<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 16:48:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 16:48:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قصور: خاندانی دشمنی میں ماں بیٹا قتل، ورثا کا پولیس کےخلاف کئی گھنٹوں تک احتجاج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197745/</link>
      <description>&lt;p&gt;قصور کے گاؤں گہلن ہتھر میں دشمنی میں ایک خاتون اور اس کے بیٹے کو گولی مار کر قتل کردیا گیا جس کے بعد ورثا نے کئی گھنٹے تک میتوں ہمراہ احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1738974/double-murder-sparks-hours-long-protest-against-police-in-kasur"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ موٹرسائیکلوں پر سوار 8 ملزمان نے آسیہ بی بی اور ان کے بیٹے محمد احمد کو گولی مار کر اس وقت قتل کیا جب وہ قتل کے مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت سے گھر واپس جارہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ دشمنی کا آغاز 2005 میں ہوا تھا جس میں زمین کے تنازع پر اس خاندان کے 6 افراد کی جانیں جاچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہرے قتل کی واردات کے بعد لواحقین نے چونیاں بائی پاس پر جائے وقوع پر جمعرات کی رات احتجاج کیا جو جمعہ کی صبح تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1178096"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین کا کہنا تھا کہ واقعے سے ایک روز قبل اس خاندان نے مقامی پولیس میں ملزمان سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جو انہیں سماعت کے روز قتل کرنے کی دھمکی دے رہے تھے تاہم پولیس نے درخواست پر کان نہ دھرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس علاقے میں ایک ہفتے کے دوران یہ پولیس کے خلاف ہونے والا چوتھا مظاہرہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں مظاہرین نے چونیا تھانے کے باہر لاشیں رکھ کر لاقانونیت کے خلاف آواز اٹھائی اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے اور ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے روایتی طریقوں اور روایتی زبان استعمال کر کے مظاہرین کو بہلا پھسلا کر احتجاج ختم کرانے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1055154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقتولہ خاتون کی بیٹی آسیہ نفیس نے صحافیوں کو بتایا کہ دشمن ان کے داد، والد، بھائی ماں اور 2 چچاؤں کو قتل کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام عائد کیا کہ قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے پولیس سوگوار خاندان کو  چپ کرانے کی کوششیں کرتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے رویے سے تنگ آکر مظاہرین نے جمبر کے قریب ملتان روڈ بلاک کردیا، جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کے کئی ادوار ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکرات ناکام ہونے پر پولیس نے لاشیں چھینی، لاشوں کی بے حرمتی نے مظاہرین کو مزید مشتعل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں پولیس نے سڑک خالی کرانے کے لیے درجنوں مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا تا کہ مجمع پر دباؤ ڈالا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں صبح 5 بجے مذاکرات کا حتمی دور ہوا جس کے بعد پولیس نے زیر حراست افراد کو چھوڑ دیا، مظاہرین نے غیر قانونی طور پر زیر حراست رکھنے پر پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائیوں کے لیے لاشیں واپس ورثا کے حوالے کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جنازے اور اس کے بعد کوئی مظاہرہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری گاؤں میں تعینات رہی اور تحقیقات کا آغاز کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قصور کے گاؤں گہلن ہتھر میں دشمنی میں ایک خاتون اور اس کے بیٹے کو گولی مار کر قتل کردیا گیا جس کے بعد ورثا نے کئی گھنٹے تک میتوں ہمراہ احتجاج کیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1738974/double-murder-sparks-hours-long-protest-against-police-in-kasur">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ موٹرسائیکلوں پر سوار 8 ملزمان نے آسیہ بی بی اور ان کے بیٹے محمد احمد کو گولی مار کر اس وقت قتل کیا جب وہ قتل کے مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت سے گھر واپس جارہے تھے۔</p>
<p>مذکورہ دشمنی کا آغاز 2005 میں ہوا تھا جس میں زمین کے تنازع پر اس خاندان کے 6 افراد کی جانیں جاچکی ہیں۔</p>
<p>دہرے قتل کی واردات کے بعد لواحقین نے چونیاں بائی پاس پر جائے وقوع پر جمعرات کی رات احتجاج کیا جو جمعہ کی صبح تک جاری رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1178096"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مظاہرین کا کہنا تھا کہ واقعے سے ایک روز قبل اس خاندان نے مقامی پولیس میں ملزمان سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جو انہیں سماعت کے روز قتل کرنے کی دھمکی دے رہے تھے تاہم پولیس نے درخواست پر کان نہ دھرے۔</p>
<p>اس علاقے میں ایک ہفتے کے دوران یہ پولیس کے خلاف ہونے والا چوتھا مظاہرہ تھا۔</p>
<p>بعدازاں مظاہرین نے چونیا تھانے کے باہر لاشیں رکھ کر لاقانونیت کے خلاف آواز اٹھائی اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے اور ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔</p>
<p>پولیس نے روایتی طریقوں اور روایتی زبان استعمال کر کے مظاہرین کو بہلا پھسلا کر احتجاج ختم کرانے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1055154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مقتولہ خاتون کی بیٹی آسیہ نفیس نے صحافیوں کو بتایا کہ دشمن ان کے داد، والد، بھائی ماں اور 2 چچاؤں کو قتل کرچکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے الزام عائد کیا کہ قاتلوں کو پکڑنے کے بجائے پولیس سوگوار خاندان کو  چپ کرانے کی کوششیں کرتی رہی۔</p>
<p>پولیس کے رویے سے تنگ آکر مظاہرین نے جمبر کے قریب ملتان روڈ بلاک کردیا، جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کے کئی ادوار ناکام رہے۔</p>
<p>مذکرات ناکام ہونے پر پولیس نے لاشیں چھینی، لاشوں کی بے حرمتی نے مظاہرین کو مزید مشتعل کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>علاوہ ازیں پولیس نے سڑک خالی کرانے کے لیے درجنوں مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا تا کہ مجمع پر دباؤ ڈالا جاسکے۔</p>
<p>بعدازاں صبح 5 بجے مذاکرات کا حتمی دور ہوا جس کے بعد پولیس نے زیر حراست افراد کو چھوڑ دیا، مظاہرین نے غیر قانونی طور پر زیر حراست رکھنے پر پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>پولیس نے پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائیوں کے لیے لاشیں واپس ورثا کے حوالے کردیں۔</p>
<p>تاہم جنازے اور اس کے بعد کوئی مظاہرہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری گاؤں میں تعینات رہی اور تحقیقات کا آغاز کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197745</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Feb 2023 14:52:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/25142812c3cf22f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/25142812c3cf22f.jpg"/>
        <media:title>پولیس نے سڑک خالی کرانےکیلئے درجنوں مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا تا کہ مجمع پر دباؤ ڈالا جاسکے—فائل فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
