<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 18:45:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 18:45:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج کردیا، نوید قمر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1199741/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے کہا ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی کاروباری اداروں اور افراد پر یورپ کے قانونی اور معاشی آپریٹر کی اضافی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/naveedqamarmna/status/1640771408132186112"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے اس پیش رفت پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس تجارتی اور سفارتی کامیابی کا سہرا وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ موجودہ افراتفری میں اچھی خبر یہ ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے، اس اہم پیش رفت کے بعد برآمد کنندگان اور تاجروں کو رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sherryrehman/status/1640959570439815169"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ڈان اخبار کی 14 فروری 2019 کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097497/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یورپی کمیشن نے پاکستان سمیت ان 23 ممالک کی فہرست جاری کی تھی، جہاں انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے قوانین بہت کمزور ہیں اور ساتھ ہی ہدایت کی گئی کہ ان کمزوریوں پر تیزی سے قابو پایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا تھا کہ فہرست کے اجرا کے بعد یورپی یونین کے انسدادِ منی لانڈرنگ کے قوانین کے ماتحت بینک اور دیگر ادارے، مالی معاملات میں صارفین اور دیگر مالیاتی اداروں کو منسلک کر کے نگرانی کو مؤثر بنانے کے پابند ہوں گے تاکہ رقم کی کسی مشتبہ منتقلی کی نشاندہی ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190140"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فہرست جولائی 2018 میں جاری کی گئی انسدادِ منی لانڈرنگ کی پانچویں ہدایات اور 54 ترجیحی اختیارات، جو یورپی کمیشن نے رکن ممالک کی مشاورت سے قائم کیے تھے، کے تناظر میں نئے اور سخت طریقہ کار کے تحت مرتب کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1191892/"&gt;&lt;strong&gt;15 نومبر 2022&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو برطانیہ نے بھی باضابطہ طور پر پاکستان کو انتہائی خطرات کے حامل ممالک کی فہرست سے نکال دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اچھی خبر ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان کی جلد تکمیل پر برطانیہ نے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک (انتہائی خطرات کے حامل) کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1190140"&gt;&lt;strong&gt;21 اکتوبر 2022&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے ہونے والی فنڈنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف اے ٹی ایف کے صدر ٹی راجا کمار نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان 2018 سے گرے لسٹ میں تھا، اس وقت دو ایکشن پلان تھے، پاکستانی حکام بڑی جدوجہد کے بعد تمام ایکشن پلان پر بڑی حد تک عمل درآمد کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے کہا ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔</p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی کاروباری اداروں اور افراد پر یورپ کے قانونی اور معاشی آپریٹر کی اضافی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/naveedqamarmna/status/1640771408132186112"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے اس پیش رفت پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس تجارتی اور سفارتی کامیابی کا سہرا وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ موجودہ افراتفری میں اچھی خبر یہ ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے، اس اہم پیش رفت کے بعد برآمد کنندگان اور تاجروں کو رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sherryrehman/status/1640959570439815169"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ ڈان اخبار کی 14 فروری 2019 کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1097497/"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یورپی کمیشن نے پاکستان سمیت ان 23 ممالک کی فہرست جاری کی تھی، جہاں انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے قوانین بہت کمزور ہیں اور ساتھ ہی ہدایت کی گئی کہ ان کمزوریوں پر تیزی سے قابو پایا جائے۔</p>
<p>مزید بتایا گیا تھا کہ فہرست کے اجرا کے بعد یورپی یونین کے انسدادِ منی لانڈرنگ کے قوانین کے ماتحت بینک اور دیگر ادارے، مالی معاملات میں صارفین اور دیگر مالیاتی اداروں کو منسلک کر کے نگرانی کو مؤثر بنانے کے پابند ہوں گے تاکہ رقم کی کسی مشتبہ منتقلی کی نشاندہی ہوسکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190140"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ فہرست جولائی 2018 میں جاری کی گئی انسدادِ منی لانڈرنگ کی پانچویں ہدایات اور 54 ترجیحی اختیارات، جو یورپی کمیشن نے رکن ممالک کی مشاورت سے قائم کیے تھے، کے تناظر میں نئے اور سخت طریقہ کار کے تحت مرتب کی گئی تھی۔</p>
<p>خیال رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1191892/"><strong>15 نومبر 2022</strong></a> کو برطانیہ نے بھی باضابطہ طور پر پاکستان کو انتہائی خطرات کے حامل ممالک کی فہرست سے نکال دیا تھا۔</p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اچھی خبر ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان کی جلد تکمیل پر برطانیہ نے پاکستان کو ہائی رسک تھرڈ ممالک (انتہائی خطرات کے حامل) کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔</p>
<p>اسی طرح <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1190140"><strong>21 اکتوبر 2022</strong></a> کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے ہونے والی فنڈنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کردیا تھا۔</p>
<p>ایف اے ٹی ایف کے صدر ٹی راجا کمار نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان 2018 سے گرے لسٹ میں تھا، اس وقت دو ایکشن پلان تھے، پاکستانی حکام بڑی جدوجہد کے بعد تمام ایکشن پلان پر بڑی حد تک عمل درآمد کرچکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1199741</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Mar 2023 13:20:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/291116411d6e00e.jpg?r=132026" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/291116411d6e00e.jpg?r=132026"/>
        <media:title>یورپی کمیشن نے فروری 2019 میں پاکستان سمیت ان 23 ممالک کی فہرست جاری کی تھی، جہاں انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے قوانین بہت کمزور ہیں — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
