<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 14:58:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 14:58:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین نے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ ممالک کے بیل آؤٹ کیلئے 240 ارب ڈالر خرچ کیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1199677/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین نے 22 ترقی پذیر ممالک میں 2008 سے 2021 کے دوران 240 ارب ڈالر خرچ کیے، جس میں حالیہ برسوں کے دوران تیزی سے اضافہ دیکھا گیا کیونکہ کئی ممالک کو ’بلیٹ اینڈ روڈ‘ کے تحت انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر خرچ کیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عالمی بینک، ہاروڈ کینڈی اسکول، ایڈ ڈیٹا اور کیل انسٹی ٹیوٹ فار ورلڈ اکانومی کے تحقیق کاروں کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 80 فیصد بیل آؤٹ قرضے 2016 سے 2021 کے درمیان بنیادی طور پر وسط آمدنی کے حامل ممالک بشمول ارجنٹینا، منگولیا اور پاکستان کو دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے ترقی پذیر ممالک میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سیکڑوں ارب ڈالر قرضے دیے ہیں لیکن 2016 کے بعد اس میں کمی آئی ہے کیونکہ متعدد منصوبوں سے متوقع مالیاتی نفع نہیں مل سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے سابق چیف اکانومسٹ کیرمین رین ہارٹ نے بتایا کہ بیجنگ بالآخر اپنے بینک کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے وہ عالمی بیل آؤٹ قرضوں کے خطرناک کاروبار میں پھنسی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1102290"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق قرض کی وجہ سے مشکلات کا شکار ممالک میں کُل غیر ملکی قرضوں کا 2010 میں چین کا حصہ 5 فیصد تھا وہ 2022 میں 60 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹینا نے سب سے زیادہ 111 ارب 80 کروڑ کی رقم وصول کی، جس کے بعد پاکستان نے 48 ارب 50 کروڑ ڈالر اور مصر نے 15 ارب 60 کروڑ ڈالر وصول کیے جبکہ دیگر 9 ممالک نے ایک ارب ڈالر سے کم قرضے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز بینک آف چائنا (پی بی او سی) نے مالیاتی مشکلات سے بچانے کے لیے 170 ارب ڈالر کے قرضے دیے جن میں سرینام، سری لنکا اور مصر شامل ہیں، برج قرضے یا توازن ادائیگی میں معاونت کے لیے چین کے سرکاری بینک نے 70 ارب ڈالر دیے، اسی طرح رول اوور کے لیے 140 ارب ڈالر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے کچھ ممالک کے مرکزی بینک پر تنقید کی کہ وہ پی بی او سی کے قرضے استعمال کرکے مصنوعی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے ایک مصنف اور امریکا کے ولیم اینڈ میری کالج میں تحقیقی لیب ایڈ ڈیٹا کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ چین کے بیل آؤٹ قرضے ’مبہم اور غیر مربوط ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیل آؤٹ قرضے زیادہ وسط آمدنی ممالک کو دیے گئے جو کُل قرضوں کا 80 فیصد بنتا ہے، جس وجہ سے چینی بینکوں کی بیلنس شیٹس کو خطرات ہوئے جبکہ کم آمدنی والے ممالک کو ادائیگی کے لیے رعایتی مدت کی پیشکش کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین قرضوں کی تنظیم نو کے لیے زامبیا، گھانا، سری لنکا سے مذاکرات کر رہا ہے اور اس پر عمل کو لے کر چین پر تنقید کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے رد عمل میں عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بھی قرض میں ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین نے 22 ترقی پذیر ممالک میں 2008 سے 2021 کے دوران 240 ارب ڈالر خرچ کیے، جس میں حالیہ برسوں کے دوران تیزی سے اضافہ دیکھا گیا کیونکہ کئی ممالک کو ’بلیٹ اینڈ روڈ‘ کے تحت انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر خرچ کیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عالمی بینک، ہاروڈ کینڈی اسکول، ایڈ ڈیٹا اور کیل انسٹی ٹیوٹ فار ورلڈ اکانومی کے تحقیق کاروں کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 80 فیصد بیل آؤٹ قرضے 2016 سے 2021 کے درمیان بنیادی طور پر وسط آمدنی کے حامل ممالک بشمول ارجنٹینا، منگولیا اور پاکستان کو دیے گئے۔</p>
<p>چین نے ترقی پذیر ممالک میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سیکڑوں ارب ڈالر قرضے دیے ہیں لیکن 2016 کے بعد اس میں کمی آئی ہے کیونکہ متعدد منصوبوں سے متوقع مالیاتی نفع نہیں مل سکا۔</p>
<p>عالمی بینک کے سابق چیف اکانومسٹ کیرمین رین ہارٹ نے بتایا کہ بیجنگ بالآخر اپنے بینک کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے وہ عالمی بیل آؤٹ قرضوں کے خطرناک کاروبار میں پھنسی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1102290"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق قرض کی وجہ سے مشکلات کا شکار ممالک میں کُل غیر ملکی قرضوں کا 2010 میں چین کا حصہ 5 فیصد تھا وہ 2022 میں 60 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>ارجنٹینا نے سب سے زیادہ 111 ارب 80 کروڑ کی رقم وصول کی، جس کے بعد پاکستان نے 48 ارب 50 کروڑ ڈالر اور مصر نے 15 ارب 60 کروڑ ڈالر وصول کیے جبکہ دیگر 9 ممالک نے ایک ارب ڈالر سے کم قرضے لیے۔</p>
<p>پیپلز بینک آف چائنا (پی بی او سی) نے مالیاتی مشکلات سے بچانے کے لیے 170 ارب ڈالر کے قرضے دیے جن میں سرینام، سری لنکا اور مصر شامل ہیں، برج قرضے یا توازن ادائیگی میں معاونت کے لیے چین کے سرکاری بینک نے 70 ارب ڈالر دیے، اسی طرح رول اوور کے لیے 140 ارب ڈالر دیے گئے۔</p>
<p>رپورٹ نے کچھ ممالک کے مرکزی بینک پر تنقید کی کہ وہ پی بی او سی کے قرضے استعمال کرکے مصنوعی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھاتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے ایک مصنف اور امریکا کے ولیم اینڈ میری کالج میں تحقیقی لیب ایڈ ڈیٹا کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ چین کے بیل آؤٹ قرضے ’مبہم اور غیر مربوط ہیں‘۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیل آؤٹ قرضے زیادہ وسط آمدنی ممالک کو دیے گئے جو کُل قرضوں کا 80 فیصد بنتا ہے، جس وجہ سے چینی بینکوں کی بیلنس شیٹس کو خطرات ہوئے جبکہ کم آمدنی والے ممالک کو ادائیگی کے لیے رعایتی مدت کی پیشکش کی جاتی ہے۔</p>
<p>چین قرضوں کی تنظیم نو کے لیے زامبیا، گھانا، سری لنکا سے مذاکرات کر رہا ہے اور اس پر عمل کو لے کر چین پر تنقید کی جاتی ہے۔</p>
<p>اس کے رد عمل میں عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بھی قرض میں ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1199677</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Mar 2023 16:47:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/28140303991b46b.jpg?r=140400" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/28140303991b46b.jpg?r=140400"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/281403335f76b4c.jpg?r=164739" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/281403335f76b4c.jpg?r=164739"/>
        <media:title>رپورٹ کے مطابق ارجنٹینا نے سب سے زیادہ 111 ارب 80 کروڑ کی رقم وصول کی — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
