<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 22:43:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 22:43:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چائے کی پتی بنانے والی 2 برطانوی کمپنیوں کو کینیا میں جنسی استحصال کے الزامات کا سامنا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197517/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ کی چائے کی پتی بنانے والی 2 کمپنیوں کو کینیا کے باغات میں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1738299/british-tea-firms-face-sex-abuse-claims-in-kenya"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق کمپنیوں پر عائد جنسی زیادتی کے یہ سنگین الزامات برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی خفیہ تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی براڈکاسٹر نے اپنی ویب سائٹ پر رپورٹ کیا کہ کئی برسوں تک 2 برطانوی کمپنیوں کی زیر ملکیت رہنے والے کینیا کے چائے کے فارمز  پر کام کرنے والی 70 سے زائد خواتین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے سپروائزرز انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کینیا کے ایک کھیت کا ذکر کیا گیا جو کہ اس وقت برطانیہ کی گھریلو سامان کی بڑی کمپنی یونی لیور کی ملکیت تھا جب کہ رپورٹ میں ایک باغ کا ذکر کیا گیا جو چائے کی پتی بنانے والے گروپ جیمز فِنلے اینڈ کمپنی کی ملکیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1008847"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نے متاثرین سے بات کی جس کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے پاس منیجرز کے جنسی مطالبات تسلیم کرنے یا ملازمت سے ہاتھ دھونے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، اس گھناؤنے عمل کے دوران ایک خاتون کو مبینہ طور پر سپروائزر سے خطرناک بیماری ایچ آئی وی منتقل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خفیہ طور پر بنائی گئی ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ مقامی مالکان نے بی بی سی کی خفیہ رپورٹر پر جنسی تعلقات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، یونی لیور نے کہا کہ اسے بی بی سی کے پروگرام میں عائد کیے گئے الزامات پر شدید صدمہ پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس نے چائے کی صنعت سے وابستہ خواتین کے خلاف جنسی اور صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے گزشتہ برسوں کے دوران سخت محنت کی ہے، اس سلسلے میں کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1105582"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونی لیور نے مزید کہا کہ بہت مایوسی ہوئی کہ کمپنی کی جانب سے کیے گئے اقدامات بی بی سی کی جانب سے سامنے لائے گئے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائیویٹ ایکویٹی گروپ کی ملکیت لپٹن ٹیز اینڈ انفیوژنز کی چیف ایگزیکٹو ناتھالی روز نے کہا کہ کمپنی ان الزامات سے صدمے کا شکار اور مایوس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے ان منیجرز کو جن پر الزامات تھے، انہیں فوری طور پر معطل کر دیا ہے اور مکمل آزادانہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ کی چائے کی پتی بنانے والی 2 کمپنیوں کو کینیا کے باغات میں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات کا سامنا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1738299/british-tea-firms-face-sex-abuse-claims-in-kenya">رپورٹ</a></strong> کے مطابق کمپنیوں پر عائد جنسی زیادتی کے یہ سنگین الزامات برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی خفیہ تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>برطانوی براڈکاسٹر نے اپنی ویب سائٹ پر رپورٹ کیا کہ کئی برسوں تک 2 برطانوی کمپنیوں کی زیر ملکیت رہنے والے کینیا کے چائے کے فارمز  پر کام کرنے والی 70 سے زائد خواتین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے سپروائزرز انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کینیا کے ایک کھیت کا ذکر کیا گیا جو کہ اس وقت برطانیہ کی گھریلو سامان کی بڑی کمپنی یونی لیور کی ملکیت تھا جب کہ رپورٹ میں ایک باغ کا ذکر کیا گیا جو چائے کی پتی بنانے والے گروپ جیمز فِنلے اینڈ کمپنی کی ملکیت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1008847"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بی بی سی نے متاثرین سے بات کی جس کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے پاس منیجرز کے جنسی مطالبات تسلیم کرنے یا ملازمت سے ہاتھ دھونے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، اس گھناؤنے عمل کے دوران ایک خاتون کو مبینہ طور پر سپروائزر سے خطرناک بیماری ایچ آئی وی منتقل ہوگئی۔</p>
<p>خفیہ طور پر بنائی گئی ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ مقامی مالکان نے بی بی سی کی خفیہ رپورٹر پر جنسی تعلقات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، یونی لیور نے کہا کہ اسے بی بی سی کے پروگرام میں عائد کیے گئے الزامات پر شدید صدمہ پہنچا ہے۔</p>
<p>گروپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس نے چائے کی صنعت سے وابستہ خواتین کے خلاف جنسی اور صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے گزشتہ برسوں کے دوران سخت محنت کی ہے، اس سلسلے میں کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1105582"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یونی لیور نے مزید کہا کہ بہت مایوسی ہوئی کہ کمپنی کی جانب سے کیے گئے اقدامات بی بی سی کی جانب سے سامنے لائے گئے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے۔</p>
<p>پرائیویٹ ایکویٹی گروپ کی ملکیت لپٹن ٹیز اینڈ انفیوژنز کی چیف ایگزیکٹو ناتھالی روز نے کہا کہ کمپنی ان الزامات سے صدمے کا شکار اور مایوس ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے ان منیجرز کو جن پر الزامات تھے، انہیں فوری طور پر معطل کر دیا ہے اور مکمل آزادانہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197517</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Feb 2023 15:57:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/21143436e13cb8d.jpg?r=155657" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/21143436e13cb8d.jpg?r=155657"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/211440029e27c72.jpg?r=155657" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/211440029e27c72.jpg?r=155657"/>
        <media:title>رپورٹ میں ایک باغ کا ذکر کیا گیا جو چائے کی پتی بنانے والے گروپ جیمز فنلے اینڈ کمپنی کی ملکیت ہے — فوٹو: بی بی سی اسکرین گریب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
