<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 02:39:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 02:39:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے فضا میں پرواز کرنے والی ایک اور پُراسرار شے کو مار گرایا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197096/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی فوج کے لڑاکا طیاروں نے کینیڈا کی سرحد کے قریب واقع جھیل ہورون کے اوپر پرواز کرنے والی ایک اور ناقابل شناخت شے کو مار گرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/us-officials-believe-flying-objects-over-alaska-canada-were-balloons-schumer-2023-02-12/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک مشتبہ چینی جاسوس غبارے کو امریکی میزائل کے ذریعے نشانہ بنانے کے بعد یہ اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے، پینٹاگون نے کہا کہ اس تازہ ترین واقعے نے شمالی امریکا کی سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فضائیہ کے جنرل گلین وان ہرک (جنہیں امریکی فضائی حدود کی حفاظت کا کام سونپا گیا ہے) نے صحافیوں کو بتایا کہ فوج تاحال اس بات کی شناخت نہیں کر سکی ہے کہ فضا میں پرواز کرنے والی یہ تینوں چیزیں کیا تھیں، کیسے ہوا میں معلق تھیں اور کہاں سے آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (نوراد) اور ناردرن کمانڈ کے سربراہ گلین وان ہرک نے کہا کہ ’ہم کسی وجہ سے انہیں غبارے نہیں بلکہ (آبجیکٹ) چیز کہہ رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلین وان ہرک نے کہا کہ ’ہم کسی خلائی مخلوق کے امکان کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے، ہم چاہیں گے کہ انٹیلی جنس کمیونٹی اور انسداد انٹیلی جنس کمیونٹی اس بات کا پتا لگائے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک اور دفاعی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ اشیا ماورائے زمین تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پینٹاگون بریگیڈیئر جنرل پیٹرک رائڈر نے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ ’صدر جو بائیڈن کے حکم پر ایک امریکی ایف-16 لڑاکا طیارے نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 42 منٹ پر امریکا-کینیڈا کی سرحد پر واقع جھیل ہورون کے اوپر پرواز کرنے والی اس چیز کو مار گرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ نامعلوم چیز فضا میں 20 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہی تھی جو فوج کے لیے خطرے کا باعث نہیں تھی لیکن یہ کمرشل ائیر ٹریفک کے راستے میں مداخلت کر سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیز ساخت میں آکٹونل (8 کونوں والی) دکھائی دیتی تھی جس میں تاریں لٹکی ہوئی تھیں مگر ان سے بظاہر کچھ لٹکا ہوا دکھائی نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون نے کہا کہ بظاہر یہ وہی چیز تھی جو حال ہی میں مونٹانا میں حساس فوجی مقامات کے قریب پائی گئی تھی جس کے بعد امریکی فضائی حدود کو بند کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلین وان ہرک نے صحافیوں کو بتایا کہ فوج اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہورون جھیل پر گرائی گئی اس نامعلوم چیز کے ملبے کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تازہ واقعے نے حالیہ ہفتوں کے دوران شمالی امریکا کے آسمانوں پر نمودار ہونے والی غیر معمولی چیزوں کے بارے میں نئے سوالات اٹھا دیے ہیں جن کے سبب امریکا اور چین کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں 4 فروری کو امریکی فوج کے ایک لڑاکا طیارے نے جنوبی کیرولینا کے ساحل پر ایک مشتبہ چینی جاسوس غبارے کو مار گرایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں امریکی صدر جو بائیڈن کے احکامات پر امریکی لڑاکا طیارے نے الاسکا کے شمالی ساحل پر پرواز کرنے والی ایک اور نامعلوم اور پراسرار شے کو مار گرایا تھا جبکہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1197052/"&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ روز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; امریکی لڑاکا طیارے نے کینیڈا کے اوپر فضا میں پرواز کرنے والی ایک اور نامعلوم شےکو مار گرایا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی فوج کے لڑاکا طیاروں نے کینیڈا کی سرحد کے قریب واقع جھیل ہورون کے اوپر پرواز کرنے والی ایک اور ناقابل شناخت شے کو مار گرایا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/us-officials-believe-flying-objects-over-alaska-canada-were-balloons-schumer-2023-02-12/"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک مشتبہ چینی جاسوس غبارے کو امریکی میزائل کے ذریعے نشانہ بنانے کے بعد یہ اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے، پینٹاگون نے کہا کہ اس تازہ ترین واقعے نے شمالی امریکا کی سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر کردیا ہے۔</p>
