<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:39:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:39:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران: لڑاکا طیاروں کے زیرِ زمین اڈے کا افتتاح</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196783/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کی فوج نے لڑاکا طیاروں کے لیے اپنے پہلے زیر زمین اڈے کا افتتاح کردیا ہے جنہیں بنکروں کو تباہ کرنے والے امریکی بموں کے ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1735990/iran-unveils-underground-base-for-fighter-jets"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے بتایا کہ اس زیر زمین اڈے کا نام ’عقاب 44‘ ہے جس میں ڈرونز سمیت ہر قسم کے لڑاکا اور بمبار طیاروں کو کھڑا کرنے کی سہولت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبررساں ادارے نے بیس کے اندر کی تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی ہیں، رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ملک کے اہم ترین فضائی اڈوں میں سے ایک ہے جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں سے لیس جنگی جہاز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں واضح طورپر نہیں بتایا گیا کہ یہ اڈہ کہاں واقع ہے لیکن سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ پہاڑوں کے نیچے سینکڑوں میٹر کی گہرائی میں واقع ہے اور اسٹریٹجک امریکی بمباروں کے بموں کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ یہ افتتاح ایران کی جانب سے یوم فضائیہ منانے سے ایک روز پہلے کیا گیا ہے جو ہفتے کو 1979 کے اسلامی انقلاب کی 44 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ترقی کے عمل کا ایک حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری اور فوج کے کمانڈر اِن چیف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے بھی نئے قائم کردہ اڈے کا دورہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی آر این اے کی رپورٹ کے مطابق ’عقاب 44‘ ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ برسوں میں بنائے گئے زیر زمین فضائی اڈوں میں سے ایک ہے جو ملکی فضائیہ کے لیےجنگی حکمت عملی کے تحت تعمیر کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پریس ٹی وی‘ کے مطابق عبدالرحیم موسوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’عقاب-44‘ ایران کی ایئر فورس کے مشترکہ اڈوں میں سے ایک ہے جہاں سے پائلٹ کے ساتھ اور پائلٹ کے بغیر خودکار طیارے بھی اپنا مشن انجام دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری میڈیا کے مطابق ایران اس طرح کے ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی طیارے تیار کر سکتا ہے جن کی عکاسی امریکا اور اسرائیل نے اپنی حالی فوجی مشقوں کے دوران کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل محمد باقری نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’اسرائیل سمیت ہمارے تمام دشمنوں کی جانب سے ایران پر کسی بھی حملے کا جواب ’عقاب 44‘ سمیت ہمارے متعدد فضائی اڈوں سے ملے گا‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کی فوج نے لڑاکا طیاروں کے لیے اپنے پہلے زیر زمین اڈے کا افتتاح کردیا ہے جنہیں بنکروں کو تباہ کرنے والے امریکی بموں کے ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1735990/iran-unveils-underground-base-for-fighter-jets"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے بتایا کہ اس زیر زمین اڈے کا نام ’عقاب 44‘ ہے جس میں ڈرونز سمیت ہر قسم کے لڑاکا اور بمبار طیاروں کو کھڑا کرنے کی سہولت موجود ہے۔</p>
<p>سرکاری خبررساں ادارے نے بیس کے اندر کی تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی ہیں، رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ملک کے اہم ترین فضائی اڈوں میں سے ایک ہے جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں سے لیس جنگی جہاز موجود ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں واضح طورپر نہیں بتایا گیا کہ یہ اڈہ کہاں واقع ہے لیکن سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ پہاڑوں کے نیچے سینکڑوں میٹر کی گہرائی میں واقع ہے اور اسٹریٹجک امریکی بمباروں کے بموں کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ یہ افتتاح ایران کی جانب سے یوم فضائیہ منانے سے ایک روز پہلے کیا گیا ہے جو ہفتے کو 1979 کے اسلامی انقلاب کی 44 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ترقی کے عمل کا ایک حصہ ہے۔</p>
<p>ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری اور فوج کے کمانڈر اِن چیف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے بھی نئے قائم کردہ اڈے کا دورہ کیا۔</p>
<p>آئی آر این اے کی رپورٹ کے مطابق ’عقاب 44‘ ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ برسوں میں بنائے گئے زیر زمین فضائی اڈوں میں سے ایک ہے جو ملکی فضائیہ کے لیےجنگی حکمت عملی کے تحت تعمیر کیے گئے ہیں۔</p>
<p>’پریس ٹی وی‘ کے مطابق عبدالرحیم موسوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’عقاب-44‘ ایران کی ایئر فورس کے مشترکہ اڈوں میں سے ایک ہے جہاں سے پائلٹ کے ساتھ اور پائلٹ کے بغیر خودکار طیارے بھی اپنا مشن انجام دیتے ہیں۔</p>
<p>سرکاری میڈیا کے مطابق ایران اس طرح کے ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جنگی طیارے تیار کر سکتا ہے جن کی عکاسی امریکا اور اسرائیل نے اپنی حالی فوجی مشقوں کے دوران کی تھی۔</p>
<p>جنرل محمد باقری نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’اسرائیل سمیت ہمارے تمام دشمنوں کی جانب سے ایران پر کسی بھی حملے کا جواب ’عقاب 44‘ سمیت ہمارے متعدد فضائی اڈوں سے ملے گا‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196783</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Feb 2023 12:00:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/0811441178e64d6.gif?r=114448" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/0811441178e64d6.gif?r=114448"/>
        <media:title>واضح طورپر نہیں بتایا گیا کہ یہ اڈہ کہاں واقع ہے—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
