<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 18:58:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 18:58:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پولیس اور عدالت پر ’مسلح جتھوں کے حملوں‘ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1199185/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے پولیس اور عدالت پر ’مسلح جتھوں کے متشدد حملوں‘ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ جے آئی ٹی بنانے کا اقدام گزشتہ روز حکومت میں شامل جماعتوں کے اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کا بتانا تھا کہ اعلیٰ اختیارات والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی سمری تیار کرلی گئی ہے جو وزارت داخلہ آج وزیر اعظم کو بھجوائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں وزارت داخلہ، پولیس کے سینئر افسران کے ساتھ ساتھ حساس اداروں کے افسران بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199013"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے آئی ٹی، جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں پولیس پر تشدد کی تحقیقات کرے گی اور 7 روزمیں اپنی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران پیٹرول بم حملوں، کالعدم تنظیموں کے تربیت یافتہ عسکریت پسندوں سے متعلق حقائق اکٹھے اور جوڈیشل کمپلیکس کا گیٹ توڑنے، پتھراؤ، موٹر سائیکل اور گاڑیاں جلانے کے تمام شواہد جمع کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق جے آئی ٹی کی چھان بین میں املاک کی توڑ پھیلاؤ، آتش زنی، کار سرکار میں مداخلت اور تشدد کے پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ اس بات کا بھی تعین کیا جائے گا کہ پولیس پر آنسو گیس کے شیل کس نے چلائے اور کس نے فراہم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199001"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو اکسانے، تشدد پر بھڑکانے کے ذمہ داروں کا بھی تعین کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں حکومت مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ایک روز قبل ملک کی سویلین اور ملٹری ہائی کمان کے طویل اجلاسوں میں پی ٹی آئی کی جاری احتجاجی تحریک کے بارے میں انتہائی ناگوار نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کو ’سیاسی جماعت کے بجائے کالعدم تنظیموں کے تربیت یافتہ شرپسندوں کا گروہ‘ قرار دیا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا عزم کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاسوں کے بعد جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اجلاس میں عدالتی احکامات کی تعمیل کرانے والے پولیس اور رینجرز پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور اسے ریاست کے خلاف دشمنی قرار دیا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197923"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’تمام شواہد اور ثبوت دستیاب ہیں، جس کے تحت بدامنی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ٓآئی) کے چیئرمین عمران خان کی اسلام ٓآباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں پیشیوں کے موقع پر پارٹی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم دیکھنے میں ٓآیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد پارٹی رہنماوں اور کارکنان کے خلاف توڑ پھوڑ،اشتعال انگیزی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمات درج کیے گئے تھے جبکہ کئی افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے پولیس اور عدالت پر ’مسلح جتھوں کے متشدد حملوں‘ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔</p>
<p>حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ جے آئی ٹی بنانے کا اقدام گزشتہ روز حکومت میں شامل جماعتوں کے اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا۔</p>
<p>عہدیدار کا بتانا تھا کہ اعلیٰ اختیارات والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی سمری تیار کرلی گئی ہے جو وزارت داخلہ آج وزیر اعظم کو بھجوائے گی۔</p>
<p>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں وزارت داخلہ، پولیس کے سینئر افسران کے ساتھ ساتھ حساس اداروں کے افسران بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199013"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جے آئی ٹی، جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں پولیس پر تشدد کی تحقیقات کرے گی اور 7 روزمیں اپنی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائے گی۔</p>
<p>تحقیقات کے دوران پیٹرول بم حملوں، کالعدم تنظیموں کے تربیت یافتہ عسکریت پسندوں سے متعلق حقائق اکٹھے اور جوڈیشل کمپلیکس کا گیٹ توڑنے، پتھراؤ، موٹر سائیکل اور گاڑیاں جلانے کے تمام شواہد جمع کیے جائیں گے۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق جے آئی ٹی کی چھان بین میں املاک کی توڑ پھیلاؤ، آتش زنی، کار سرکار میں مداخلت اور تشدد کے پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔</p>
<p>اس کے علاوہ اس بات کا بھی تعین کیا جائے گا کہ پولیس پر آنسو گیس کے شیل کس نے چلائے اور کس نے فراہم کیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199001"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عہدیدار کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو اکسانے، تشدد پر بھڑکانے کے ذمہ داروں کا بھی تعین کرے گی۔</p>
<p>اس کے بعد جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں حکومت مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کرے گی۔</p>
<p>یاد رہے کہ ایک روز قبل ملک کی سویلین اور ملٹری ہائی کمان کے طویل اجلاسوں میں پی ٹی آئی کی جاری احتجاجی تحریک کے بارے میں انتہائی ناگوار نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کو ’سیاسی جماعت کے بجائے کالعدم تنظیموں کے تربیت یافتہ شرپسندوں کا گروہ‘ قرار دیا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا عزم کیا گیا تھا۔</p>
<p>اجلاسوں کے بعد جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اجلاس میں عدالتی احکامات کی تعمیل کرانے والے پولیس اور رینجرز پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور اسے ریاست کے خلاف دشمنی قرار دیا گیا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197923"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’تمام شواہد اور ثبوت دستیاب ہیں، جس کے تحت بدامنی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘۔</p>
<p>یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ٓآئی) کے چیئرمین عمران خان کی اسلام ٓآباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں پیشیوں کے موقع پر پارٹی کارکنان اور پولیس کے درمیان تصادم دیکھنے میں ٓآیا تھا۔</p>
<p>اس کے بعد پارٹی رہنماوں اور کارکنان کے خلاف توڑ پھوڑ،اشتعال انگیزی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمات درج کیے گئے تھے جبکہ کئی افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1199185</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Mar 2023 16:08:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکثناء اللہ خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/21145907bbbf660.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/21145907bbbf660.png"/>
        <media:title>جے آئی ٹی جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں پولیس پر تشدد کی تحقیقات کرے گی — فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
