<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:06:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:06:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>75 فیصد فلور ملز نے کوٹہ حاصل کرلیا، حکومتِ پنجاب کے ساتھ جاری تناؤ میں کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197048/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت پنجاب اور پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) کے درمیان جاری تناؤ میں کمی آگئی کیونکہ 75 فیصد سے زائد ملوں نے اپنا الاٹ کردہ کوٹہ حاصل کر لیا اور پیر کے بعد بھی اپنا کاروبار معمول کے مطابق جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1736613/over-75pc-of-mills-opt-for-wheat-quota-after-govt-bait"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق فلور ملز ایسوسی ایشن نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت پنجاب نے آٹے کو ضروری اشیا کی کیٹیگری میں شامل کیا تو پیر (کل) سے ہڑتال کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹے کو ضروری اشیا کی کیٹیگری میں شامل کرنے کا مطلب یہ تھا کہ نادہندہ ملر نہ صرف سبسڈی کی رقم واپس کرنے کے پابند ہوتے (صرف لاہور کے ملرز یومیہ 30 کروڑ روپے سے زائد سبسڈی وصول کر رہے ہیں) بلکہ انہیں مجرمانہ کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکومت پنجاب نہ صرف اپنے مؤقف پر قائم رہی بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ اگر کوئی ملز ہڑتال کر رہی ہیں تو ان کا کوٹہ ہڑتال نہ کرنے والی ملوں کو دے دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمے کے ایک سرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ ’صوبائی ضروریات کو اس طرح آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے اور بلاتعطل فراہمی یقینی بنے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194744"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلور ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ آٹے کو اس کیٹیگری میں ڈالنے کا مطلب یہ ہوگا کہ مقررہ حدود (ضلع یا صوبے) سے باہر تجارت 25 من تک محدود ہوگی اور جو بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کی نہ صرف اجناس ضبط کرلی جائیں گی بلکہ وہ سبسڈی کی رقم بھی واپس کرے گا اور مجرمانہ الزامات کا بھی سامنا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن افتخار مٹو نے 13 فروری سے ہڑتال کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ایسوسی ایشن کے لیے ناقابل قبول ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آٹے کی نقل و حمل پر پابندی اور ’سیل ٹریکنگ سسٹم‘ کو ختم کرے تاکہ ملرز ہڑتال پر نہ جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز افتخار مٹو نے ایک پریس ریلیز میں ان کے مسائل کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ملرز نے ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1168919"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر حکومتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مجرمانہ کارروائی کے ممکنہ اقدام نے ایسوسی ایشن کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایسوسی ایشن کے اس مؤقف سے عدم اتفاق کرنے والے ملرز نے اس کی اصل وجہ نئے سیکریٹری خوراک کی آمد کو قرار دیا جن کی شوگر ملرز کے ساتھ بطور صوبائی کین کمشنر پنجہ آزمائی کی تاریخ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ابتدائی چند روز میں ہی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئے قوانین متعارف کرائے اور ڈیفالٹرز کے لیے سزاؤں میں اضافہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ان بااثر لوگوں کی ملوں کی فہرست حاصل کی جو سرکاری کوٹے کی فروخت اور نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں، فیلڈ اسٹاف کے ذریعے اس کی تصدیق کی اور ان تمام ملوں پر چھاپے مارے، ان کا ریکارڈ چیک کیا اور کوٹے میں دھاندلی میں ملوث پائے جانے والی ملز کو سیل کردیا، اس تمام عمل میں کچھ بڑے کھلاڑی بھی زد میں آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن فوری طورپر ان کی حمایت میں آکھڑی ہوگئی اور اسی وجہ سے ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی لیکن چونکہ سارا تنازع ذاتی تھا اس لیے زیادہ تر ملرز نے ساتھ نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت پنجاب اور پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) کے درمیان جاری تناؤ میں کمی آگئی کیونکہ 75 فیصد سے زائد ملوں نے اپنا الاٹ کردہ کوٹہ حاصل کر لیا اور پیر کے بعد بھی اپنا کاروبار معمول کے مطابق جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1736613/over-75pc-of-mills-opt-for-wheat-quota-after-govt-bait"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق فلور ملز ایسوسی ایشن نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت پنجاب نے آٹے کو ضروری اشیا کی کیٹیگری میں شامل کیا تو پیر (کل) سے ہڑتال کی جائے گی۔</p>
