<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 00:22:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Apr 2026 00:22:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لندن: سوئی ناردرن کمپنی، ایل این جی پاور پلانٹس کےخلاف 24 ارب روپے کا کیس ہار گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197819/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی عدالت نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے خلاف لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن (ایل سی آئی اے) کے تقریباً 24 ارب روپے (8 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) کے ثالثی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1739366/sngpl-loses-rs24bn-case-against-lng-power-plants"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن کی جانب سے یہ فیصلہ ایک اور سرکاری ادارے نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ (این پی پی ایم سی ایل) کے حق میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت توانائی کے تحت کام کرنے والی دو سرکاری کمپنیاں تین سال سے زائد عرصے سے برطانوی عدالتوں میں قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے تحت کام کرتی ہے جب کہ نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ وزارت توانائی کے
پاور ڈویژن کے تحت کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں کمپنیاں برطانیہ میں اپنی سرکاری ٹیموں کے سفر، قیام و طعام کے علاوہ عدالتی فیس، وکیل کے چارجز اور دیگر قانونی اخراجات کے لیے غیر ملکی کرنسیوں میں ادائیگیاں کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1174059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی جانب سے  نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو اس کے 2 پاور پلانٹس کے لیے تاخیر سے کمرشل آپریشنز کے دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں منصوبوں میں ایک جھنگ میں حویلی بہادر شاہ پلانٹ ہے اور دوسرا منصوبہ شیخوپورہ میں بلوکی پلانٹ ہے، ان پلانٹس میں مجموعی طور پر 2 ہزار 400 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت توانائی کے پاور اور پیٹرولیم ڈویژن اور وزارت خزانہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران اپنے اندرونی تنازعات کو وزارتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے حل نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اکتوبر 2019 میں ایل سی آئی اے کے پاس پہنچا تھا جس کے دائرہ اختیار کو سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے درمیان طے پانے والے  گیس سیل، پرچیز معاہدے کا حصہ بنایا گیا تھا  جس کے تحت مستقبل میں پاور پلانٹس کی نجکاری کو یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور پلانٹس کی نجکاری تو نہ ہو سکی لیکن تجارتی تنازع لندن کی عدالتوں میں جاپہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی عدالت نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے خلاف لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن (ایل سی آئی اے) کے تقریباً 24 ارب روپے (8 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) کے ثالثی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1739366/sngpl-loses-rs24bn-case-against-lng-power-plants">رپورٹ</a></strong> کے مطابق لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن کی جانب سے یہ فیصلہ ایک اور سرکاری ادارے نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ (این پی پی ایم سی ایل) کے حق میں ہے۔</p>
<p>وزارت توانائی کے تحت کام کرنے والی دو سرکاری کمپنیاں تین سال سے زائد عرصے سے برطانوی عدالتوں میں قانونی جنگ لڑ رہی ہیں۔</p>
<p>سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے تحت کام کرتی ہے جب کہ نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ وزارت توانائی کے
پاور ڈویژن کے تحت کام کرتی ہے۔</p>
<p>دونوں کمپنیاں برطانیہ میں اپنی سرکاری ٹیموں کے سفر، قیام و طعام کے علاوہ عدالتی فیس، وکیل کے چارجز اور دیگر قانونی اخراجات کے لیے غیر ملکی کرنسیوں میں ادائیگیاں کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1174059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تنازع سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی جانب سے  نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو اس کے 2 پاور پلانٹس کے لیے تاخیر سے کمرشل آپریشنز کے دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی سے متعلق ہے۔</p>
<p>ان دونوں منصوبوں میں ایک جھنگ میں حویلی بہادر شاہ پلانٹ ہے اور دوسرا منصوبہ شیخوپورہ میں بلوکی پلانٹ ہے، ان پلانٹس میں مجموعی طور پر 2 ہزار 400 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔</p>
<p>وزارت توانائی کے پاور اور پیٹرولیم ڈویژن اور وزارت خزانہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران اپنے اندرونی تنازعات کو وزارتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے حل نہیں کر سکے۔</p>
<p>یہ معاملہ اکتوبر 2019 میں ایل سی آئی اے کے پاس پہنچا تھا جس کے دائرہ اختیار کو سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے درمیان طے پانے والے  گیس سیل، پرچیز معاہدے کا حصہ بنایا گیا تھا  جس کے تحت مستقبل میں پاور پلانٹس کی نجکاری کو یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>پاور پلانٹس کی نجکاری تو نہ ہو سکی لیکن تجارتی تنازع لندن کی عدالتوں میں جاپہنچا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197819</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Feb 2023 15:51:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/2711063978fe01f.jpg?r=155118" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/2711063978fe01f.jpg?r=155118"/>
        <media:title>یہ معاملہ اکتوبر 2019 میں ایل سی آئی اے کے پاس پہنچا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
