<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 03:43:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Apr 2026 03:43:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ ہائیکورٹ نے جیو ٹی وی کو پی ایس ایل میچز نشر کرنے سے روک دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197209/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ نے جیو ٹی وی نیٹ ورک اور جیو سوپر کو 17 فروری تک پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز نشر کرنے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1737203/geo-network-restrained-from-airing-psl-matches-till-feb-17"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے جیو ٹی وی نیٹ ورک کی پیرنٹ کمپنی انڈیپینڈنٹ میڈیا کارپوریشن (آئی ایم سی) اور دیگر فریقین کو آئندہ سماعت کے لیے نوٹسز بھی جاری کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ نے پی ایس ایل کے آٹھویں ایڈیشن کے نشریاتی حقوق سے متعلق اے آر وائی کمیونیکیشن اور انڈیپینڈنٹ میوزک گروپ لمیٹڈ (آئی ایم جی ایل یا جیو سوپر) کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹینڈر کے عمل میں پی ٹی وی اور اے آر وائی کمیونیکیشن مشترکہ طور پر کامیاب بولی دہندگان کے طور پر سامنے آئے اور اس کے مطابق انہیں لائسنس جاری کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی بی نے 9 جنوری 2022 کو لائسنس جاری کر کے پی ٹی وی، اے اسپورٹس اور اے آر وائی کو پی ایس ایل 7 اور 8 ایڈیشن نشر کرنےکی اجازت دی تھی اور لائسنس یافتگان کی رضا مندی سے اضافی ریونیو کے لیے ٹین اسپورٹس کو ذیلی لائسنس دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ اب پی ٹی وی اپنے لائسنس یافتہ شراکت اے آر وائی کمیونیکیشن کی رضامندی کے بغیر آئی ایم جی ایل کو ذیلی لائسنس دینا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے آئی ایم سی اور آئی ایم جی ایل کو ان کے ٹی وی چینلز کے ذریعے براہ راست پی ایس ایل کے موجودہ آٹھویں ایڈیشن کو نشر کرنے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ عدالت نے اے آر وائی کمیونیکیشن اور پی ٹی وی کو ان کی نشریات میں جیو ٹی وی کے خلاف مخالفانہ/ہتک آمیز بیانات دینے سے بھی روکا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ ہائی کورٹ نے جیو ٹی وی نیٹ ورک اور جیو سوپر کو 17 فروری تک پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز نشر کرنے سے روک دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1737203/geo-network-restrained-from-airing-psl-matches-till-feb-17">رپورٹ</a></strong> کے مطابق جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے جیو ٹی وی نیٹ ورک کی پیرنٹ کمپنی انڈیپینڈنٹ میڈیا کارپوریشن (آئی ایم سی) اور دیگر فریقین کو آئندہ سماعت کے لیے نوٹسز بھی جاری کردیے۔</p>
<p>بینچ نے پی ایس ایل کے آٹھویں ایڈیشن کے نشریاتی حقوق سے متعلق اے آر وائی کمیونیکیشن اور انڈیپینڈنٹ میوزک گروپ لمیٹڈ (آئی ایم جی ایل یا جیو سوپر) کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر سماعت کی۔</p>
<p>عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹینڈر کے عمل میں پی ٹی وی اور اے آر وائی کمیونیکیشن مشترکہ طور پر کامیاب بولی دہندگان کے طور پر سامنے آئے اور اس کے مطابق انہیں لائسنس جاری کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پی سی بی نے 9 جنوری 2022 کو لائسنس جاری کر کے پی ٹی وی، اے اسپورٹس اور اے آر وائی کو پی ایس ایل 7 اور 8 ایڈیشن نشر کرنےکی اجازت دی تھی اور لائسنس یافتگان کی رضا مندی سے اضافی ریونیو کے لیے ٹین اسپورٹس کو ذیلی لائسنس دیا گیا تھا۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ اب پی ٹی وی اپنے لائسنس یافتہ شراکت اے آر وائی کمیونیکیشن کی رضامندی کے بغیر آئی ایم جی ایل کو ذیلی لائسنس دینا چاہتا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں عدالت نے آئی ایم سی اور آئی ایم جی ایل کو ان کے ٹی وی چینلز کے ذریعے براہ راست پی ایس ایل کے موجودہ آٹھویں ایڈیشن کو نشر کرنے سے روک دیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ عدالت نے اے آر وائی کمیونیکیشن اور پی ٹی وی کو ان کی نشریات میں جیو ٹی وی کے خلاف مخالفانہ/ہتک آمیز بیانات دینے سے بھی روکا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197209</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Feb 2023 13:39:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/151146423e6c44f.jpg?r=133956" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/151146423e6c44f.jpg?r=133956"/>
        <media:title>— تصویر: جیو ٹی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