<p>آٹے کو ضروری اشیا کی کیٹیگری میں شامل کرنے کا مطلب یہ تھا کہ نادہندہ ملر نہ صرف سبسڈی کی رقم واپس کرنے کے پابند ہوتے (صرف لاہور کے ملرز یومیہ 30 کروڑ روپے سے زائد سبسڈی وصول کر رہے ہیں) بلکہ انہیں مجرمانہ کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑتا۔</p>
<p>تاہم حکومت پنجاب نہ صرف اپنے مؤقف پر قائم رہی بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ اگر کوئی ملز ہڑتال کر رہی ہیں تو ان کا کوٹہ ہڑتال نہ کرنے والی ملوں کو دے دیا جائے گا۔</p>
<p>محکمے کے ایک سرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ ’صوبائی ضروریات کو اس طرح آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے اور بلاتعطل فراہمی یقینی بنے گی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194744"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فلور ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ آٹے کو اس کیٹیگری میں ڈالنے کا مطلب یہ ہوگا کہ مقررہ حدود (ضلع یا صوبے) سے باہر تجارت 25 من تک محدود ہوگی اور جو بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کی نہ صرف اجناس ضبط کرلی جائیں گی بلکہ وہ سبسڈی کی رقم بھی واپس کرے گا اور مجرمانہ الزامات کا بھی سامنا کرے گا۔</p>
<p>چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن افتخار مٹو نے 13 فروری سے ہڑتال کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ایسوسی ایشن کے لیے ناقابل قبول ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آٹے کی نقل و حمل پر پابندی اور ’سیل ٹریکنگ سسٹم‘ کو ختم کرے تاکہ ملرز ہڑتال پر نہ جائیں۔</p>
<p>گزشتہ روز افتخار مٹو نے ایک پریس ریلیز میں ان کے مسائل کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ملرز نے ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1168919"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بظاہر حکومتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مجرمانہ کارروائی کے ممکنہ اقدام نے ایسوسی ایشن کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔</p>
<p>تاہم ایسوسی ایشن کے اس مؤقف سے عدم اتفاق کرنے والے ملرز نے اس کی اصل وجہ نئے سیکریٹری خوراک کی آمد کو قرار دیا جن کی شوگر ملرز کے ساتھ بطور صوبائی کین کمشنر پنجہ آزمائی کی تاریخ رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے ابتدائی چند روز میں ہی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئے قوانین متعارف کرائے اور ڈیفالٹرز کے لیے سزاؤں میں اضافہ کردیا۔</p>
<p>انہوں نے ان بااثر لوگوں کی ملوں کی فہرست حاصل کی جو سرکاری کوٹے کی فروخت اور نقصان پہنچانے میں ملوث ہیں، فیلڈ اسٹاف کے ذریعے اس کی تصدیق کی اور ان تمام ملوں پر چھاپے مارے، ان کا ریکارڈ چیک کیا اور کوٹے میں دھاندلی میں ملوث پائے جانے والی ملز کو سیل کردیا، اس تمام عمل میں کچھ بڑے کھلاڑی بھی زد میں آگئے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن فوری طورپر ان کی حمایت میں آکھڑی ہوگئی اور اسی وجہ سے ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی لیکن چونکہ سارا تنازع ذاتی تھا اس لیے زیادہ تر ملرز نے ساتھ نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197048</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Feb 2023 15:20:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/121137211932cbd.jpg?r=152118" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/121137211932cbd.jpg?r=152118"/>
        <media:title>چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن افتخار مٹو نے 13 فروری سے ہڑتال کی دھمکی دی تھی —فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
