<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 03:45:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 03:45:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تربت میں بلوچستان کے دوسرے وومن پولیس اسٹیشن کا افتتاح</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197087/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پہلے وومن پولیس اسٹیشن کے قیام کے تقریباً ایک سال بعد اتوار کو دوسرا بھی کھول دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1736866/turbat-gets-womens-police-station"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق انسپکٹر مسیرہ بلوچ کو ضلع کیچ کے انتظامی مرکز تربت شہر میں واقع نئے افتتاح شدہ تھانے کا اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) تعینات کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالانکہ پاکستان کے پہلے خواتین پولیس اسٹیشن کا افتتاح سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے 25 جنوری 1994 کو اسلام آباد میں کیا تھا لیکن بلوچستان کے پہلے آل وومن پولیس اسٹیشن کے دروازے گزشتہ سال مارچ میں کوئٹہ میں کھلے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر میں بلوچستان پولیس نے تربت اور گوادر میں دو نئے وومن پولیس اسٹیشن کھولنے اور 280 خواتین پولیس اہلکاروں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ صوبائی ٹریفک پولیس نے بھی کچھ خواتین کی خدمات حاصل کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) عبدالخالق شیخ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ نیا تھانہ خواتین کو آسانی سے اپنی شکایات درج کرانے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ اسلام خواتین کو ان کے حقوق اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اور ’تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے جنگوں میں حصہ لیا اور کاروبار کیا‘، کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کی خواتین قومی تعمیر میں حصہ نہ لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خواتین پولیس افسران ہنر اور کارکردگی میں مردوں سے کم نہیں ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی جی بلوچستان نے بتایا کہ بلوچستان میں 403 خواتین پولیس اہلکاروں میں سے 46 ضلع کیچ میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی تقریب میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس مسرور عالم کولاچی، کیچ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد بلوچ، کیچ کے قائم مقام ڈپٹی کمشنر عاقل کریم بلوچ اور دیگر پولیس حکام نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پہلے وومن پولیس اسٹیشن کے قیام کے تقریباً ایک سال بعد اتوار کو دوسرا بھی کھول دیا گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1736866/turbat-gets-womens-police-station">رپورٹ</a></strong> کے مطابق انسپکٹر مسیرہ بلوچ کو ضلع کیچ کے انتظامی مرکز تربت شہر میں واقع نئے افتتاح شدہ تھانے کا اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) تعینات کیا گیا ہے۔</p>
<p>حالانکہ پاکستان کے پہلے خواتین پولیس اسٹیشن کا افتتاح سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے 25 جنوری 1994 کو اسلام آباد میں کیا تھا لیکن بلوچستان کے پہلے آل وومن پولیس اسٹیشن کے دروازے گزشتہ سال مارچ میں کوئٹہ میں کھلے تھے۔</p>
<p>نومبر میں بلوچستان پولیس نے تربت اور گوادر میں دو نئے وومن پولیس اسٹیشن کھولنے اور 280 خواتین پولیس اہلکاروں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ صوبائی ٹریفک پولیس نے بھی کچھ خواتین کی خدمات حاصل کی ہیں۔</p>
<p>بلوچستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) عبدالخالق شیخ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ نیا تھانہ خواتین کو آسانی سے اپنی شکایات درج کرانے میں مدد دے گا۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ اسلام خواتین کو ان کے حقوق اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اور ’تاریخ گواہ ہے کہ خواتین نے جنگوں میں حصہ لیا اور کاروبار کیا‘، کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کی خواتین قومی تعمیر میں حصہ نہ لیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خواتین پولیس افسران ہنر اور کارکردگی میں مردوں سے کم نہیں ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔</p>
<p>آئی جی بلوچستان نے بتایا کہ بلوچستان میں 403 خواتین پولیس اہلکاروں میں سے 46 ضلع کیچ میں ہیں۔</p>
<p>افتتاحی تقریب میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس مسرور عالم کولاچی، کیچ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد بلوچ، کیچ کے قائم مقام ڈپٹی کمشنر عاقل کریم بلوچ اور دیگر پولیس حکام نے بھی شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197087</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Feb 2023 10:08:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بہرام بلوچ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/13100511e5c22f1.jpg?r=100548" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/13100511e5c22f1.jpg?r=100548"/>
        <media:title>آئی جی بلوچستان نے بتایا کہ بلوچستان میں 403 خواتین پولیس اہلکاروں میں سے 46 ضلع کیچ میں ہیں—تصویر: بشریٰ رند ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
