<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 11:42:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 11:42:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امیروں پر ٹیکس لگائیں اورغریبوں کو سبسڈی دیں، آئی ایم ایف کا پاکستان سے مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197450/</link>
      <description>&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/aA7YfAL1PLc?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ملک کی معیشت بہتر کرنا چاہتا ہے تو اسے یقینی بنانا ہوگا ہے کہ زیادہ آمدنی والے ٹیکس ادا کریں اور سبسڈی صرف غریبوں کو ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1738112/tax-the-rich-subsidise-the-poor-imf-asks-pakistan"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر  کرسٹیا لینا جارجیوا نے جرمنی کے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میرا دل پاکستانی عوام کے ساتھ ہے، وہ سیلاب سے تباہ ہوئے ہیں جس نے ملک کی ایک تہائی آبادی کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس سے پاکستان ایک ملک کے طور پر کام کرنے کے قابل بنے، اور کسی ایسی خطرناک صورتحال پر نہ جائے جہاں اسے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی ضرورت پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/dw_hotspotasia/status/1626718132340682752"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ میں زور دینا چاہتی ہوں کہ 2 چیزوں پر توجہ دیں، جس میں نمبر ایک ٹیکس محصولات ہیں، جو لوگ سرکاری اور نجی شعبے میں اچھے پیسے کماتے ہیں انہیں معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے، دوسرا سبسڈیز صرف ضرورت مند لوگوں کو ہی ملنا چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ آئی ایم ایف بہت واضح ہے کہ پاکستان میں غریبوں کو تحفظ ملے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ امیروں کو سبسڈی سے فائدہ ملے، غریبوں کو اس سے فائدہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جو رواں ماہ کے اوائل میں  آئی ایم ایف کا وفد پاکستانی حکام سے 10 دن تک مذاکرات کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی واپس لوٹ گیا تھا، البتہ دونوں فریقین نے آن لائن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، شدید معاشی بحران کے شکار پاکستان کو فنڈز کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف سے نویں جائزے پر اتفاق کے بعد پروگرام کی بحالی سے پاکستان کو 6.5ارب ڈالر کے پروگرام میں سے 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے کا امکان ہے جس کا معاہدہ جون 2019 میں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر گر کر تقریباً 3 ارب ڈالر کے قریب ہیں، جن سے بمشکل 3 ہفتوں کی درآمدات ہوسکتی ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کے دوبارہ شروع ہونے سے پاکستان کے لیے فنڈنگ ​​کی دیگر راستے بھی کھل جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت ٹیکس اقدامات پر عمل درآمد اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے وقت کے خلاف دوڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں فنانس سپلیمنٹری بل 2023 پیش کیا، جس میں 170 ارب روپے اضافی وصول کرنے کے اقداما تجویز کیے گئے تاکہ آئی ایم ایف کی آخری پیشگی شرط کو پورا کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے پاکستان کو تمام اقدامات پر عمل کرنے کے لیے یکم مارچ کی ڈیڈ لائن دی ہے تاہم 115 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات کا بڑا حصہ پہلے ہی 14 فروری سے ایس آر اوز کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/aA7YfAL1PLc?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ملک کی معیشت بہتر کرنا چاہتا ہے تو اسے یقینی بنانا ہوگا ہے کہ زیادہ آمدنی والے ٹیکس ادا کریں اور سبسڈی صرف غریبوں کو ملے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1738112/tax-the-rich-subsidise-the-poor-imf-asks-pakistan"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر  کرسٹیا لینا جارجیوا نے جرمنی کے نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میرا دل پاکستانی عوام کے ساتھ ہے، وہ سیلاب سے تباہ ہوئے ہیں جس نے ملک کی ایک تہائی آبادی کو متاثر کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس سے پاکستان ایک ملک کے طور پر کام کرنے کے قابل بنے، اور کسی ایسی خطرناک صورتحال پر نہ جائے جہاں اسے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی ضرورت پڑے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/dw_hotspotasia/status/1626718132340682752"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ میں زور دینا چاہتی ہوں کہ 2 چیزوں پر توجہ دیں، جس میں نمبر ایک ٹیکس محصولات ہیں، جو لوگ سرکاری اور نجی شعبے میں اچھے پیسے کماتے ہیں انہیں معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے، دوسرا سبسڈیز صرف ضرورت مند لوگوں کو ہی ملنا چاہئیں۔</p>
<p>منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ آئی ایم ایف بہت واضح ہے کہ پاکستان میں غریبوں کو تحفظ ملے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ امیروں کو سبسڈی سے فائدہ ملے، غریبوں کو اس سے فائدہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>آئی ایم ایف سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جو رواں ماہ کے اوائل میں  آئی ایم ایف کا وفد پاکستانی حکام سے 10 دن تک مذاکرات کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی واپس لوٹ گیا تھا، البتہ دونوں فریقین نے آن لائن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، شدید معاشی بحران کے شکار پاکستان کو فنڈز کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197227"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئی ایم ایف سے نویں جائزے پر اتفاق کے بعد پروگرام کی بحالی سے پاکستان کو 6.5ارب ڈالر کے پروگرام میں سے 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے کا امکان ہے جس کا معاہدہ جون 2019 میں ہوا تھا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر گر کر تقریباً 3 ارب ڈالر کے قریب ہیں، جن سے بمشکل 3 ہفتوں کی درآمدات ہوسکتی ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کے دوبارہ شروع ہونے سے پاکستان کے لیے فنڈنگ ​​کی دیگر راستے بھی کھل جائیں گے۔</p>
<p>حکومت ٹیکس اقدامات پر عمل درآمد اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے وقت کے خلاف دوڑ رہی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں فنانس سپلیمنٹری بل 2023 پیش کیا، جس میں 170 ارب روپے اضافی وصول کرنے کے اقداما تجویز کیے گئے تاکہ آئی ایم ایف کی آخری پیشگی شرط کو پورا کیا جاسکے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے پاکستان کو تمام اقدامات پر عمل کرنے کے لیے یکم مارچ کی ڈیڈ لائن دی ہے تاہم 115 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات کا بڑا حصہ پہلے ہی 14 فروری سے ایس آر اوز کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197450</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Feb 2023 10:55:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/2009333476dfa03.jpg?r=094852" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/2009333476dfa03.jpg?r=094852"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
