<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:54:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:54:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک غلط جواب پر گوگل کو 100 ارب ڈالرز کا نقصان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1196867/</link>
      <description>&lt;p&gt;حال ہی میں متعارف کروائی گئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی پر مبنی  چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ کی ایک غلطی کی وجہ سے گوگل کو 100 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی پر مبنی چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ کی جانب سے ایک اشتہاری ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تھی، اشتہار میں چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ سے کہا گیا تھا کہ وہ 9 سالہ بچے کو جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی نئی کامیابیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس پر بارڈ نے متعدد جوابات فراہم کیے ان میں سے ایک جواب میں کہا گیا کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے سب سے پہلے نظام شمسی سے باہر کسی سیارے کی تصویر لی تھی، تاہم  چیٹ بوٹ بارڈ کا یہ جواب غلط تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Google/status/1622710355775393793"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے نظامِ شمسی سے باہر کسی سیارے کی تصویر  یورپین سدرن آبزرویٹری کے ویری لارج ٹیلی اسکوپ کے ذریعے 2004 میں لی گئی تھی، اس کی تصدیق امریکا کی خلائی ایجنسی ’ناسا‘ نے بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارڈ کی اس غلطی کے بعد غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق گوگل کے شیئرز میں 9 فیصد تک کمی آئی، یہ کمی گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں آنے والی مجموعی کمی سے بھی زیادہ بتائی جارہی ہے، یوں گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ کو ’الفا بیٹ کارپوریشن‘ کو ایک خطیر رقم کا نقصان ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے سب سے پہلے گوگل کے چیٹ بوٹ بارڈ کے اشتہار میں غلطی کی نشاندہی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 9 فروری کو گوگل نے مائیکرو سافٹ کی عالمی شہرت یافتہ چیٹ بوٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے مقابلے کے لیے ’بارڈ‘ کے نام سے اپنی جدید چیٹ بوٹ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیٹ جی پی ٹی کو سان فرانسسکو کی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے تیار کیا ہے جہاں مائیکروسافٹ کے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے تیار کردہ یہ مقبول ایپلی کیشن انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئے کئی زبانوں میں گفتگو میں مہارت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی اس سروس کا مقصد صارفین کو مختلف موضوعات پر تفصیلات آڈیو، ویڈیو، تصاویر اور دیگر ذرائع سے فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://twitter.com/Google/status/1622710355775393793"&gt;اکنامک ٹائمز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سینئر سافٹ ویئر تجزیہ کار گل لوریا کا کہنا تھا کہ گوگل گزشتہ کئی سالوں سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں مصروف عمل تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ کمپنی نے اپنی ٹیکنالوجی کے سرچ پروڈکٹ کو صحیح لاگو نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلط جواب کے نتیجے میں الفابیٹ کے حصص کی قیمتوں میں 9 فیصد کمی آئی جبکہ مارکیٹ ویلیو سے 100 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الفابیٹ نے ٹوئٹر پر چیٹ بوٹ بارڈ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’بارڈ‘ پیچیدہ موضوعات کو آسان الفاظ میں فراہم کرے گا تاکہ صارفین اسے سمجھ سکیں لیکن بارڈ کی غلطی کی وجہ سے اس کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل اور الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے 6 فروری کو ایک بلاگ پوسٹ میں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے سوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چیٹ بوٹ بارڈ دنیا کی تخلیقی معلومات اور صلاحیتوں کو ایک ساتھ یکجا کرکے آسان فارمیٹ میں فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ آپ جلد ہی  اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس فیچر گوگل سرچ پر دیکھیں گے جو پیچیدہ تفصیلات آسان طریقے یا الفاظ میں فراہم کرے گا، تاکہ آپ اسے فوری سمجھ سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حال ہی میں متعارف کروائی گئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی پر مبنی  چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ کی ایک غلطی کی وجہ سے گوگل کو 100 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔</p>
