<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:35:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:35:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ریاست مسی سپی میں فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، مشتبہ شخص گرفتار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197376/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کی جنوبی ریاست مسی سیپی میں ایک مسلح شخص نے گولی مار کر 6 افراد کو ہلاک کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں مقامی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’مسیسیپی پولیس نے کہا کہ ایک شخص نے ارکابوٹلا نامی قصبے کے اسٹور پر ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پھر قریبی گھر میں جا کر ایک خاتون کو قتل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے بعد میں کاؤنٹی شیرف کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ وہ خاتون ملزم کی سابقہ بیوی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیرف بریڈ لانس نے سی این این کو بتایا کہ پولیس نے ملزم کی گاڑی کا اس کے گھر تک پیچھا کیا اور دیکھا کہ وہاں بھی دو افراد کو قتل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ پانچواں اور چھٹا قتل ایک مرد اور ایک عورت کا اس کے پڑوس والے گھر میں ہوا جنہیں گولی ماری گئی تھی اور ممکنہ طور پر یہ بھی مشتبہ شخص کا کام تھا جسے فرار ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیٹ کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے فیس بک پوسٹ میں مبینہ قاتل کی شناخت 52 سالہ رچرڈ ڈیل کرم کے طور پر کی اور کہا کہ ملزم حراست میں ہے اور اس پر فرسٹ ڈگری قتل کا الزام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ٹوئٹ میں مسیسیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز نے کہا کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے، اس وقت ہمارا ماننا ہے کہ اس نے یہ وارداتیں اکیلے کی ہیں لیکن اس کا مقصد معلوم نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/tatereeves/status/1626679946016948224"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ہونے والا فائرنگ کا یہ ہلاکت خیز واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک شخص نے شمالی ریاست مشی گن میں ایک یونیورسٹی کیمپس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’بس بہت ہوگیا، ابھی نئے سال کو شروع ہوئے صرف 48 روز ہوئے ہیں اور ہمارے ملک میں فائرنگ کے 73 بڑے واقعات ہوچکے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ تعزیت اور دعائیں کافی نہیں، گن وائلنس (بندوق سے کیا گیا تشدد) ایک وبا بن چکا ہے اور کانگریس کو اب لازمی کچھ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کیلیفورنیا اور ایشیائی امریکی کمیونٹی دونوں میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دو ہلاکت خیز اجتماعی فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ خطرناک بندوقوں پر عائد پابندی کو دوبارہ نافذ کیا جائے جو اس سے پہلے 1994 سے 2004 تک لاگو تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایوان میں معمولی فرق سے اکثریت رکھنے والے ریپبلکنز اس کے مخالف اور آئین کے تحت اسلحہ رکھنے کے حق کا دفاع کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بندوق سے ہوئے پر تشدد واقعات کا ریکارڈ رکھنے والے ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ برس امریکا میں بندوق کی گولی لگنے سے 44 ہزار ہلاکتیں ہوئی، جس میں نصف قتل، حادثاتی یا اپنے دفاع کے واقعات جبکہ نصف خود کشیاں تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کی جنوبی ریاست مسی سیپی میں ایک مسلح شخص نے گولی مار کر 6 افراد کو ہلاک کر دیا۔</p>
<p>خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں مقامی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’مسیسیپی پولیس نے کہا کہ ایک شخص نے ارکابوٹلا نامی قصبے کے اسٹور پر ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پھر قریبی گھر میں جا کر ایک خاتون کو قتل کر دیا۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے بعد میں کاؤنٹی شیرف کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ وہ خاتون ملزم کی سابقہ بیوی تھی۔</p>
<p>شیرف بریڈ لانس نے سی این این کو بتایا کہ پولیس نے ملزم کی گاڑی کا اس کے گھر تک پیچھا کیا اور دیکھا کہ وہاں بھی دو افراد کو قتل کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197147"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ پانچواں اور چھٹا قتل ایک مرد اور ایک عورت کا اس کے پڑوس والے گھر میں ہوا جنہیں گولی ماری گئی تھی اور ممکنہ طور پر یہ بھی مشتبہ شخص کا کام تھا جسے فرار ہونے کی کوشش کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔</p>
<p>ٹیٹ کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے فیس بک پوسٹ میں مبینہ قاتل کی شناخت 52 سالہ رچرڈ ڈیل کرم کے طور پر کی اور کہا کہ ملزم حراست میں ہے اور اس پر فرسٹ ڈگری قتل کا الزام ہے۔</p>
<p>ایک ٹوئٹ میں مسیسیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز نے کہا کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے، اس وقت ہمارا ماننا ہے کہ اس نے یہ وارداتیں اکیلے کی ہیں لیکن اس کا مقصد معلوم نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/tatereeves/status/1626679946016948224"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>جمعہ کو ہونے والا فائرنگ کا یہ ہلاکت خیز واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک شخص نے شمالی ریاست مشی گن میں ایک یونیورسٹی کیمپس پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p>
<p>جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’بس بہت ہوگیا، ابھی نئے سال کو شروع ہوئے صرف 48 روز ہوئے ہیں اور ہمارے ملک میں فائرنگ کے 73 بڑے واقعات ہوچکے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195953"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ تعزیت اور دعائیں کافی نہیں، گن وائلنس (بندوق سے کیا گیا تشدد) ایک وبا بن چکا ہے اور کانگریس کو اب لازمی کچھ کرنا چاہیے۔</p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کیلیفورنیا اور ایشیائی امریکی کمیونٹی دونوں میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دو ہلاکت خیز اجتماعی فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے۔</p>
<p>امریکی صدر نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ خطرناک بندوقوں پر عائد پابندی کو دوبارہ نافذ کیا جائے جو اس سے پہلے 1994 سے 2004 تک لاگو تھی۔</p>
<p>تاہم ایوان میں معمولی فرق سے اکثریت رکھنے والے ریپبلکنز اس کے مخالف اور آئین کے تحت اسلحہ رکھنے کے حق کا دفاع کرتے ہیں۔</p>
<p>بندوق سے ہوئے پر تشدد واقعات کا ریکارڈ رکھنے والے ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ برس امریکا میں بندوق کی گولی لگنے سے 44 ہزار ہلاکتیں ہوئی، جس میں نصف قتل، حادثاتی یا اپنے دفاع کے واقعات جبکہ نصف خود کشیاں تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197376</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Feb 2023 13:54:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/181343555034852.jpg?r=134926" type="image/jpeg" medium="image" height="498" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/181343555034852.jpg?r=134926"/>
        <media:title>ٹیٹ کاؤنٹی شیرف نے مبینہ قاتل کی شناخت 52 سالہ رچرڈ ڈیل کرم کے طور پر کی—تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
