<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:13:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:13:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں 566 پوائنٹس کی کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197173/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس 566 پوائنٹس کی کمی کے بعد بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو کے ایس ای-100 انڈیکس 1.36 فیصد یا 566 پوائنٹس کی کمی کے بعد بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے اس کمی کی وجہ میکرو اکنامکس کے کمزور اشاریوں اور آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی زیر التوا قسط کے اجرا حوالے سے غیریقینی صورتحال کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز کے رضا جعفری نے کہا کہ کم ہوتی ہوئی ترسیلات زر اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے کئی صنعتوں کے منافع کی شرح متاثر ہوئی ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ مارچ میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل شرح سود میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے آئی ایم ایف کے 6.5 ارب ڈالر کے قرض کے نویں جائزے کو کامیاب بنانے کے لیے گیس کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے کچھ صنعتوں کے لیے ٹیرف میں 34 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک اس وقت شدید مالی بحران سے دوچار  ہے جہاں مہنگائی ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہوتے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر 2.9 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں جو صرف 3 ماہ کی درآمدات کا احاطہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197159"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے ڈالر کے ذخائر کو مزید کمی سے بچانے کے لیے حکومت نے درآمدات پر پابندیاں عائد کردی ہیں جس کی وجہ سے کئی صنعتوں کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کی پیداوار کا زیادہ تر انحصار درآمدات پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں کئی کمپنیوں نے اپنے آپریشنز بند کردیے ہیں یا پھر اپنی پیداوار کو کم کردیا ہے جس کے نتیجے میں لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے نویں جائزے کی شدید ضرورت ہے جہاں اس پروگرام کا آغاز 2019 میں کیا گیا تھا اور 1.2 ارب ڈالر کی اس قسط کی بحالی کے بعد پاکستان کے دیگر عالمی اداروں سے امداد کے راستے بھی کھل جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197140"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آئی ایم ایف سے یہ معاہدہ گزشتہ سال اکتوبر سے زیر التوا ہے کیونکہ دونوں فریقین کسی متفقہ نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں جہاں ان مذاکرات کا محور معاشی اصلاحات ہیں جس میں توانائی کے شعبے اور ایکسچینج ریٹ کی آزادی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کا وفد پاکستانی حکام سے 10 دن تک مذاکرات کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی واپس لوٹ گیا تھا، البتہ دونوں فریقین نے آن لائن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف وفد کی روانگی کے بعد وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی ہیں اور 170 ارب روپے کے ٹیکس اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سمیت معاشی اصلاحات کو فوری طور پر نافذ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس 566 پوائنٹس کی کمی کے بعد بند ہوا۔</p>
<p>پیر کو کے ایس ای-100 انڈیکس 1.36 فیصد یا 566 پوائنٹس کی کمی کے بعد بند ہوا۔</p>
<p>ماہرین نے اس کمی کی وجہ میکرو اکنامکس کے کمزور اشاریوں اور آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی زیر التوا قسط کے اجرا حوالے سے غیریقینی صورتحال کو قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197139"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز کے رضا جعفری نے کہا کہ کم ہوتی ہوئی ترسیلات زر اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے کئی صنعتوں کے منافع کی شرح متاثر ہوئی ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ مارچ میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل شرح سود میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>حکومت نے آئی ایم ایف کے 6.5 ارب ڈالر کے قرض کے نویں جائزے کو کامیاب بنانے کے لیے گیس کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے کچھ صنعتوں کے لیے ٹیرف میں 34 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>ملک اس وقت شدید مالی بحران سے دوچار  ہے جہاں مہنگائی ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہوتے جارہے ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوکر 2.9 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں جو صرف 3 ماہ کی درآمدات کا احاطہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197159"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ملک کے ڈالر کے ذخائر کو مزید کمی سے بچانے کے لیے حکومت نے درآمدات پر پابندیاں عائد کردی ہیں جس کی وجہ سے کئی صنعتوں کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کی پیداوار کا زیادہ تر انحصار درآمدات پر ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں کئی کمپنیوں نے اپنے آپریشنز بند کردیے ہیں یا پھر اپنی پیداوار کو کم کردیا ہے جس کے نتیجے میں لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔</p>
<p>ملک کو آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے نویں جائزے کی شدید ضرورت ہے جہاں اس پروگرام کا آغاز 2019 میں کیا گیا تھا اور 1.2 ارب ڈالر کی اس قسط کی بحالی کے بعد پاکستان کے دیگر عالمی اداروں سے امداد کے راستے بھی کھل جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197140"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم آئی ایم ایف سے یہ معاہدہ گزشتہ سال اکتوبر سے زیر التوا ہے کیونکہ دونوں فریقین کسی متفقہ نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں جہاں ان مذاکرات کا محور معاشی اصلاحات ہیں جس میں توانائی کے شعبے اور ایکسچینج ریٹ کی آزادی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کا وفد پاکستانی حکام سے 10 دن تک مذاکرات کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی واپس لوٹ گیا تھا، البتہ دونوں فریقین نے آن لائن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف وفد کی روانگی کے بعد وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی ہیں اور 170 ارب روپے کے ٹیکس اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سمیت معاشی اصلاحات کو فوری طور پر نافذ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197173</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Feb 2023 20:04:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (تلقین زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/14184921f49ab32.jpg?r=200454" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/14184921f49ab32.jpg?r=200454"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/141850001d006c3.jpg?r=200454" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/141850001d006c3.jpg?r=200454"/>
        <media:title>انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز کے رضا جعفری نے کہا کہ کم ہوتی ہوئی ترسیلات زر اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے کئی صنعتوں کے منافع کی شرح متاثر ہوئی ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
