<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 18:45:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 18:45:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>5 ماہ کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کی شرح پہلی بار 40 فیصد سے متجاوز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197718/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں ہفتے کے اختتام پر ہفتہ وار مہنگائی 5 ماہ سے زائد عرصے کے دوران 40 فیصد سے تجاوز کر گئی جس میں بڑا حصہ پیاز، مرغی کے گوشت، انڈوں، چاول، سگریٹس اور ایندھن کی قیمتوں کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1739004/weekly-inflation-crosses-40pc-for-first-time-in-five-months"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق حالانکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے لیکن کیلوں، چکن، چینی، خوردنی تیل، گیس اور سگریٹ کے مہنگا ہونے کی وجہ سے یہ اب بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/02/63f93d8d24fce.jpg'  alt=' &amp;mdash;گراف: ریحان احمد ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—گراف: ریحان احمد&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے نتیجے میں سینسیٹیو پرائس انڈیکس کی پیمائش کردہ مختصر مدت کی مہنگائی 23 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 41.54 فیصد تک پہنچ گئی جو اس سے پہلے والے ہفتے میں 38.42 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں یہ اضافہ سالانہ بنیاد پر 8 ستمبر 2022 کو ختم ہونے والے ہفتے کے بعد سب سے زیادہ ہے جب ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 42.7 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور ساتھ ہی یہ 15 ستمبر کے بعد سے پہلی مرتبہ 40 فیصد سے بڑھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197340"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ ایک ہفتے پہلے کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح میں ہفتہ وار بنیادوں پر 2.8 فیصد سے کم ہو کر 2.78 فیصد ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں شمار کی گئی 51 اشیا میں سے 33 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 6 کی قیمت کم ہوئی جبکہ 12 اشیا کی قیمتیں برقرار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر جائزہ ہفتے کے دوران جن اشیا کی قیمتوں میں ایک سال قبل کے اسی ہفتے کے مقابلے میں اضافہ ہوا اس میں پیاز 372 فیصد، سگریٹ 164.7 فیصد، گیس 108.38 فیصد، چکن 85.7 فیصد، ڈیزل 81.36 فیصد، انڈے 75.81 فیصد، اری 6/9 چاول 74.41 فیصد، باسمتی کا ٹوٹا چاول 74.16 فیصد، کیلے 72.22 فیصد، دھلی مونگ کی دال 70.39 فیصد اور پیٹرول 69.87 فیصد مہنگا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس سالانہ اعتبار سے جن اشیا کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ان میں ٹماٹر 67.93 فیصد، پسی لال مرچ 7.42 فیصد اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے بجلی کے نرخوں میں 6.64 فیصد کم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196404"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ہفتہ وار بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ تبدیلی دیکھی گئی اس میں گیس کی قیمت (کم آمدنی والے طبقے کیلئے) 108.4 فیصد، سگریٹ 76.45 فیصد، کیلے 6.67 فیصد، چکن 5.27 فیصد، چینی 3.37 فیصد، خوردنی تیل 5 لیٹر ٹن 3.07 فیصد، ڈھائی کلو ویجیٹیبل گھی 2.79 فیصد، ایک کلو ویجیٹیبل گھی 2.2 فیصد اور تیار چائے کی قیمتوں میں 1.09 فیصد تبدیلی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں وہ اشیا جن کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ان میں پیاز 13.84 فیصد، انڈے 5.5 فیصد، ٹماٹر 4.23 فیصد، لہسن 3.03 فیصد، ایل پی جی 0.18 فیصد اور چنے کی دال کی قیمت 0.21 فیصد کم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس کی پیمائش کردہ مہنگائی کی شرح جنوری میں 27.