<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:28:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:28:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان عدلیہ بچاؤ تحریک چلانے سے پہلے اپنے ماضی پر نظر ڈالیں، اعظم نذیر تارڑ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1198324/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان عدلیہ بچاؤ تحریک چلانے سے پہلے اپنے ماضی پر نظر ڈالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان بھر کی خواتین کے حقوق کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ہے، وہ معاشرے ترقی نہیں کرتے جہاں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام نہیں کر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں خواتین کے لیے اچھا اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، حکومت پاکستان کا عزم ہے کہ خواتین کے تحفظ اور عملی زندگی میں ان کے کردار سے متعلق پالیسیاں بنانی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان کو اب عدلیہ بچاؤ تحریک کا خیال آیا ہے، انسان کو اپنا ماضی دیکھنا چاہیے، پی ٹی آئی دور حکومت میں عدلیہ دباؤ کا شکار رہی، عدالتی فیصلوں میں اس دباؤ کا اظہار نظر بھی آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197929"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ اور توہین عدالت سمیت تمام کیسز میں عمران خان کا رویہ قابل ستائش نہیں رہا، اس لیے کسی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے سیاسی رہنما کو اپنے ماضی پر بھی نظر دوڑانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں شخصیات کے حوالے سے فرق دیکھا گیا ہے، کچھ کیسز میں عدلیہ کے 2 پلڑوں کا جھکاؤ کسی ایک جانب جھکتے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنے دامن میں جھانکنے کی ضرورت ہے، عدالتیں ان کو نوٹسز جاری کرتی ہیں اور یہ اپنی مرضی سے پیش ہوتے ہیں، اس طرح آپ عدالتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں، آپ ان حرکتوں سے عدالت کے تقدس اور تکریم کو پامال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کی تاریخ سے متعلق سوال کے جواب میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ  آئین کے آرٹیکل 254 میں یہ گنجائش ہے کہ 90 روز کی قید کسی الیکشن کو غیر آئینی یا غیرقانونی قرار نہیں دیتی، آئین پاکستان میں یہ لکھا ہے کہ اگر کسی چیز کو کسی مقررہ مدت میں ہونا ہے اور وہ اس مدت میں نہیں ہوتی تو اسے صرف اس لیے غیرآئینی قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ 90 روز یا 60 روز میں نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197097"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مردم شماری مکمل ہونے سے قبل 2 صوبوں میں انتخابات کا انعقاد الجھاؤ پیدا کرے گا، وفاق میں سیاسی حکومت کے ہوتے ہوئے اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے نتائج لاڈلا خان کے حق میں نہیں آتے تو کیا وہ اسے تسلیم کریں گے؟ کیا پھر ایک نئی تحریک کی بات نہیں ہوگی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں قومی اسمبلی اور 2 صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے بعد انتخابات ہونے ہیں، ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ان 4 سے 5 ماہ میں موجودہ سیکیورٹی اور معاشی صورتحال میں کچھ بہتری آجائے تو پورے ملک میں ایک ساتھ انتخابات کروا لیے جائیں تاکہ ملک میں ایک مستحکم حکومت ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان عدلیہ بچاؤ تحریک چلانے سے پہلے اپنے ماضی پر نظر ڈالیں۔</p>
<p>اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان بھر کی خواتین کے حقوق کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ہے، وہ معاشرے ترقی نہیں کرتے جہاں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام نہیں کر رہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں خواتین کے لیے اچھا اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، حکومت پاکستان کا عزم ہے کہ خواتین کے تحفظ اور عملی زندگی میں ان کے کردار سے متعلق پالیسیاں بنانی ہیں۔</p>
<p>اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان کو اب عدلیہ بچاؤ تحریک کا خیال آیا ہے، انسان کو اپنا ماضی دیکھنا چاہیے، پی ٹی آئی دور حکومت میں عدلیہ دباؤ کا شکار رہی، عدالتی فیصلوں میں اس دباؤ کا اظہار نظر بھی آیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197929"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ اور توہین عدالت سمیت تمام کیسز میں عمران خان کا رویہ قابل ستائش نہیں رہا، اس لیے کسی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے سیاسی رہنما کو اپنے ماضی پر بھی نظر دوڑانی چاہیے۔</p>
<p>وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں شخصیات کے حوالے سے فرق دیکھا گیا ہے، کچھ کیسز میں عدلیہ کے 2 پلڑوں کا جھکاؤ کسی ایک جانب جھکتے دیکھا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اپنے دامن میں جھانکنے کی ضرورت ہے، عدالتیں ان کو نوٹسز جاری کرتی ہیں اور یہ اپنی مرضی سے پیش ہوتے ہیں، اس طرح آپ عدالتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں، آپ ان حرکتوں سے عدالت کے تقدس اور تکریم کو پامال کرتے ہیں۔</p>
<p>الیکشن کی تاریخ سے متعلق سوال کے جواب میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ  آئین کے آرٹیکل 254 میں یہ گنجائش ہے کہ 90 روز کی قید کسی الیکشن کو غیر آئینی یا غیرقانونی قرار نہیں دیتی، آئین پاکستان میں یہ لکھا ہے کہ اگر کسی چیز کو کسی مقررہ مدت میں ہونا ہے اور وہ اس مدت میں نہیں ہوتی تو اسے صرف اس لیے غیرآئینی قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ 90 روز یا 60 روز میں نہیں ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197097"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ مردم شماری مکمل ہونے سے قبل 2 صوبوں میں انتخابات کا انعقاد الجھاؤ پیدا کرے گا، وفاق میں سیاسی حکومت کے ہوتے ہوئے اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے نتائج لاڈلا خان کے حق میں نہیں آتے تو کیا وہ اسے تسلیم کریں گے؟ کیا پھر ایک نئی تحریک کی بات نہیں ہوگی؟</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں قومی اسمبلی اور 2 صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے بعد انتخابات ہونے ہیں، ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ان 4 سے 5 ماہ میں موجودہ سیکیورٹی اور معاشی صورتحال میں کچھ بہتری آجائے تو پورے ملک میں ایک ساتھ انتخابات کروا لیے جائیں تاکہ ملک میں ایک مستحکم حکومت ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1198324</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Mar 2023 14:15:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/081247064f9cd76.jpg?r=142007" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/081247064f9cd76.jpg?r=142007"/>
        <media:title>اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں شخصیات کے حوالے سے فرق دیکھا گیا ہے — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
