<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:54:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:54:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موجودہ حالات میں الیکشن خونی ہوں گے، وزیر قانون</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1199339/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات خونی ہوں گے، تمام سیاسی قوتوں کو مل کر بیٹھنا چاہیے،  الیکشن کمیشن نے ملکی معروضی حالات میں انتخابات ملتوی کرنے کا درست فیصلہ کیا، تیسرے آپشن کے لیے حالات سازگار نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آج ملک کی جغرافیائی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور شاید اسی وجہ سے ہم معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں، اس میں خاطر خواہ پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی، اس کے لیے ہمیں کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج جس معاملے پر زیادہ بات کی جارہی ہے وہ ملک میں انتخابات ہیں، ملک میں ایک بحران کی سی کیفیت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جبکہ ملک کے دو صوبوں کی اسمبلیاں ایک شخص کی انا کی بھینٹ چڑھ گئیں، پنجاب جو کہ ملک کے نصف حصے سے زائد ہے اور خیبرپختونخوا جو ملک کا تیسرا بڑا صوبہ ہے، وہاں کی اسمبلیاں تحلیل ہونےکے بعد کی صورتحال، دہشت گردی میں اضافہ جس کی وجوہات گزشتہ حکومت کے فیصلے ہیں، جس کی وجہ سے دہشت گردی کی لہر ہمیں ورثے میں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmln_org/status/1638869315314384896"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون نے کہا کہ جب دو صوبوں کے الیکشن کی بات آئی تو دو آرا سامنے آئیں، ایک رائے یہ تھی کہ ایک شخص کی انا کی تسکین کے لیے 2 صوبوں کے الیکشن الگ سے کرائے گئے تو  یہ ایک مستقل سیاسی عدم استحکام کا باعث بنے گا، ہم نے تاریخ کا ہولناک مارشل لا 1977 میں دیکھا جس کی بڑی وجہ انتخابی نتائج پر عدم اعتماد تھا، جس کی وجہ سے تحریک چلی اور ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھی انتخابات پر انگلیاں اٹھتی رہیں لیکن قانون سازوں نے مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے نگران حکومتوں کا طریقہ نکالا، اس طریقہ کار کے تحت ملک میں قومی اور  صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات ہونے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="دو-دفعہ-الیکشن-کرائیں-تو-یہ-100-ارب-سے-زائد-کی-مشق-ہے" href="#دو-دفعہ-الیکشن-کرائیں-تو-یہ-100-ارب-سے-زائد-کی-مشق-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’دو دفعہ الیکشن کرائیں تو  یہ 100 ارب سے زائد کی مشق  ہے‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ وفاقی اکائیوں جن میں آباد کا تناسب بہت مختلف ہے، اس لیے سیاستدان اور سول سوسائٹی اس پر بات کرتے ہیں کہ ملک میں انتخابات بیک وقت ہونے میں ہی ملک کا بھلا ہے، اس سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا، سیاسی و معاشی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmln_org/status/1638870342839205889"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت ملک کی سیکیورٹی بہت بڑا مسئلہ ہے، الیکشن کمیشن نے ملک کے معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے منطقی اور درست فیصلہ کیا، آئین کی پاسداری، انتخابات کا وقت پر انعقاد سر  آنکھوں پر لیکن آئین پاکستان یہ بھی کہتا ہے کہ انتخابات ایک ساتھ نگران سیٹ اپ کے تحت ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہوں، تو کیا ایسی شقوں کی تشریح کرتے ہوئے ان سب کو ملا کر نہیں پڑھنا چاہیے، کوئی ایسا متفقہ فیصلہ نہیں آنا چاہیے تاکہ ملک کا بھلا ہو، نظام آگے چلے ناکہ اس میں مزید افرا تفری ہو، اس پر انگلیاں اٹھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ہمیں ملک میں سیکیورٹی کے چیلنجز درپیش ہیں، شدید معاشی بحران ہے، حکومتی اداروں اور ایجنسیوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اگر دو دفعہ الیکشن کرائیں گے تو یہ 100 ارب روپے سے زائد کی مشق ہے، جب انتخابات ایک ساتھ ہوتے ہیں تو صرف ایک بیلٹ پیپر اضافی چھاپنا پڑھتا ہے، باقی تمام انتظامات وہی ہوتے ہیں، اس کے علاوہ انتخابات کے دوران 2 ماہ کے لیے ایک سیاسی ماحول بنتا ہے جس کے لیے سیکیورٹی کے اضافی اقدامات کرنے ہوتے ہیں، پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات کرنی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmln_org/status/1638871611884335106"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی آئینی کام مقررہ مدت میں نہیں کیا گیا، بعد میں کیا گیا تو وہ غیر آئینی نہیں ہوگا، اسی طرح سے 2007 میں خیبر پختونخوا اسمبلی دیگر اسمبلیوں سے ڈیڑھ ماہ قبل تحلیل کی گئی لیکن الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کا اعلان کیا، اس لیے الیکشن کمیشن نے ملکی مفاد میں انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="بیک-وقت-انتخابات-کا-مقصد-لیول-پلیئنگ-فیلڈ-فراہم-کرنا-ہے" href="#بیک-وقت-انتخابات-کا-مقصد-لیول-پلیئنگ-فیلڈ-فراہم-کرنا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’بیک وقت انتخابات کا مقصد لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنا ہے‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ شروع میں ملک کے انتخابات 3 روز کے فرق سے ہوتے تھے، پہلے قومی اسمبلی کے انتخابات ہوتے تھے، پھر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوتے تھے، اس میں کہا جاتا تھا کہ پہلا رزلٹ بعد کے نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے انہیں ایک ساتھ کرانے کا فیصلہ کیا گیا، نگران سیٹ اَپ کے تحت بیک وقت انتخابات کرانے کا  مقصد تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم تارڑ نے کہا کہ ان دنوں ہم دہشت گردی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، الیکشن کمیشن نے بھی کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں دہشت گردی کے 200 واقعات ہوئے ہیں، اس لیے انہوں نے الیکشن کی تاریخ ملتوی کی ہے، اس پر بیٹھ کر بات ہو سکتی ہے لیکن فوری فتوے جاری کردیے گئے کہ الیکشن کمیشن آئین شکنی کا مرتکب ہوا ہے، آرٹیکل چھ کا مرتکب ہوا ہے، یہی آئین تھا جب پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے آئین شکنی کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن شیڈول جاری کیا لیکن جب انہوں اس کے انعقاد کے لیے غور و خوض کیا، بریفنگز لیں، صورتحال کا جائزہ لیا تو کہا کہ اس وقت ملک کی معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انتخابات کا شیڈول واپس لیا اور اسی نیت سے 8 اکتوبر کی تاریخ دی کہ ملک میں ایک ساتھ انتخابات ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون نے کہا کہ سابقہ مردم شماری کے نتائج پر تحفظات سامنے آنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ انتخابات نئی ڈیجیٹل مردم شماری کے بعد کیے جائیں گے، اس لیے ملک کے مفادات کو دیکھتے ہوئے اس وقت انتخابات بیک وقت کرانا ہی حل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="تیسرے-آپشن-کے-لیے-حالات-سازگار-نہ-کریں" href="#تیسرے-آپشن-کے-لیے-حالات-سازگار-نہ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’تیسرے آپشن کے لیے حالات سازگار نہ کریں‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیاست کی بنیاد ہی بات چیت پر ہے، بدقسمتی سے عمران خان کی ایک اپنی انا، اپنی سوچ اور ایک نظریہ ہے جو پتا نہیں سیاسی کیسے ہے، اگر آج عمران خان  کو احساس ہوگیا ہے، اللہ کرے کہ انہیں یہ احساس ہو، میں نے سنا ہے کہ اب وہ بات کرنے کے لیے تیار ہیں، اگر دو ایلچی بھیج دیں گے تو ہم بھی بیٹھ جائیں گے، لیکن اگر وہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بیٹھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  ملک کے لیے ایک ساتھ بیٹھیں اور ملک کے مفاد کا سوچیں، ٹروتھ اینڈ ری کنسیلئشن کا عمل ہونا چاہیے، بیٹھ کر بات کریں، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ہو تاکہ ملک میں موجودہ سیاسی حدت میں کمی ہو، اگر موجودہ حالات میں انتخابات ہوئے تو یہ خونی انتخابات ہوں گے، اس میں ہم ملک کا نقصان کریں گے، سیاسی، جمہوری نظام چل رہا ہے، اس کو چلنے دیں، تیسرے آپشن کے لیے حالات سازگار نہ کریں، مل کر بیٹھیں، راستے نکالیں، گریبان نہ پکڑیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات خونی ہوں گے، تمام سیاسی قوتوں کو مل کر بیٹھنا چاہیے،  الیکشن کمیشن نے ملکی معروضی حالات میں انتخابات ملتوی کرنے کا درست فیصلہ کیا، تیسرے آپشن کے لیے حالات سازگار نہ کریں۔</p>