<p>امریکی فضائیہ کے جنرل گلین وان ہرک (جنہیں امریکی فضائی حدود کی حفاظت کا کام سونپا گیا ہے) نے صحافیوں کو بتایا کہ فوج تاحال اس بات کی شناخت نہیں کر سکی ہے کہ فضا میں پرواز کرنے والی یہ تینوں چیزیں کیا تھیں، کیسے ہوا میں معلق تھیں اور کہاں سے آرہی ہیں۔</p>
<p>نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (نوراد) اور ناردرن کمانڈ کے سربراہ گلین وان ہرک نے کہا کہ ’ہم کسی وجہ سے انہیں غبارے نہیں بلکہ (آبجیکٹ) چیز کہہ رہے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گلین وان ہرک نے کہا کہ ’ہم کسی خلائی مخلوق کے امکان کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے، ہم چاہیں گے کہ انٹیلی جنس کمیونٹی اور انسداد انٹیلی جنس کمیونٹی اس بات کا پتا لگائے‘۔</p>
<p>تاہم ایک اور دفاعی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ اشیا ماورائے زمین تھیں۔</p>
<p>ترجمان پینٹاگون بریگیڈیئر جنرل پیٹرک رائڈر نے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ ’صدر جو بائیڈن کے حکم پر ایک امریکی ایف-16 لڑاکا طیارے نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 42 منٹ پر امریکا-کینیڈا کی سرحد پر واقع جھیل ہورون کے اوپر پرواز کرنے والی اس چیز کو مار گرایا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ نامعلوم چیز فضا میں 20 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہی تھی جو فوج کے لیے خطرے کا باعث نہیں تھی لیکن یہ کمرشل ائیر ٹریفک کے راستے میں مداخلت کر سکتی تھی۔</p>
<p>ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیز ساخت میں آکٹونل (8 کونوں والی) دکھائی دیتی تھی جس میں تاریں لٹکی ہوئی تھیں مگر ان سے بظاہر کچھ لٹکا ہوا دکھائی نہیں دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پینٹاگون نے کہا کہ بظاہر یہ وہی چیز تھی جو حال ہی میں مونٹانا میں حساس فوجی مقامات کے قریب پائی گئی تھی جس کے بعد امریکی فضائی حدود کو بند کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>گلین وان ہرک نے صحافیوں کو بتایا کہ فوج اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہورون جھیل پر گرائی گئی اس نامعلوم چیز کے ملبے کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔</p>
<p>اس تازہ واقعے نے حالیہ ہفتوں کے دوران شمالی امریکا کے آسمانوں پر نمودار ہونے والی غیر معمولی چیزوں کے بارے میں نئے سوالات اٹھا دیے ہیں جن کے سبب امریکا اور چین کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔</p>
<p>قبل ازیں 4 فروری کو امریکی فوج کے ایک لڑاکا طیارے نے جنوبی کیرولینا کے ساحل پر ایک مشتبہ چینی جاسوس غبارے کو مار گرایا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں امریکی صدر جو بائیڈن کے احکامات پر امریکی لڑاکا طیارے نے الاسکا کے شمالی ساحل پر پرواز کرنے والی ایک اور نامعلوم اور پراسرار شے کو مار گرایا تھا جبکہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1197052/"><strong>گزشتہ روز</strong></a> امریکی لڑاکا طیارے نے کینیڈا کے اوپر فضا میں پرواز کرنے والی ایک اور نامعلوم شےکو مار گرایا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197096</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Feb 2023 16:33:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/1312034463967ae.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="350" width="584">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/1312034463967ae.jpg"/>
        <media:title>4 فروری کو امریکی لڑاکا طیارے نے ایک مشتبہ چینی جاسوس غبارے کو مار گرایا تھا —فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
