<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 05:15:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 05:15:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اٹلی: تارکین وطن کی کشتی کو حادثہ، 33 افراد ہلاک، مزید کی تلاش جاری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197793/</link>
      <description>&lt;p&gt;مختلف ممالک سے مہاجرین کو لانے والی کشتی اٹلی میں سخت سمندری موسم کے بعد چٹانوں سے ٹکرانے کے نتیجے میں کم از کم 33 مسافر ہلاک ہوگئے جبکہ مزید لاپتا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق پاکستان، افغانستان اور ایران سے مہاجرین کو لانے والی بحری کشتی سخت سمندری موسم کی وجہ سے چٹانوں سے ٹکرانے کے بعد تباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں کم از کم 33 مسافر ہلاک ہوگئے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اٹلی کے صوبے کروٹون کے ساحل پر 27 افراد کی لاشیں پائی گئی ہیں جبکہ مزید لاشیں پانی میں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190429"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس وقت ہلاکتوں کی تعداد 33 ہے مگر ممکنہ طور پر اس میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی کے محکمہ فائر فائٹر نے ’ٹیلی گرام‘ پر اپنے بیان میں لکھا کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد افراد مہاجرین ہیں جبکہ 40 مسافر زندہ بچ گئے ہیں، مزید کہا کہ تارکین وطن کا جہاز ساحل سے ٹکرا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاز میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں ایک شیرخوار بچی اور متعدد بچے شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران، پاکستان اور افغانستان سے تارکین وطن کو لانے والی کشتی سخت سمندری موسم کے دوران چٹانوں سے ٹکرا گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اطالوی کوسٹ گارڈ کی طرف سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/02/26193620dda07b3.jpg'  alt='تارکین وطن کی تلاش جاری ہے&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تارکین وطن کی تلاش جاری ہے—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سمندری راستے سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے اٹلی ایک اہم لینڈنگ پوائنٹ ہے جہاں وسطی بحیرہ روم کے راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم مسنگ مائگرینٹ پروجیکٹ کے مطابق 2014 سے اب تک وسطی بحیرہ روم میں کم از کم 20 ہزار 333 افراد ہلاک اور لاپتا ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مختلف ممالک سے مہاجرین کو لانے والی کشتی اٹلی میں سخت سمندری موسم کے بعد چٹانوں سے ٹکرانے کے نتیجے میں کم از کم 33 مسافر ہلاک ہوگئے جبکہ مزید لاپتا ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق پاکستان، افغانستان اور ایران سے مہاجرین کو لانے والی بحری کشتی سخت سمندری موسم کی وجہ سے چٹانوں سے ٹکرانے کے بعد تباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں کم از کم 33 مسافر ہلاک ہوگئے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اٹلی کے صوبے کروٹون کے ساحل پر 27 افراد کی لاشیں پائی گئی ہیں جبکہ مزید لاشیں پانی میں تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190429"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس وقت ہلاکتوں کی تعداد 33 ہے مگر ممکنہ طور پر اس میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>اٹلی کے محکمہ فائر فائٹر نے ’ٹیلی گرام‘ پر اپنے بیان میں لکھا کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد افراد مہاجرین ہیں جبکہ 40 مسافر زندہ بچ گئے ہیں، مزید کہا کہ تارکین وطن کا جہاز ساحل سے ٹکرا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاز میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں ایک شیرخوار بچی اور متعدد بچے شامل تھے۔</p>
<p>ایران، پاکستان اور افغانستان سے تارکین وطن کو لانے والی کشتی سخت سمندری موسم کے دوران چٹانوں سے ٹکرا گئی۔</p>
<p>تاہم اطالوی کوسٹ گارڈ کی طرف سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/02/26193620dda07b3.jpg'  alt='تارکین وطن کی تلاش جاری ہے&mdash;فوٹو: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تارکین وطن کی تلاش جاری ہے—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ سمندری راستے سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے اٹلی ایک اہم لینڈنگ پوائنٹ ہے جہاں وسطی بحیرہ روم کے راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم مسنگ مائگرینٹ پروجیکٹ کے مطابق 2014 سے اب تک وسطی بحیرہ روم میں کم از کم 20 ہزار 333 افراد ہلاک اور لاپتا ہوچکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197793</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Feb 2023 19:36:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/26175849a9fa671.png?r=190812" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/26175849a9fa671.png?r=190812"/>
        <media:title>سمندری راستے سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے اٹلی ایک اہم لینڈنگ پوائنٹ ہے — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
