<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 08:14:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 08:14:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ زلزلہ: حکومت کی امدادی سرگرمیوں پر شدید تنقید کے بعد ٹوئٹر بند</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196826/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ میں رواں ہفتے آنے والے تباہ کن زلزلے پر حکومتی امدادی کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی آن لائن تنقید کے بعد اب ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترکیہ بھر میں ٹوئٹر تک رسائی حاصل نہیں کی جا سکتی اور ٹوئٹر استعمال کرنے کے لیے وی پی این سروس استعمال کرنی پڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ادارے نیٹ بلاکس ڈاٹ او آر جی کے مطابق پہلے ٹوئٹر کو کنٹرول کیا گیا اور پھر تمام موبائل فون سروسز پر اس کو مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196800"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ بلاکس ڈاٹ او آر جی نے کہا کہ ٹوئٹر کی بندش سے پیر کو آنے والے خطرناک زلزلے کے بعد ریسکیو سروس متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، اس سے قبل ملک میں ایمرجنسی اور بڑے حادثات کے دوران ترکیہ میں سوشل میڈیا پر اس طرح کی پابندیاں عائد کیے جانے کی طویل تاریخ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کی پولیس نے زلزلوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ کرنے پر 18 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جہاں ان افراد نے زلزلے کے بعد کی حکومتی امدادی سرگرمیوں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو آنے والے 7.8شدت کے ہولناک زلزلے کے نتیجے میں ترکیہ اور شام میں اب تک 11ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196801"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ میں سوشل میڈیا میں صدر طیب اردوان کی حکومت کی امدادی سرگرمیوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے جہاں لوگ حکومت کی جانب سے ریسکیو کی ناکافی کوششوں کی شکایت کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دو دہائی سے برسر اقتدار اردوان کے دور حکومت میں آنے والی سب سے بڑی قدرتی آفت ہے جس سے اگلے انتخابات میں ان کی ایک مرتبہ پھر کامیابی کی امیدوں کو بڑا دھکا بھی لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی تک سرکاری سطح پر ٹوئٹر کی بندش کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی البتہ زلزلے میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے غلط معلومات پھیلانے پر کئی مرتبہ انتباہ جاری کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/haluklevent/status/1623347437388587010"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن رہنماؤں نے ٹوئٹر کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے مشہور راک اسٹار ہلوک لیونٹ کے سوشل میڈیا پر 72لاکھ فالووورز ہیں اور وہ اپنے غیرمنافع بخش ادارے کے ذریعے زلزلے کے خلاف امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ حصہ لے رہیں، انہوں نے ٹوئٹر کی بندش پر ٹوئٹ کی اب ہم آگے کیا کریں گے؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ میں رواں ہفتے آنے والے تباہ کن زلزلے پر حکومتی امدادی کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی آن لائن تنقید کے بعد اب ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند کردی گئی ہے۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترکیہ بھر میں ٹوئٹر تک رسائی حاصل نہیں کی جا سکتی اور ٹوئٹر استعمال کرنے کے لیے وی پی این سروس استعمال کرنی پڑ رہی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ادارے نیٹ بلاکس ڈاٹ او آر جی کے مطابق پہلے ٹوئٹر کو کنٹرول کیا گیا اور پھر تمام موبائل فون سروسز پر اس کو مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196800"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نیٹ بلاکس ڈاٹ او آر جی نے کہا کہ ٹوئٹر کی بندش سے پیر کو آنے والے خطرناک زلزلے کے بعد ریسکیو سروس متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، اس سے قبل ملک میں ایمرجنسی اور بڑے حادثات کے دوران ترکیہ میں سوشل میڈیا پر اس طرح کی پابندیاں عائد کیے جانے کی طویل تاریخ رہی ہے۔</p>
<p>ترکیہ کی پولیس نے زلزلوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ کرنے پر 18 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جہاں ان افراد نے زلزلے کے بعد کی حکومتی امدادی سرگرمیوں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔</p>
<p>پیر کو آنے والے 7.8شدت کے ہولناک زلزلے کے نتیجے میں ترکیہ اور شام میں اب تک 11ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196801"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ترکیہ میں سوشل میڈیا میں صدر طیب اردوان کی حکومت کی امدادی سرگرمیوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے جہاں لوگ حکومت کی جانب سے ریسکیو کی ناکافی کوششوں کی شکایت کررہے ہیں۔</p>
<p>یہ دو دہائی سے برسر اقتدار اردوان کے دور حکومت میں آنے والی سب سے بڑی قدرتی آفت ہے جس سے اگلے انتخابات میں ان کی ایک مرتبہ پھر کامیابی کی امیدوں کو بڑا دھکا بھی لگا ہے۔</p>
<p>ابھی تک سرکاری سطح پر ٹوئٹر کی بندش کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی البتہ زلزلے میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے غلط معلومات پھیلانے پر کئی مرتبہ انتباہ جاری کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/haluklevent/status/1623347437388587010"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اپوزیشن رہنماؤں نے ٹوئٹر کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>ترکیہ کے مشہور راک اسٹار ہلوک لیونٹ کے سوشل میڈیا پر 72لاکھ فالووورز ہیں اور وہ اپنے غیرمنافع بخش ادارے کے ذریعے زلزلے کے خلاف امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ حصہ لے رہیں، انہوں نے ٹوئٹر کی بندش پر ٹوئٹ کی اب ہم آگے کیا کریں گے؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196826</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Feb 2023 00:30:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/0900205609bc33a.jpg?r=002314" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/0900205609bc33a.jpg?r=002314"/>
        <media:title>— اے ایف پی فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