<p>اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آج ملک کی جغرافیائی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور شاید اسی وجہ سے ہم معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں، اس میں خاطر خواہ پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی، اس کے لیے ہمیں کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج جس معاملے پر زیادہ بات کی جارہی ہے وہ ملک میں انتخابات ہیں، ملک میں ایک بحران کی سی کیفیت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جبکہ ملک کے دو صوبوں کی اسمبلیاں ایک شخص کی انا کی بھینٹ چڑھ گئیں، پنجاب جو کہ ملک کے نصف حصے سے زائد ہے اور خیبرپختونخوا جو ملک کا تیسرا بڑا صوبہ ہے، وہاں کی اسمبلیاں تحلیل ہونےکے بعد کی صورتحال، دہشت گردی میں اضافہ جس کی وجوہات گزشتہ حکومت کے فیصلے ہیں، جس کی وجہ سے دہشت گردی کی لہر ہمیں ورثے میں ملی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmln_org/status/1638869315314384896"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر قانون نے کہا کہ جب دو صوبوں کے الیکشن کی بات آئی تو دو آرا سامنے آئیں، ایک رائے یہ تھی کہ ایک شخص کی انا کی تسکین کے لیے 2 صوبوں کے الیکشن الگ سے کرائے گئے تو  یہ ایک مستقل سیاسی عدم استحکام کا باعث بنے گا، ہم نے تاریخ کا ہولناک مارشل لا 1977 میں دیکھا جس کی بڑی وجہ انتخابی نتائج پر عدم اعتماد تھا، جس کی وجہ سے تحریک چلی اور ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کردیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھی انتخابات پر انگلیاں اٹھتی رہیں لیکن قانون سازوں نے مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے نگران حکومتوں کا طریقہ نکالا، اس طریقہ کار کے تحت ملک میں قومی اور  صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات ہونے ہوتے ہیں۔</p>
<h4><a id="دو-دفعہ-الیکشن-کرائیں-تو-یہ-100-ارب-سے-زائد-کی-مشق-ہے" href="#دو-دفعہ-الیکشن-کرائیں-تو-یہ-100-ارب-سے-زائد-کی-مشق-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’دو دفعہ الیکشن کرائیں تو  یہ 100 ارب سے زائد کی مشق  ہے‘</h4>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ وفاقی اکائیوں جن میں آباد کا تناسب بہت مختلف ہے، اس لیے سیاستدان اور سول سوسائٹی اس پر بات کرتے ہیں کہ ملک میں انتخابات بیک وقت ہونے میں ہی ملک کا بھلا ہے، اس سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا، سیاسی و معاشی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmln_org/status/1638870342839205889"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت ملک کی سیکیورٹی بہت بڑا مسئلہ ہے، الیکشن کمیشن نے ملک کے معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے منطقی اور درست فیصلہ کیا، آئین کی پاسداری، انتخابات کا وقت پر انعقاد سر  آنکھوں پر لیکن آئین پاکستان یہ بھی کہتا ہے کہ انتخابات ایک ساتھ نگران سیٹ اپ کے تحت ہونے چاہئیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہوں، تو کیا ایسی شقوں کی تشریح کرتے ہوئے ان سب کو ملا کر نہیں پڑھنا چاہیے، کوئی ایسا متفقہ فیصلہ نہیں آنا چاہیے تاکہ ملک کا بھلا ہو، نظام آگے چلے ناکہ اس میں مزید افرا تفری ہو، اس پر انگلیاں اٹھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ہمیں ملک میں سیکیورٹی کے چیلنجز درپیش ہیں، شدید معاشی بحران ہے، حکومتی اداروں اور ایجنسیوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اگر دو دفعہ الیکشن کرائیں گے تو یہ 100 ارب روپے سے زائد کی مشق ہے، جب انتخابات ایک ساتھ ہوتے ہیں تو صرف ایک بیلٹ پیپر اضافی چھاپنا پڑھتا ہے، باقی تمام انتظامات وہی ہوتے ہیں، اس کے علاوہ انتخابات کے دوران 2 ماہ کے لیے ایک سیاسی ماحول بنتا ہے جس کے لیے سیکیورٹی کے اضافی اقدامات کرنے ہوتے ہیں، پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات کرنی ہوتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmln_org/status/1638871611884335106"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی آئینی کام مقررہ مدت میں نہیں کیا گیا، بعد میں کیا گیا تو وہ غیر آئینی نہیں ہوگا، اسی طرح سے 2007 میں خیبر پختونخوا اسمبلی دیگر اسمبلیوں سے ڈیڑھ ماہ قبل تحلیل کی گئی لیکن الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کا اعلان کیا، اس لیے الیکشن کمیشن نے ملکی مفاد میں انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<h4><a id="بیک-وقت-انتخابات-کا-مقصد-لیول-پلیئنگ-فیلڈ-فراہم-کرنا-ہے" href="#بیک-وقت-انتخابات-کا-مقصد-لیول-پلیئنگ-فیلڈ-فراہم-کرنا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’بیک وقت انتخابات کا مقصد لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنا ہے‘</h4>
