<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:47:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:47:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افریقی یونین کے اجلاس سے اسرائیلی سفیر کو باہر نکال دیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197411/</link>
      <description>&lt;p&gt;افریقی یونین (اے یو) کے دو روزہ سربراہی اجلاس سے ایک اسرائیلی سفارت کار کو  اسمبلی سے باہر نکال دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افریقی رہنما اجلاس کے لیے ایتھوپیا کے دارالحکومت میں جمع ہوئے، جس کا مقصد ایک کمزور تجارتی معاہدے کو شروع کرنا اور مسلح تنازعات اور خوراک کے بحران کے چیلنجز پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع ہونے والی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1737939/israeli-envoy-expelled-from-african-union-summit"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اے یو کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ جس سفارت کار کو ’اجلاس چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا اسے اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو نہیں کیا گیا تھا، ایک ناقابل منتقل دعوت نامہ صرف افریقی یونین میں اسرائیل کے سفیر الیلی ادماسو کو جاری کیا گیا تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے کہا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ مذکورہ فرد اس طرح سے شائستگی کا غلط استعمال کرے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197274"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افریقی یونین کے سربراہی اجلاس سے ایک سینئر سفارت کار کو نکالے جانے کی ’شدید‘ مذمت کرتے ہوئے اسرائیل نے قدیم دشمن ایران پر الجزائر اور جنوبی افریقہ کی مدد سے یہ اقدام اٹھانے کا الزام لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ گارڈز اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل برائے افریقہ، شیرون بارلی کو عدیس ابابا میں ہونے والی اے یو اسمبلی سے باہر لے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واقعے کو ’سنگین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیرون بارلی ’انٹری ٹیگ کے ساتھ ایک تسلیم شدہ مبصر‘ تھے، تاہم اس دعوے کی افریقی یونین کے عہدیدار نے تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے ترجمان نے کہا کہ افریقی یونین کو الجزائر اور جنوبی افریقہ جیسی انتہا پسند ریاستوں کی ایک چھوٹی تعداد کے ہاتھوں یرغمال بنتے دیکھنا افسوسناک ہے، جو نفرت پر مبنی اور ایران کے زیر کنٹرول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172582"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے اصرار کیا کہ افریقی ریاستوں کو ’ان اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے، جو افریقی یونین کی تحریک اور پورے براعظم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے اسرائیل کے ان الزامات کے بارے میں پوچھا گیا کہ جنوبی افریقہ اور الجزائر اس اقدام کے پیچھے ہیں، تو جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے ترجمان ونسنٹ میگونیا نے سربراہی اجلاس میں اے ایف پی کو کہا کہ ’انہیں اپنے دعوے کو ثابت کرنا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے دہائیوں کی سفارتی کوششوں کے بعد 2021 میں افریقی یونین میں مبصر کا درجہ حاصل کیا تھا، جس پر جنوبی افریقہ اور الجزائر سمیت طاقتور اراکین کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افریقی یونین (اے یو) کے دو روزہ سربراہی اجلاس سے ایک اسرائیلی سفارت کار کو  اسمبلی سے باہر نکال دیا گیا۔</p>
<p>افریقی رہنما اجلاس کے لیے ایتھوپیا کے دارالحکومت میں جمع ہوئے، جس کا مقصد ایک کمزور تجارتی معاہدے کو شروع کرنا اور مسلح تنازعات اور خوراک کے بحران کے چیلنجز پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع ہونے والی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1737939/israeli-envoy-expelled-from-african-union-summit">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اے یو کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ جس سفارت کار کو ’اجلاس چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا اسے اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو نہیں کیا گیا تھا، ایک ناقابل منتقل دعوت نامہ صرف افریقی یونین میں اسرائیل کے سفیر الیلی ادماسو کو جاری کیا گیا تھا‘۔</p>
<p>عہدیدار نے کہا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ مذکورہ فرد اس طرح سے شائستگی کا غلط استعمال کرے گا۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197274"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>افریقی یونین کے سربراہی اجلاس سے ایک سینئر سفارت کار کو نکالے جانے کی ’شدید‘ مذمت کرتے ہوئے اسرائیل نے قدیم دشمن ایران پر الجزائر اور جنوبی افریقہ کی مدد سے یہ اقدام اٹھانے کا الزام لگایا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ گارڈز اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل برائے افریقہ، شیرون بارلی کو عدیس ابابا میں ہونے والی اے یو اسمبلی سے باہر لے جا رہے ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واقعے کو ’سنگین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیرون بارلی ’انٹری ٹیگ کے ساتھ ایک تسلیم شدہ مبصر‘ تھے، تاہم اس دعوے کی افریقی یونین کے عہدیدار نے تردید کی ہے۔</p>
<p>وزارت کے ترجمان نے کہا کہ افریقی یونین کو الجزائر اور جنوبی افریقہ جیسی انتہا پسند ریاستوں کی ایک چھوٹی تعداد کے ہاتھوں یرغمال بنتے دیکھنا افسوسناک ہے، جو نفرت پر مبنی اور ایران کے زیر کنٹرول ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172582"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان نے اصرار کیا کہ افریقی ریاستوں کو ’ان اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے، جو افریقی یونین کی تحریک اور پورے براعظم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘</p>
<p>جب ان سے اسرائیل کے ان الزامات کے بارے میں پوچھا گیا کہ جنوبی افریقہ اور الجزائر اس اقدام کے پیچھے ہیں، تو جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے ترجمان ونسنٹ میگونیا نے سربراہی اجلاس میں اے ایف پی کو کہا کہ ’انہیں اپنے دعوے کو ثابت کرنا چاہیے‘۔</p>
<p>اسرائیل نے دہائیوں کی سفارتی کوششوں کے بعد 2021 میں افریقی یونین میں مبصر کا درجہ حاصل کیا تھا، جس پر جنوبی افریقہ اور الجزائر سمیت طاقتور اراکین کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197411</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Feb 2023 14:21:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/19102944b9bf55b.jpg?r=142110" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/19102944b9bf55b.jpg?r=142110"/>
        <media:title>افریقی یونین کے سربراہی اجلاس میں سے  ایک اسرائیلی سفارت کار کو اسمبلی سے باہر نکال دیا گیا — تصویر: والا نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
