<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 22:33:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 22:33:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1198210/</link>
      <description>&lt;p&gt;توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پی ٹی آئی نے وارنٹ منسوخی کی درخواست اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر کی  تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کے جانب سے وکیل قیصر امام، بیرسٹر گوہر اور علی بخاری نے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل قیصر امام نے مؤقف دیا کہ پرائیویٹ کمپلینٹ میں وارنٹ جاری کرنے سے کسی حد تک روکا گیا ہے لہٰذا عدالت عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیے کہ 28 فروری کو صبح ہی عمران خان کے وکلا نے کہہ دیا تھا کہ وہ نہیں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198202"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی بخاری نے کہا کہ عمران خان زمان پارک میں موجود ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں عدالت پیش ہونے کا کوئی راستہ بتایاجائے، عمران خان نے ہمیشہ عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیصر امام نے کہا کہ عمران خان کے خلاف پرائیویٹ کمپلینٹ ہے جو الیکشن ایکٹ کے تحت درج کی گئی، ماضی میں پرائیویٹ کمپلینٹ میں متعدد بار ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے گئے، اگر عمران خان عدالت پیش ہونے پر رضامندی ظاہر کریں تو پولیس انہیں گرفتار نہیں کرسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج نے ریمارکس دیے کہ آپ اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی وارنٹ منسوخی کے معاملے پر رجوع کرسکتے تھے، اس پر قیصرامام نے کہا کہ سیشن عدالت سے ہی عمران خان کے وارنٹ منسوخی کے لیے رجوع کرنا چاہتے تھے، سیشن عدالت کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ہائی کورٹ میں اپیل دائر نہیں کرنا چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، بعدازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی جانب سے وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="توشہ-خانہ-کیس" href="#توشہ-خانہ-کیس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;توشہ خانہ کیس&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1197881/"&gt;&lt;strong&gt;28 فروری&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ ہم نے ساڑھے تین بجے تک عمران خان کا انتظار کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ 7 مارچ تک عمران خان کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197860"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر 2022 کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197823"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد کردی۔</p>
<p>چیئرمین پی ٹی آئی نے وارنٹ منسوخی کی درخواست اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر کی  تھی۔</p>
<p>عمران خان کے جانب سے وکیل قیصر امام، بیرسٹر گوہر اور علی بخاری نے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔</p>
<p>وکیل قیصر امام نے مؤقف دیا کہ پرائیویٹ کمپلینٹ میں وارنٹ جاری کرنے سے کسی حد تک روکا گیا ہے لہٰذا عدالت عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرے۔</p>
<p>ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیے کہ 28 فروری کو صبح ہی عمران خان کے وکلا نے کہہ دیا تھا کہ وہ نہیں آئیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198202"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>علی بخاری نے کہا کہ عمران خان زمان پارک میں موجود ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں عدالت پیش ہونے کا کوئی راستہ بتایاجائے، عمران خان نے ہمیشہ عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا۔</p>
<p>قیصر امام نے کہا کہ عمران خان کے خلاف پرائیویٹ کمپلینٹ ہے جو الیکشن ایکٹ کے تحت درج کی گئی، ماضی میں پرائیویٹ کمپلینٹ میں متعدد بار ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے گئے، اگر عمران خان عدالت پیش ہونے پر رضامندی ظاہر کریں تو پولیس انہیں گرفتار نہیں کرسکتی۔</p>
<p>جج نے ریمارکس دیے کہ آپ اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی وارنٹ منسوخی کے معاملے پر رجوع کرسکتے تھے، اس پر قیصرامام نے کہا کہ سیشن عدالت سے ہی عمران خان کے وارنٹ منسوخی کے لیے رجوع کرنا چاہتے تھے، سیشن عدالت کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ہائی کورٹ میں اپیل دائر نہیں کرنا چاہتے۔</p>
<p>عدالت نے عمران خان کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، بعدازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی جانب سے وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد کردی۔</p>
<p>محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھا ہے۔</p>
<h3><a id="توشہ-خانہ-کیس" href="#توشہ-خانہ-کیس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>توشہ خانہ کیس</h3>
<p>قبل ازیں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1197881/"><strong>28 فروری</strong></a> کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔</p>
<p>اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ ہم نے ساڑھے تین بجے تک عمران خان کا انتظار کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ 7 مارچ تک عمران خان کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔</p>
<p>خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197860"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔</p>
<p>آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر 2022 کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197823"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔</p>
<p>جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔</p>
<p>اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔</p>
<p>سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1198210</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Mar 2023 15:32:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرمہتابویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/061247349a7d67f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/061247349a7d67f.jpg"/>
        <media:title>عمران خان کے وکلا نے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
