<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:29:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:29:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تمام ممالک کووڈ-19 کے آغاز کے بارے میں اپنی معلومات سے آگاہ کریں، عالمی ادارہ صحت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1198093/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت نے چینی لیب سے کووڈ کے لیک ہونے کے امریکی دعوؤں اور بیجنگ کی جانب سے تردید کے بعد تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ یہ ظاہر کریں کہ وہ کووڈ 19 کے آغاز کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن(ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے منگل کے روز فاکس نیوز ٹیلی ویژن کو بتایا تھا کہ ایف بی آئی نے اب کووڈ-19 وبائی مرض کے ماخذ کا اندازہ لگایا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر زیادہ تر ووہان میں لیبارٹری میں پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے پھیلا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی حکام نے اس دعوے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے بیجنگ کے خلاف ایک ناپاک مہم قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197955"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے اصرار کیا کہ اگر کسی ملک کے پاس وبائی مرض کی ابتدا کے بارے میں معلومات ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس معلومات کو عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی سائنسی برادری کے ساتھ شیئر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معلومات الزامات عائد کرنے کے لیے استعمال نہیں کی جائیں گی بلکہ اس وبائی مرض کی ابتدا کے بارے میں ہمیں مزید سمجھ بوجھ فراہم کرے گی تاکہ ہم مستقبل کی وبائی امراض کو روک سکیں، اس کی تیاری کر سکیں اور ان کا جواب دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت نے کووڈ-19 وبائی بیماری کی ابتدا کی نشاندہی کرنے کے کسی منصوبے کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی نے ناول پیتھوجینز کی ابتدا کے لیے نام نہاد سائنسی مشاورتی گروپ قائم کیا تھا جس نے ان اہم مطالعات کی نشاندہی کی تھی جن کی چین اور دیگر جگہوں پر وبائی امراض کی ابتدا کے حوالے سے مفروضوں کی جانچ کرنے کے لیے ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت چین سے ڈیٹا شیئر کرنے کے حوالے سے شفافیت برتنے، ضروری تحقیقات کرنے اور نتائج کے اشتراک کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1127053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت تک وائرس کی ابتدا سے متعلق تمام مفروضے میز پر موجود ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن انہوں نے مزید کہا کہ اصلیت کی تحقیق کے بارے میں مسلسل سیاست کرنا نامناسب ہے جس سے کام مشکل تر ہو رہا ہے اور دنیا کم محفوظ ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورونا وائرس کا پہلا کیس چین کے شہر ووہان میں 2019 کے آخر میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹوفر رے کا بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ ایک چینی لیب سے وائرس لیک ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں کووڈ-19 پھیلا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت نے چینی لیب سے کووڈ کے لیک ہونے کے امریکی دعوؤں اور بیجنگ کی جانب سے تردید کے بعد تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ یہ ظاہر کریں کہ وہ کووڈ 19 کے آغاز کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن(ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے منگل کے روز فاکس نیوز ٹیلی ویژن کو بتایا تھا کہ ایف بی آئی نے اب کووڈ-19 وبائی مرض کے ماخذ کا اندازہ لگایا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر زیادہ تر ووہان میں لیبارٹری میں پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے پھیلا۔</p>
<p>چینی حکام نے اس دعوے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے بیجنگ کے خلاف ایک ناپاک مہم قرار دیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197955"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے اصرار کیا کہ اگر کسی ملک کے پاس وبائی مرض کی ابتدا کے بارے میں معلومات ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس معلومات کو عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی سائنسی برادری کے ساتھ شیئر کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معلومات الزامات عائد کرنے کے لیے استعمال نہیں کی جائیں گی بلکہ اس وبائی مرض کی ابتدا کے بارے میں ہمیں مزید سمجھ بوجھ فراہم کرے گی تاکہ ہم مستقبل کی وبائی امراض کو روک سکیں، اس کی تیاری کر سکیں اور ان کا جواب دے سکیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت نے کووڈ-19 وبائی بیماری کی ابتدا کی نشاندہی کرنے کے کسی منصوبے کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔</p>
<p>2021 میں اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی نے ناول پیتھوجینز کی ابتدا کے لیے نام نہاد سائنسی مشاورتی گروپ قائم کیا تھا جس نے ان اہم مطالعات کی نشاندہی کی تھی جن کی چین اور دیگر جگہوں پر وبائی امراض کی ابتدا کے حوالے سے مفروضوں کی جانچ کرنے کے لیے ضرورت ہے۔</p>
<p>ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت چین سے ڈیٹا شیئر کرنے کے حوالے سے شفافیت برتنے، ضروری تحقیقات کرنے اور نتائج کے اشتراک کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1127053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت تک وائرس کی ابتدا سے متعلق تمام مفروضے میز پر موجود ہونے چاہئیں۔</p>
<p>لیکن انہوں نے مزید کہا کہ اصلیت کی تحقیق کے بارے میں مسلسل سیاست کرنا نامناسب ہے جس سے کام مشکل تر ہو رہا ہے اور دنیا کم محفوظ ہو رہی ہے۔</p>
<p>کورونا وائرس کا پہلا کیس چین کے شہر ووہان میں 2019 کے آخر میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>کرسٹوفر رے کا بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ ایک چینی لیب سے وائرس لیک ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں کووڈ-19 پھیلا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1198093</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Mar 2023 00:13:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/04001151e96724a.jpg?r=001305" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/04001151e96724a.jpg?r=001305"/>
        <media:title>عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے تمام ممالک سے معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
