<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:47:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:47:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میانمار : فوجی حکومت نے گرفتار رہنما آنگ سان سوچی کی جماعت کو تحلیل کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1199700/</link>
      <description>&lt;p&gt;میانمار کی فوجی حکومت نے اقتدار پر اپنی گرفت کو طول دینے کے لیے انتخابات کے لیے رجسٹریشن کرانے میں ناکامی کا جواز بناتے ہوئے سابق رہنما آنگ سان سوچی کی سابق حکمراں جماعت اور 39 دیگر جماعتوں کو تحلیل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی خبر کے مطابق  اس بات کا اعلان  سرکاری میڈیا نے آج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) ان درجنوں پارلیمانی جماعتوں میں شامل ہے جو آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کے خلاف 2021 میں ہونے والی فوجی بغاوت اور اس کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی بہت کمزور ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں انتخابات کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جو کہ میانمار میں بڑھتے بحران کے درمیان ہوں گے جہاں فوج نسلی اقلیتی عسکریت پسندوں کو کچلنے کے لیے متعدد محاذوں پر لڑ رہی ہے اور بغاوت مخالف اختلاف کو دبانے کے سخت اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمتی تحریک تشکیل دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1187433"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز دیر گئے لائیو نشریات میں سرکاری میڈیا نے کہا کہ 63 پارٹیوں نے مقامی یا قومی سطح پر  رجسٹریشن کرائی ہے، سرکاری میڈیا کے مطابق 40 پارٹیاں منگل کی آخری تاریخ تک سائن اپ کرنے میں ناکامی پر خود بخود تحلیل ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کی انتخابات میں کامیابی تقریباً یقینی ہے، یو ایس ڈی پی ایک ملٹری پراکسی جماعت ہے جسے 2015 کے انتخابات میں این ایل ڈی نے شکست دی تھی اور 2020 کے انتخابات  میں جنہیں جرنیلوں نے بے قاعدگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبل انعام یافتہ 77 سالہ آنگ سان سوچی کا شمار  این ایل ڈی  کے ان متعدد رہنماؤں میں ہوتا ہے جو بغاوت کے بعد سے جیل میں بند ہیں اور بدعنوانی، ریاستی رازوں کے قانون کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہونے پر 33 سال کی سزا بھگت رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای ڈی کے سینئر عہدیدار  نے کہا کہ پارٹی ک اپنے بہت سے ارکان کے جیل میں ہونے یا ”انقلاب میں شامل“ ہوتے ہوئے انتخابات کے لیے رجسٹریشن نہیں کرائے گی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہماری پارٹی تحلیل ہو گئی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ  ہم لوگوں کی حمایت کے ساتھ کھڑے ہیں، آمرانہ حکومت کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی جماعت شیڈو نیشنل یونٹی گورنمنٹ (این یو جی) نے کہا کہ فوج کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ دھوکا دہی پر مبنی انتخابات کرائے،  پارٹی رجمان نے کہا کہ عوام کی خواہشات کا احترام کرنے والی سیاسی جماعتیں رجسٹر نہیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنتا سربراہ نے پیر کو عالمی ناقدین پر زور دیا کہ وہ جمہوریت کی بحالی کے لیے ان کی کوششوں کے پیچھے کھڑے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>میانمار کی فوجی حکومت نے اقتدار پر اپنی گرفت کو طول دینے کے لیے انتخابات کے لیے رجسٹریشن کرانے میں ناکامی کا جواز بناتے ہوئے سابق رہنما آنگ سان سوچی کی سابق حکمراں جماعت اور 39 دیگر جماعتوں کو تحلیل کر دیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی خبر کے مطابق  اس بات کا اعلان  سرکاری میڈیا نے آج کیا۔</p>
<p>نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) ان درجنوں پارلیمانی جماعتوں میں شامل ہے جو آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کے خلاف 2021 میں ہونے والی فوجی بغاوت اور اس کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی بہت کمزور ہو گئی تھیں۔</p>
<p>ملک میں انتخابات کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جو کہ میانمار میں بڑھتے بحران کے درمیان ہوں گے جہاں فوج نسلی اقلیتی عسکریت پسندوں کو کچلنے کے لیے متعدد محاذوں پر لڑ رہی ہے اور بغاوت مخالف اختلاف کو دبانے کے سخت اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمتی تحریک تشکیل دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1187433"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>منگل کے روز دیر گئے لائیو نشریات میں سرکاری میڈیا نے کہا کہ 63 پارٹیوں نے مقامی یا قومی سطح پر  رجسٹریشن کرائی ہے، سرکاری میڈیا کے مطابق 40 پارٹیاں منگل کی آخری تاریخ تک سائن اپ کرنے میں ناکامی پر خود بخود تحلیل ہو گئیں۔</p>
<p>یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کی انتخابات میں کامیابی تقریباً یقینی ہے، یو ایس ڈی پی ایک ملٹری پراکسی جماعت ہے جسے 2015 کے انتخابات میں این ایل ڈی نے شکست دی تھی اور 2020 کے انتخابات  میں جنہیں جرنیلوں نے بے قاعدگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔</p>
<p>نوبل انعام یافتہ 77 سالہ آنگ سان سوچی کا شمار  این ایل ڈی  کے ان متعدد رہنماؤں میں ہوتا ہے جو بغاوت کے بعد سے جیل میں بند ہیں اور بدعنوانی، ریاستی رازوں کے قانون کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہونے پر 33 سال کی سزا بھگت رہی ہیں۔</p>
<p>این ای ڈی کے سینئر عہدیدار  نے کہا کہ پارٹی ک اپنے بہت سے ارکان کے جیل میں ہونے یا ”انقلاب میں شامل“ ہوتے ہوئے انتخابات کے لیے رجسٹریشن نہیں کرائے گی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہماری پارٹی تحلیل ہو گئی یا نہیں۔</p>
<p>انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ  ہم لوگوں کی حمایت کے ساتھ کھڑے ہیں، آمرانہ حکومت کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی جماعت شیڈو نیشنل یونٹی گورنمنٹ (این یو جی) نے کہا کہ فوج کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ دھوکا دہی پر مبنی انتخابات کرائے،  پارٹی رجمان نے کہا کہ عوام کی خواہشات کا احترام کرنے والی سیاسی جماعتیں رجسٹر نہیں ہوئیں۔</p>
<p>جنتا سربراہ نے پیر کو عالمی ناقدین پر زور دیا کہ وہ جمہوریت کی بحالی کے لیے ان کی کوششوں کے پیچھے کھڑے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1199700</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Mar 2023 21:56:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/282153365e42373.jpg?r=215344" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/282153365e42373.jpg?r=215344"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