<p>آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی پر مبنی چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ کی جانب سے ایک اشتہاری ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تھی، اشتہار میں چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ سے کہا گیا تھا کہ وہ 9 سالہ بچے کو جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی نئی کامیابیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔</p>
<p>جس پر بارڈ نے متعدد جوابات فراہم کیے ان میں سے ایک جواب میں کہا گیا کہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے سب سے پہلے نظام شمسی سے باہر کسی سیارے کی تصویر لی تھی، تاہم  چیٹ بوٹ بارڈ کا یہ جواب غلط تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Google/status/1622710355775393793"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>سب سے پہلے نظامِ شمسی سے باہر کسی سیارے کی تصویر  یورپین سدرن آبزرویٹری کے ویری لارج ٹیلی اسکوپ کے ذریعے 2004 میں لی گئی تھی، اس کی تصدیق امریکا کی خلائی ایجنسی ’ناسا‘ نے بھی کی تھی۔</p>
<p>بارڈ کی اس غلطی کے بعد غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق گوگل کے شیئرز میں 9 فیصد تک کمی آئی، یہ کمی گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں آنے والی مجموعی کمی سے بھی زیادہ بتائی جارہی ہے، یوں گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ کو ’الفا بیٹ کارپوریشن‘ کو ایک خطیر رقم کا نقصان ہوا ہے۔</p>
<p>رائٹرز نے سب سے پہلے گوگل کے چیٹ بوٹ بارڈ کے اشتہار میں غلطی کی نشاندہی کی تھی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 9 فروری کو گوگل نے مائیکرو سافٹ کی عالمی شہرت یافتہ چیٹ بوٹ ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے مقابلے کے لیے ’بارڈ‘ کے نام سے اپنی جدید چیٹ بوٹ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>چیٹ جی پی ٹی کو سان فرانسسکو کی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے تیار کیا ہے جہاں مائیکروسافٹ کے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے تیار کردہ یہ مقبول ایپلی کیشن انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئے کئی زبانوں میں گفتگو میں مہارت رکھتی ہے۔</p>
<p>گوگل کی اس سروس کا مقصد صارفین کو مختلف موضوعات پر تفصیلات آڈیو، ویڈیو، تصاویر اور دیگر ذرائع سے فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196754"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی اخبار <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://twitter.com/Google/status/1622710355775393793">اکنامک ٹائمز</a></strong> کے مطابق سینئر سافٹ ویئر تجزیہ کار گل لوریا کا کہنا تھا کہ گوگل گزشتہ کئی سالوں سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں مصروف عمل تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ کمپنی نے اپنی ٹیکنالوجی کے سرچ پروڈکٹ کو صحیح لاگو نہیں کیا۔</p>
<p>غلط جواب کے نتیجے میں الفابیٹ کے حصص کی قیمتوں میں 9 فیصد کمی آئی جبکہ مارکیٹ ویلیو سے 100 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔</p>
<p>الفابیٹ نے ٹوئٹر پر چیٹ بوٹ بارڈ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’بارڈ‘ پیچیدہ موضوعات کو آسان الفاظ میں فراہم کرے گا تاکہ صارفین اسے سمجھ سکیں لیکن بارڈ کی غلطی کی وجہ سے اس کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔</p>
<p>گوگل اور الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے 6 فروری کو ایک بلاگ پوسٹ میں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے سوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ چیٹ بوٹ بارڈ دنیا کی تخلیقی معلومات اور صلاحیتوں کو ایک ساتھ یکجا کرکے آسان فارمیٹ میں فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ آپ جلد ہی  اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس فیچر گوگل سرچ پر دیکھیں گے جو پیچیدہ تفصیلات آسان طریقے یا الفاظ میں فراہم کرے گا، تاکہ آپ اسے فوری سمجھ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1196867</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Feb 2023 18:37:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/091519271ef725a.jpg?r=174410" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/091519271ef725a.jpg?r=174410"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
