<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:01:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:01:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں گیس کی قلت، ہائیکورٹ کا صوبائی حکومت کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1199761/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبوں میں گیس کی تقسیم کے معاملے کو حل کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں بظاہر کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہو رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1744724/shc-takes-exception-to-gas-shortage-in-sindh-even-during-ramazan"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے ماہ رمضان میں بھی سندھ میں قدرتی گیس کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے سندھ حکومت کو آئین کے آرٹیکل 158 کے نفاذ کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے صوبائی لا افسر کو بھی ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر آرٹیکل 158 کی عدالتی تشریح حاصل کرنے کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے وزیراعلیٰ کے فیصلے کے بارے میں آگاہ کرے، اس آرٹیکل کے مطابق گیس پیدا کرنے والے علاقے کا قدرتی گیس پر پہلا حق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بینچ نے سینئر وکیل مخدوم علی خان کو آرٹیکل 158 سے متعلق کچھ حقائق اور تفصیلات پر معاونت کے لیے عدالتی معاون مقرر کیا تھا جس میں وفاقی حکومت کا سندھ سے حکومت کی اجازت کے بغیر گیس لینے کا اختیار بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199337"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاسوں کے منٹس سمیت کچھ دستاویزات جمع کرائی ہیں، جن میں  صوبائی حکومت کی جانب سے سی سی آئی میں گزشتہ تین سال کے دوران آرٹیکل 158 کو نافذ کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات ظاہر کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اس واضح آئینی حکم کے بارے میں اس تین سال کی مدت میں کوئی قرارداد پیش نہیں کی گئی ہے اور یہاں تک کہ منٹس کے ایک حصے میں بھی یہ کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 158 صوبہ بلوچستان کے لیے شامل کیا گیا تھا اور بظاہر اس پر سندھ حکومت نے کوئی اعتراض بھی نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے آرٹیکل 158 کے حوالے سے کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہو رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کا کہنا تھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سی سی آئی پہلی نظر میں آئین کے واضح حکم سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے قابل نہیں ہے اور نہ صوبوں کے درمیان گیس کی تقسیم میں ترجیح کے مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194742"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بینچ کو آگاہ کیا کہ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے سی سی آئی کو بھیج دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنچ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ ان حالات میں حکومت سندھ آئین کے آرٹیکل 158 کے نفاذ کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کر سکتی ہے کیونکہ یہ بالکل واضح ہے سی سی آئی کے ذریعے اس سلسلے میں کوئی قرارداد یا عمل درآمد ہونے کا امکان نہیں ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 158 بے کار ہے جو کہ آئین میں کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی بھی آرٹیکل کو بے کار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید کہا کہ زیر بحث آرٹیکل واضح اور غیر مبہم ہے جسے کسی بھی صورت میں کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو سندھ حکومت پر چھوڑ رہا ہے کیونکہ وہ صوبے کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے اور جوابدہ ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں بنیادی ضروریات بشمول کھانا پکانے کے لیے گیس فراہم کرنے کے لیے ذمہ دار بھی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ ہائی کورٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبوں میں گیس کی تقسیم کے معاملے کو حل کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں بظاہر کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہو رہی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1744724/shc-takes-exception-to-gas-shortage-in-sindh-even-during-ramazan">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے ماہ رمضان میں بھی سندھ میں قدرتی گیس کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے سندھ حکومت کو آئین کے آرٹیکل 158 کے نفاذ کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔</p>
<p>جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے صوبائی لا افسر کو بھی ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر آرٹیکل 158 کی عدالتی تشریح حاصل کرنے کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے وزیراعلیٰ کے فیصلے کے بارے میں آگاہ کرے، اس آرٹیکل کے مطابق گیس پیدا کرنے والے علاقے کا قدرتی گیس پر پہلا حق ہے۔</p>
<p>اس سے قبل بینچ نے سینئر وکیل مخدوم علی خان کو آرٹیکل 158 سے متعلق کچھ حقائق اور تفصیلات پر معاونت کے لیے عدالتی معاون مقرر کیا تھا جس میں وفاقی حکومت کا سندھ سے حکومت کی اجازت کے بغیر گیس لینے کا اختیار بھی شامل تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199337"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بینچ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاسوں کے منٹس سمیت کچھ دستاویزات جمع کرائی ہیں، جن میں  صوبائی حکومت کی جانب سے سی سی آئی میں گزشتہ تین سال کے دوران آرٹیکل 158 کو نافذ کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات ظاہر کیے گئے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اس واضح آئینی حکم کے بارے میں اس تین سال کی مدت میں کوئی قرارداد پیش نہیں کی گئی ہے اور یہاں تک کہ منٹس کے ایک حصے میں بھی یہ کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 158 صوبہ بلوچستان کے لیے شامل کیا گیا تھا اور بظاہر اس پر سندھ حکومت نے کوئی اعتراض بھی نہیں کیا۔</p>
<p>عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے آرٹیکل 158 کے حوالے سے کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہو رہی۔</p>
<p>عدالت کا کہنا تھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سی سی آئی پہلی نظر میں آئین کے واضح حکم سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے قابل نہیں ہے اور نہ صوبوں کے درمیان گیس کی تقسیم میں ترجیح کے مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194742"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بینچ کو آگاہ کیا کہ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے سی سی آئی کو بھیج دیا ہے۔</p>
<p>بنچ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ ان حالات میں حکومت سندھ آئین کے آرٹیکل 158 کے نفاذ کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کر سکتی ہے کیونکہ یہ بالکل واضح ہے سی سی آئی کے ذریعے اس سلسلے میں کوئی قرارداد یا عمل درآمد ہونے کا امکان نہیں ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 158 بے کار ہے جو کہ آئین میں کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی بھی آرٹیکل کو بے کار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔</p>
<p>عدالت نے مزید کہا کہ زیر بحث آرٹیکل واضح اور غیر مبہم ہے جسے کسی بھی صورت میں کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>بینچ نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو سندھ حکومت پر چھوڑ رہا ہے کیونکہ وہ صوبے کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے اور جوابدہ ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں بنیادی ضروریات بشمول کھانا پکانے کے لیے گیس فراہم کرنے کے لیے ذمہ دار بھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1199761</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Mar 2023 20:28:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسحاق تنولی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/291502094769de7.jpg?r=202848" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/291502094769de7.jpg?r=202848"/>
        <media:title>عدالت نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی بنیادی ضروریات پورے کرنے کی ذمہ دار ہے— فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