<p>ان کا کہنا تھا کہ شروع میں ملک کے انتخابات 3 روز کے فرق سے ہوتے تھے، پہلے قومی اسمبلی کے انتخابات ہوتے تھے، پھر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوتے تھے، اس میں کہا جاتا تھا کہ پہلا رزلٹ بعد کے نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے انہیں ایک ساتھ کرانے کا فیصلہ کیا گیا، نگران سیٹ اَپ کے تحت بیک وقت انتخابات کرانے کا  مقصد تمام جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>اعظم تارڑ نے کہا کہ ان دنوں ہم دہشت گردی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں، الیکشن کمیشن نے بھی کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں دہشت گردی کے 200 واقعات ہوئے ہیں، اس لیے انہوں نے الیکشن کی تاریخ ملتوی کی ہے، اس پر بیٹھ کر بات ہو سکتی ہے لیکن فوری فتوے جاری کردیے گئے کہ الیکشن کمیشن آئین شکنی کا مرتکب ہوا ہے، آرٹیکل چھ کا مرتکب ہوا ہے، یہی آئین تھا جب پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے آئین شکنی کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کردی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197910"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن شیڈول جاری کیا لیکن جب انہوں اس کے انعقاد کے لیے غور و خوض کیا، بریفنگز لیں، صورتحال کا جائزہ لیا تو کہا کہ اس وقت ملک کی معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انتخابات کا شیڈول واپس لیا اور اسی نیت سے 8 اکتوبر کی تاریخ دی کہ ملک میں ایک ساتھ انتخابات ہوسکیں۔</p>
<p>وزیر قانون نے کہا کہ سابقہ مردم شماری کے نتائج پر تحفظات سامنے آنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ انتخابات نئی ڈیجیٹل مردم شماری کے بعد کیے جائیں گے، اس لیے ملک کے مفادات کو دیکھتے ہوئے اس وقت انتخابات بیک وقت کرانا ہی حل ہے۔</p>
<h4><a id="تیسرے-آپشن-کے-لیے-حالات-سازگار-نہ-کریں" href="#تیسرے-آپشن-کے-لیے-حالات-سازگار-نہ-کریں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’تیسرے آپشن کے لیے حالات سازگار نہ کریں‘</h4>
<p>انہوں نے کہا کہ سیاست کی بنیاد ہی بات چیت پر ہے، بدقسمتی سے عمران خان کی ایک اپنی انا، اپنی سوچ اور ایک نظریہ ہے جو پتا نہیں سیاسی کیسے ہے، اگر آج عمران خان  کو احساس ہوگیا ہے، اللہ کرے کہ انہیں یہ احساس ہو، میں نے سنا ہے کہ اب وہ بات کرنے کے لیے تیار ہیں، اگر دو ایلچی بھیج دیں گے تو ہم بھی بیٹھ جائیں گے، لیکن اگر وہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بیٹھنا چاہیے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  ملک کے لیے ایک ساتھ بیٹھیں اور ملک کے مفاد کا سوچیں، ٹروتھ اینڈ ری کنسیلئشن کا عمل ہونا چاہیے، بیٹھ کر بات کریں، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ہو تاکہ ملک میں موجودہ سیاسی حدت میں کمی ہو، اگر موجودہ حالات میں انتخابات ہوئے تو یہ خونی انتخابات ہوں گے، اس میں ہم ملک کا نقصان کریں گے، سیاسی، جمہوری نظام چل رہا ہے، اس کو چلنے دیں، تیسرے آپشن کے لیے حالات سازگار نہ کریں، مل کر بیٹھیں، راستے نکالیں، گریبان نہ پکڑیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1199339</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Mar 2023 20:57:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/23170854021b356.jpg?r=180815" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/23170854021b356.jpg?r=180815"/>
        <media:title>وزیر قانون نے کہا کہ سیاسی، جمہوری نظام چل رہا ہے، اس کو چلنے دیں، تیسرے آپشن کے لیے حالات سازگار نہ کریں — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
