ریکارڈ بھی جانچا اور پایا کہ وہاں کے نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں میں مبتلا افراد بھی 22 مختلف وائرل انفیکشنز کا علاج کرواتے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا کہ وائرل انفیکشنز کا اعصابی اور دماغی بیماریوں سے گہرا تعلق ہے اور مختلف وائرس انسانی جسم پر حملہ کرکے اس کے اعصاب کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے مشورہ دیا کہ مذکوورہ معاملے پر مزید تحقیق کرنی چاہئیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC8711773/"&gt;&lt;strong&gt;219&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے زائد وائرل انفیکشنز ایسے ہیں جو انسانی جسم پر حملہ کرکے اسے بیمار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ بعض انفیکشنز ایسے ہوتے ہیں جو انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک طویل اور جامع تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد متعدد بار مختلف وائرل انفیکشنز کا شکار بنتے ہیں، ان میں نیورو ڈیجنریٹو بیماریاں زیادہ تر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔</p>
<p>نیورو ڈیجنریٹو بیماریاں انسانی جسم کے مرکزی اعصابی حصے کو متاثر کرتی ہے جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی نے منسلک ہوتا ہے۔</p>
<p>نیورو ڈیجنریٹو بیماریاں عام طور پر 6 بیماریوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے، تاہم اس میں مزید بیماریاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>ایسی بیماریوں میں زائمر، پارکنسن، ڈیمینشیا، ملٹی پل سلوروسس، اسپائنل مسلر اٹرافی اور لوئر باڈی ڈیزیز شامل ہیں، تاہم ان میں مزید بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں کو ذہنی اور اعصابی بیماریاں کہا جاتا ہے جو کہ یادداشت، سوچنے، بولنے، گھومنے، چلنے پھرنے اور زندگی کی معمولات کو متاثر کرتی ہیں اور ایسی بیماریوں کا اس وقت تک کوئی علاج دستتیاب نہیں، تاہم ماہرین صحت مختلف ادویات سے ان پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1031672"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ مذکورہ بیماریاں زائد العمری کی وجہ سے ہوتی ہیں، تاہم ایک حالیہ جامع تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو افراد زندگی میں متعدد بار وائرل انفیکشنز کا شکار ہوتے ہیں ان مین ایسی بیماریاں زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔</p>
<p>طبی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cell.com/neuron/fulltext/S0896-6273(22)01147-3#secsectitle0105"><strong>نیورون</strong></a> میں شائع تحقیق کے مطابق برطانوی ماہرین نے نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں اور وائرل انفیکشن میں تعلق دریافت کرنے کے لیے فن لینڈ اور برطانیہ کے 8 لاکھ افراد کے میڈیکل ڈیٹا کا جائزہ لیا۔</p>
<p>ماہرین نے پہلے ڈیٹا کی مدد سے ان افراد کو ڈھونڈ نکالا جو نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں میں مبتلا رہے تھے۔</p>
<p>بعد ازاں ماہرین نے ان تمام افراد کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لے کر یہ بات جاننے کی کوشش کی کہ ان میں سے کتنے افراد مذکورہ بیماریوں کا شکار بننے سے قبل وائرل انفیکشنز کا علاج کروا چکے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے دیکھا کہ فن لینڈ کے جو افراد نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں میں مبتلا تھے، ان میں سے زیادہ تتر افراد 45 مختلف وائرل انفیکشنز کا علاج کرواتے رہے تھے۔</p>
<p>اس کے بعد ماہرین نے برطانیہ کے افراد کا میڈیکل ریکارڈ بھی جانچا اور پایا کہ وہاں کے نیورو ڈیجنریٹو بیماریوں میں مبتلا افراد بھی 22 مختلف وائرل انفیکشنز کا علاج کرواتے رہے تھے۔</p>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا کہ وائرل انفیکشنز کا اعصابی اور دماغی بیماریوں سے گہرا تعلق ہے اور مختلف وائرس انسانی جسم پر حملہ کرکے اس کے اعصاب کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے مشورہ دیا کہ مذکوورہ معاملے پر مزید تحقیق کرنی چاہئیے۔</p>
<p>یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC8711773/"><strong>219</strong></a> سے زائد وائرل انفیکشنز ایسے ہیں جو انسانی جسم پر حملہ کرکے اسے بیمار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ بعض انفیکشنز ایسے ہوتے ہیں جو انتہائی خطرناک بھی ثابت ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196701</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Feb 2023 22:46:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/062219452408c45.jpg?r=222003" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/062219452408c45.jpg?r=222003"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