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی تاہم آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت سخت اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے معیشت کے مستحکم ہونے اور مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں ہفتے کے اختتام پر ہفتہ وار مہنگائی 5 ماہ سے زائد عرصے کے دوران 40 فیصد سے تجاوز کر گئی جس میں بڑا حصہ پیاز، مرغی کے گوشت، انڈوں، چاول، سگریٹس اور ایندھن کی قیمتوں کا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1739004/weekly-inflation-crosses-40pc-for-first-time-in-five-months">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق حالانکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے لیکن کیلوں، چکن، چینی، خوردنی تیل، گیس اور سگریٹ کے مہنگا ہونے کی وجہ سے یہ اب بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/02/63f93d8d24fce.jpg'  alt=' &mdash;گراف: ریحان احمد ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—گراف: ریحان احمد</figcaption>
    </figure></p>
<p>جس کے نتیجے میں سینسیٹیو پرائس انڈیکس کی پیمائش کردہ مختصر مدت کی مہنگائی 23 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے میں سالانہ بنیاد پر 41.54 فیصد تک پہنچ گئی جو اس سے پہلے والے ہفتے میں 38.42 فیصد تھی۔</p>
<p>قیمتوں میں یہ اضافہ سالانہ بنیاد پر 8 ستمبر 2022 کو ختم ہونے والے ہفتے کے بعد سب سے زیادہ ہے جب ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 42.7 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور ساتھ ہی یہ 15 ستمبر کے بعد سے پہلی مرتبہ 40 فیصد سے بڑھی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197340"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>البتہ ایک ہفتے پہلے کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح میں ہفتہ وار بنیادوں پر 2.8 فیصد سے کم ہو کر 2.78 فیصد ہوگئی۔</p>
<p>اس میں شمار کی گئی 51 اشیا میں سے 33 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 6 کی قیمت کم ہوئی جبکہ 12 اشیا کی قیمتیں برقرار رہیں۔</p>
<p>زیر جائزہ ہفتے کے دوران جن اشیا کی قیمتوں میں ایک سال قبل کے اسی ہفتے کے مقابلے میں اضافہ ہوا اس میں پیاز 372 فیصد، سگریٹ 164.7 فیصد، گیس 108.38 فیصد، چکن 85.7 فیصد، ڈیزل 81.36 فیصد، انڈے 75.81 فیصد، اری 6/9 چاول 74.41 فیصد، باسمتی کا ٹوٹا چاول 74.16 فیصد، کیلے 72.22 فیصد، دھلی مونگ کی دال 70.39 فیصد اور پیٹرول 69.87 فیصد مہنگا ہوا۔</p>
<p>اس کے برعکس سالانہ اعتبار سے جن اشیا کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ان میں ٹماٹر 67.93 فیصد، پسی لال مرچ 7.42 فیصد اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے بجلی کے نرخوں میں 6.64 فیصد کم رہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196404"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسی طرح ہفتہ وار بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ تبدیلی دیکھی گئی اس میں گیس کی قیمت (کم آمدنی والے طبقے کیلئے) 108.4 فیصد، سگریٹ 76.45 فیصد، کیلے 6.67 فیصد، چکن 5.27 فیصد، چینی 3.37 فیصد، خوردنی تیل 5 لیٹر ٹن 3.07 فیصد، ڈھائی کلو ویجیٹیبل گھی 2.79 فیصد، ایک کلو ویجیٹیبل گھی 2.2 فیصد اور تیار چائے کی قیمتوں میں 1.09 فیصد تبدیلی دیکھی گئی۔</p>
<p>علاوہ ازیں وہ اشیا جن کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی ان میں پیاز 13.84 فیصد، انڈے 5.5 فیصد، ٹماٹر 4.23 فیصد، لہسن 3.03 فیصد، ایل پی جی 0.18 فیصد اور چنے کی دال کی قیمت 0.21 فیصد کم ہوئی۔</p>
<p>خیال رہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس کی پیمائش کردہ مہنگائی کی شرح جنوری میں 27.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی تاہم آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت سخت اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے معیشت کے مستحکم ہونے اور مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197718</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Feb 2023 08:08:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/25080401691dd2a.jpg?r=080548" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/25080401691dd2a.jpg?r=080548"/>
        <media:title>شمار کی گئی 51 اشیا میں سے 33 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 6 کی قیمت کم ہوئی—تصویر: آن لائن/ملک سجاد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
