<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 14:14:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 14:14:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 50 ہزار سے متجاوز، ترکیہ میں گھروں کی تعمیر شروع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197750/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ میں رواں ماہ آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد گھروں کی تعمیر نو پر کام شروع کر دیا جبکہ ترکیہ اور شام میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) نے بتایا کہ جمعہ کی رات تک ترکیہ میں زلزلے کی وجہ ہونے والے ہلاکتوں کی تعداد 44 ہزار 218 تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کےمطابق شام نے زلزلے سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار 914 بتائی ہے، دونوں ممالک میں مجموعی طور پر اموات 50 ہزار سے زائد ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ میں چند مہینوں میں انتخابات ہونے ہیں، ترک صدر رجب طیب اردوان نے وعدہ کیا ہے کہ ہم زلزلے کے نتیجے میں تباہ یا ناقابل استعمال ہوجانے والے تمام گھروں، کام کی جگہوں کو دوبارہ تعمیر کریں گے اور انہیں ان کے حقیقی مالکان کے حوالے کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ متعدد منصوبوں کے کنٹریکٹ دیے جا چکے ہیں، یہ عمل تیزی سے جاری ہے، مزید کہا کہ سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ بے گھر ہونے والے افراد کے لیے خیمے بھیج دیے گئے ہیں لیکن لوگوں نے ٹینٹس ملنے میں مشکلات کو رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197215"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;67 سالہ میلک نے حسہ ٹاؤن میں اسکول کے باہر امداد ملنے کی قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بتایا کہ میرے 8 بچے ہیں، ہم ایک خیمے میں رہ رہے ہیں، جس کی چھت پر پانی ہے جبکہ زمین بھی تھوڑی گیلی ہے، ہم مزید خیموں کا مطالبہ کررہے ہیں جو ہمیں نہیں دیے جارہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق انٹریال ترکیہ کے نام سے رضا کاروں کا ایک گروپ اس اسکول کو امداد کی تقسیم کے مرکز کے طور پر استعمال کر رہا ہے، بتایا کہ خیموں کی قلت اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="5-لاکھ-نئے-گھروں-کی-ضرورت" href="#5-لاکھ-نئے-گھروں-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;5 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;رجب طیب اردوان کی حکومت تباہ کن زلزلے کے ردعمل پر تنقید کی زد میں ہے، اس کے علاوہ کافی ترک کہتے ہیں کہ تعمیرات میں کوالٹی کنٹرول کو برسوں سے نافذ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/trtworld/status/1629013258844921857"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کا کم ازکم 15 ارب ڈالر کی لاگت سے 2 لاکھ اپارٹمنٹس اور دیہاتی علاقوں میں 70 ہزار مکانات کا ابتدائی منصوبہ ہے جبکہ امریکی بینک جے پی مورگن نے گھروں اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 25 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے اندازوں کے مطابق تباہ کن زلزلے کے بعد 15 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ 5 لاکھ نئے گھر تعمیر کرنے کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک ارب ڈالر کے فنڈ کی اپیل میں سے 11 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کی درخواست کی ہے، اس رقم کو ملبے کے پہاڑ صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو این ڈی پی کے مطابق اس تباہی کی وجہ سے 11.6 کروڑ سے 21 کروڑ ٹن کے درمیان ملبہ پیدا ہو گیا، اس کے مقابلے میں ترکیہ میں 1999 میں آنے والے زلزلے سے 1.3 کروڑ ٹن ملبہ پیدا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ میں رواں ماہ آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد گھروں کی تعمیر نو پر کام شروع کر دیا جبکہ ترکیہ اور شام میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) نے بتایا کہ جمعہ کی رات تک ترکیہ میں زلزلے کی وجہ ہونے والے ہلاکتوں کی تعداد 44 ہزار 218 تک پہنچ گئی۔</p>
<p>رپورٹ کےمطابق شام نے زلزلے سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار 914 بتائی ہے، دونوں ممالک میں مجموعی طور پر اموات 50 ہزار سے زائد ہو چکی ہیں۔</p>
<p>ترکیہ میں چند مہینوں میں انتخابات ہونے ہیں، ترک صدر رجب طیب اردوان نے وعدہ کیا ہے کہ ہم زلزلے کے نتیجے میں تباہ یا ناقابل استعمال ہوجانے والے تمام گھروں، کام کی جگہوں کو دوبارہ تعمیر کریں گے اور انہیں ان کے حقیقی مالکان کے حوالے کریں گے۔</p>
<p>ایک حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ متعدد منصوبوں کے کنٹریکٹ دیے جا چکے ہیں، یہ عمل تیزی سے جاری ہے، مزید کہا کہ سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ بے گھر ہونے والے افراد کے لیے خیمے بھیج دیے گئے ہیں لیکن لوگوں نے ٹینٹس ملنے میں مشکلات کو رپورٹ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197215"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>67 سالہ میلک نے حسہ ٹاؤن میں اسکول کے باہر امداد ملنے کی قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بتایا کہ میرے 8 بچے ہیں، ہم ایک خیمے میں رہ رہے ہیں، جس کی چھت پر پانی ہے جبکہ زمین بھی تھوڑی گیلی ہے، ہم مزید خیموں کا مطالبہ کررہے ہیں جو ہمیں نہیں دیے جارہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق انٹریال ترکیہ کے نام سے رضا کاروں کا ایک گروپ اس اسکول کو امداد کی تقسیم کے مرکز کے طور پر استعمال کر رہا ہے، بتایا کہ خیموں کی قلت اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔</p>
<h3><a id="5-لاکھ-نئے-گھروں-کی-ضرورت" href="#5-لاکھ-نئے-گھروں-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>5 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت</h3>
<p>رجب طیب اردوان کی حکومت تباہ کن زلزلے کے ردعمل پر تنقید کی زد میں ہے، اس کے علاوہ کافی ترک کہتے ہیں کہ تعمیرات میں کوالٹی کنٹرول کو برسوں سے نافذ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/trtworld/status/1629013258844921857"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کا کم ازکم 15 ارب ڈالر کی لاگت سے 2 لاکھ اپارٹمنٹس اور دیہاتی علاقوں میں 70 ہزار مکانات کا ابتدائی منصوبہ ہے جبکہ امریکی بینک جے پی مورگن نے گھروں اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 25 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے اندازوں کے مطابق تباہ کن زلزلے کے بعد 15 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ 5 لاکھ نئے گھر تعمیر کرنے کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک ارب ڈالر کے فنڈ کی اپیل میں سے 11 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کی درخواست کی ہے، اس رقم کو ملبے کے پہاڑ صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>یو این ڈی پی کے مطابق اس تباہی کی وجہ سے 11.6 کروڑ سے 21 کروڑ ٹن کے درمیان ملبہ پیدا ہو گیا، اس کے مقابلے میں ترکیہ میں 1999 میں آنے والے زلزلے سے 1.3 کروڑ ٹن ملبہ پیدا ہوا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197750</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Feb 2023 16:18:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/251614286e1072e.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/251614286e1072e.png"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/2516143555868f5.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/2516143555868f5.png"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
