<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:25:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 13:25:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پمز ہسپتال کے استعمال شدہ طبی آلات کی مارکیٹ میں فروخت، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197997/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے استعمال شدہ طبی آلات کی مارکیٹ میں فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت صحت کو اندرونی انکوائری کے بجائے آزادانہ انکوائری کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1739839/pm-orders-inquiry-into-sale-of-pims-infectious-material"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزیراعظم نے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے جس میں معاملے کے حقائق، ذمہ داریوں کے تعین اور مستقبل میں کچرے کو ٹھکانے لگانے میں خامیوں سے بچنے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ پمز انتظامیہ کی جانب سے ہسپتال کے احاطے میں طبی فضلے کو جلانے کے لیے رکھا گیا شخص ہسپتال کے ملازمین کے ساتھ مل کر ضائع شدہ سرنجوں اور خون کے تھیلوں جیسے انفیکشن زہ مواد کی فروخت میں ملوث پایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مواد کھلونے، جوتے اور دیگر مصنوعات بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن انتظامیہ کو اس بات کا خدشہ ہے کہ استعمال شدہ سرنج اور گلوکوز کے تھیلے خریدار دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایچ آئی وی/ایڈز، کینسر اور ہیپاٹائٹس کی وبا پھیل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انکشاف کے بعد پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نعیم ملک نے جنرل سرجری کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایچ وقار کی زیرسربراہی 3 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی تھی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں انتظامیہ نے آئی جی اسلام آباد کو خط بھی لکھا جس میں بتایا گیا کہ پمز کے ملازمین بھی اس اسکینڈل میں ملوث ہیں، اس غیر قانونی کام میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایف آئی آر درج کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ نے ایک کمپنی کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو ہسپتال کے فضلے کو جمع کرنے اور اسے احاطے میں جلانے کے لیے ماہانہ 14 لاکھ روپے وصول کرتی ہے تاکہ انفیکشن زدہ فضلہ کی ری سائیکلنگ کو روکا جا سکے، تاہم یہ فضلہ سیکٹر جی الیون کے مقامی ڈپو میں فروخت کیا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں اس طرح کے فضلے کو جلانے کے لیے انسینریٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے، ان میں ہسپتال کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے پرائمری اور سیکنڈری چیمبر ہونے چاہئیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دھوئیں کو بھی پروسیس کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے استعمال شدہ طبی آلات کی مارکیٹ میں فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت صحت کو اندرونی انکوائری کے بجائے آزادانہ انکوائری کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1739839/pm-orders-inquiry-into-sale-of-pims-infectious-material"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزیراعظم نے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے جس میں معاملے کے حقائق، ذمہ داریوں کے تعین اور مستقبل میں کچرے کو ٹھکانے لگانے میں خامیوں سے بچنے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ پمز انتظامیہ کی جانب سے ہسپتال کے احاطے میں طبی فضلے کو جلانے کے لیے رکھا گیا شخص ہسپتال کے ملازمین کے ساتھ مل کر ضائع شدہ سرنجوں اور خون کے تھیلوں جیسے انفیکشن زہ مواد کی فروخت میں ملوث پایا گیا۔</p>
<p>یہ مواد کھلونے، جوتے اور دیگر مصنوعات بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن انتظامیہ کو اس بات کا خدشہ ہے کہ استعمال شدہ سرنج اور گلوکوز کے تھیلے خریدار دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایچ آئی وی/ایڈز، کینسر اور ہیپاٹائٹس کی وبا پھیل سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس انکشاف کے بعد پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نعیم ملک نے جنرل سرجری کے پروفیسر ڈاکٹر ایس ایچ وقار کی زیرسربراہی 3 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی تھی ۔</p>
<p>مزید برآں انتظامیہ نے آئی جی اسلام آباد کو خط بھی لکھا جس میں بتایا گیا کہ پمز کے ملازمین بھی اس اسکینڈل میں ملوث ہیں، اس غیر قانونی کام میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایف آئی آر درج کی جائے۔</p>
<p>انتظامیہ نے ایک کمپنی کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو ہسپتال کے فضلے کو جمع کرنے اور اسے احاطے میں جلانے کے لیے ماہانہ 14 لاکھ روپے وصول کرتی ہے تاکہ انفیکشن زدہ فضلہ کی ری سائیکلنگ کو روکا جا سکے، تاہم یہ فضلہ سیکٹر جی الیون کے مقامی ڈپو میں فروخت کیا جا رہا تھا۔</p>
<p>دنیا بھر میں اس طرح کے فضلے کو جلانے کے لیے انسینریٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے، ان میں ہسپتال کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے پرائمری اور سیکنڈری چیمبر ہونے چاہئیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دھوئیں کو بھی پروسیس کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197997</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Mar 2023 12:18:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/02120539007c292.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/02120539007c292.png"/>
        <media:title>وزیراعظم نے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے—فائل فوٹو: محمد عاصم
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
