<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:30:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:30:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ دولت سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1198708/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا دولت سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں؟ معاشی و سماجی ماہرین کئی دہائیوں سے اس سوال پر بحث کرتے آرہے ہیں یہاں تک کہ اس سوال پر کئی تحقیق بھی سامنے آچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس سوال پر کوئی بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا، تاہم امریکی ماہرین کی جانب سے حال  ہی میں نئی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/business/2023/03/08/money-wealth-happiness-study/"&gt;تحقیق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سامنے آئی ہے جس میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="خوشی-کسے-کہتے-ہیں" href="#خوشی-کسے-کہتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خوشی کسے کہتے ہیں؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں جانے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ خوشی کیا ہے ؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوشی کی پیمائش کرنا ایک پیچیدہ کام ہے، بی بی سی کے پروگرام ’مور اور لیس‘ (زیادہ یا کم) میں بات کرتے ہوئے نوبیل انعام یافتہ اینگس ڈیٹن کا کہنا تھا کہ خوشی کو ناپنے کے لیے وہ دو محتلف قسم کے سوالات پر انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینگس ڈیٹن کو خرچ، غربت اور بہبود کے موضوعات پر تحقیق کرنے پر نوبل انعام دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایک قسم کے سوال تو وہ ہوتے ہیں جن کا تعلق روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہوتا ہے اور اس کے بعد ایک بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی جا کہاں رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/15121358e65deec.gif?r=130311'  alt='فوٹو: آن لائن' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: آن لائن&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کیا-دولت-سے-خوشیاں-خریدی-جا-سکتی-ہیں-تحقیق" href="#کیا-دولت-سے-خوشیاں-خریدی-جا-سکتی-ہیں-تحقیق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کیا دولت سے خوشیاں خریدی جا سکتی ہیں؟ تحقیق&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ دولت سے انسان خوشیاں خرید سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق پرسٹن یونیورسٹی کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈینیئل کہنیمین اور پینسلوانیا یونیورسٹی کے میتھیو کلنگزورتھ نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکا میں 18 سے 65 سال تک کی عمر کے 33 ہزار 391 افراد سے مختلف سوالات پوچھے، ان افراد کی سالانہ تنخواہ 10 ہزار ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1013324"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران شرکا سے کہا گیا کہ وہ ایپ کے ذریعے اپنے احساسات کا اظہار کریں، ان افراد کے ایپ میں دو پیمانے درج تھے جس میں پہلا ’بہت بُرا‘ اور دوسرا ’بہت اچھا‘ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق میں کیے جانے والے سوالات میں دو نتائج سامنے آئے، پہلا یہ کہ زیادہ افراد کا ماننا ہے کہ جب انسان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کی خوشیوں میں زیادہ اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بات یہ سامنے آئی کہ صرف 20 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ  ان کی تنخواہ میں اضافے سے خوشیوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے لوگوں کو ڈپریشن، دھوکا دہی یا گھریلو مسائل کا سامنا ہے جنہیں دولت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ البتہ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ آمدنی میں اضافے سے خوشیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے لیکن اگر آپ امیر ہیں اور شدید جذباتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو دولت اس کا حل نہیں ہے، تاہم اگر آپ اپنی خواہشات کی تکمیل کی بات کریں تو آپ پیسے سے خوشی خرید سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا دولت سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں؟ معاشی و سماجی ماہرین کئی دہائیوں سے اس سوال پر بحث کرتے آرہے ہیں یہاں تک کہ اس سوال پر کئی تحقیق بھی سامنے آچکی ہیں۔</p>
<p>لیکن اس سوال پر کوئی بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا، تاہم امریکی ماہرین کی جانب سے حال  ہی میں نئی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/business/2023/03/08/money-wealth-happiness-study/">تحقیق</a></strong> سامنے آئی ہے جس میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔</p>
<h3><a id="خوشی-کسے-کہتے-ہیں" href="#خوشی-کسے-کہتے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خوشی کسے کہتے ہیں؟</h3>
<p>تحقیق میں جانے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ خوشی کیا ہے ؟</p>
<p>خوشی کی پیمائش کرنا ایک پیچیدہ کام ہے، بی بی سی کے پروگرام ’مور اور لیس‘ (زیادہ یا کم) میں بات کرتے ہوئے نوبیل انعام یافتہ اینگس ڈیٹن کا کہنا تھا کہ خوشی کو ناپنے کے لیے وہ دو محتلف قسم کے سوالات پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>اینگس ڈیٹن کو خرچ، غربت اور بہبود کے موضوعات پر تحقیق کرنے پر نوبل انعام دیا گیا تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایک قسم کے سوال تو وہ ہوتے ہیں جن کا تعلق روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہوتا ہے اور اس کے بعد ایک بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی جا کہاں رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/15121358e65deec.gif?r=130311'  alt='فوٹو: آن لائن' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: آن لائن</figcaption>
    </figure></p>
<h3><a id="کیا-دولت-سے-خوشیاں-خریدی-جا-سکتی-ہیں-تحقیق" href="#کیا-دولت-سے-خوشیاں-خریدی-جا-سکتی-ہیں-تحقیق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کیا دولت سے خوشیاں خریدی جا سکتی ہیں؟ تحقیق</h3>
<p>امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ دولت سے انسان خوشیاں خرید سکتا ہے۔</p>
<p>یہ تحقیق پرسٹن یونیورسٹی کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈینیئل کہنیمین اور پینسلوانیا یونیورسٹی کے میتھیو کلنگزورتھ نے کی۔</p>
<p>انہوں نے امریکا میں 18 سے 65 سال تک کی عمر کے 33 ہزار 391 افراد سے مختلف سوالات پوچھے، ان افراد کی سالانہ تنخواہ 10 ہزار ڈالر تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1013324"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحقیق کے دوران شرکا سے کہا گیا کہ وہ ایپ کے ذریعے اپنے احساسات کا اظہار کریں، ان افراد کے ایپ میں دو پیمانے درج تھے جس میں پہلا ’بہت بُرا‘ اور دوسرا ’بہت اچھا‘ تھا۔</p>
<p>اس تحقیق میں کیے جانے والے سوالات میں دو نتائج سامنے آئے، پہلا یہ کہ زیادہ افراد کا ماننا ہے کہ جب انسان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کی خوشیوں میں زیادہ اضافہ ہوا۔</p>
<p>دوسری بات یہ سامنے آئی کہ صرف 20 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ  ان کی تنخواہ میں اضافے سے خوشیوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔</p>
<p>ایسے لوگوں کو ڈپریشن، دھوکا دہی یا گھریلو مسائل کا سامنا ہے جنہیں دولت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ البتہ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ آمدنی میں اضافے سے خوشیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے لیکن اگر آپ امیر ہیں اور شدید جذباتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو دولت اس کا حل نہیں ہے، تاہم اگر آپ اپنی خواہشات کی تکمیل کی بات کریں تو آپ پیسے سے خوشی خرید سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1198708</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Mar 2023 15:40:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/151302347c4cb0b.gif?r=154049" type="image/gif" medium="image" height="1080" width="1843">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/151302347c4cb0b.gif?r=154049"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
