<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 12:35:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 12:35:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسٹس امین الدین کی انتخابات ملتوی کرنے کا کیس سننے سے معذرت، سماعت کل تک ملتوی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1199811/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ میں شامل جسٹس امین الدین کی جانب سے سماعت سے معذرت کے بعد موجودہ بینچ کے دیگر چار ججز جمعہ کی صبح ساڑھے 11 بجے مقدمے کی سماعت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس امین الدین نے بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد میں کیس سننے سے معذرت کرتا ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُن کا اشارہ گزشتہ روز ان کے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جاری کردہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199780/"&gt;&lt;strong&gt;تجویز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی جانب تھا جس میں انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا کہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز میں کہا گیا تھا کہ آئین اور رولز چیف جسٹس کو اسپیشل بینچ تشکیل دینے کی اجازت نہیں دیتے، آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائر درخواستوں کے حوالے سے رولز موجود ہیں، سوموٹو مقدمات مقرر کرنے اور بینچز کی تشکیل کے لیے رولز موجود نہیں، پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید پر پابندی آئین اور اسلام کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے نوٹ میں خصوصی بینچ کے دو ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان نے ازخودنوٹس اور آئینی اہمیت کے حامل مقدمات پر سماعت مؤخر کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا تھا کہ رولز بنائے جانے تک 184/3 کے تمام کیسز کو روک دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ رکنی لارجر بینچ ٹوٹنے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا، اس حوالے سے سپریم کورٹ کے ججز کا چیف جسٹس کے چیمبر میں اجلاس ہوا اور نئے بینچ کی تشکیل اور کیس کو آگے بڑھانے سے متعلق ججز کی مشاورت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں سپریم کورٹ آرڈر کے مطابق بینچ کے اراکین کے بارے میں فیصلہ جمعہ کو کیا جائے گا اور اس کیس کا فیصلہ کرنے والے بینچ میں جسٹس امین الدین خان شامل نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے کی مزید سماعت کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ گزشتہ 3 روز سے سماعت کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ رکنی بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="واضح-ہے-کہ-مختلف-جج-صاحبان-کی-مختلف-آرا-ہیں-بیرسٹر-علی-ظفر" href="#واضح-ہے-کہ-مختلف-جج-صاحبان-کی-مختلف-آرا-ہیں-بیرسٹر-علی-ظفر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;واضح ہے کہ مختلف جج صاحبان کی مختلف آرا ہیں، بیرسٹر علی ظفر&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کوئی قیاس آرائیاں نہیں کرنا چاہتا، چیف جسٹس اور سینیئر ججز مل کر جو فیصلہ کریں گے اس کے مطابق ہم پیش ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ایک فیصلہ آچکا تھا جس پر مختلف جج صاحبان کی مختلف آرا ہیں، بہتر ہے کہ وہ آپس میں مشاورت کرکے خود یہ معاملہ حل کرلیں، اس کے بعد وہ فل بینچ بنا لیں یا جو بھی فیصلہ کرلیں وہ ان کی مرضی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ بہت جلد نیا بینچ بن جائے گا اور وہ اس پر سماعت کرے گا، ہمیں امید سپریم کورٹ سے ہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="بینچ-کا-ٹوٹنا-نشاندہی-ہے-کہ-سب-کچھ-ٹھیک-نہیں-ہے-خواجہ-آصف" href="#بینچ-کا-ٹوٹنا-نشاندہی-ہے-کہ-سب-کچھ-ٹھیک-نہیں-ہے-خواجہ-آصف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بینچ کا ٹوٹنا نشاندہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، خواجہ آصف&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے باہر وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی یہاں آیا ہوں تو مجھے پتا چلا کہ بینچ ٹوٹ گیا ہے، اب کوئی نیا بینچ بنے گا، بینچ کا ٹوٹنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز کی ذمہ داری ہے کہ عدلیہ کے وقار کا تحفظ کریں، جو کچھ نظر آرہا ہے اس سے یہ چیز ثابت نہیں ہو رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ انصاف کے ترازو کے پلڑے برابر رکھے، پارلیمنٹ میں اختلاف رائے عام بات ہے لیکن عدلیہ میں اختلاف رائے اچھا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پہلی-سماعت" href="#پہلی-سماعت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پہلی سماعت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 27 مارچ کو ہونے والی پہلی سماعت کے اختتام پر عدالت نے وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلے روز صبح ساڑھے 11 بجے تک جواب طلب کرکے سماعت ملتوی کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے بعد جاری ہونے والے تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات ملتوی کرنے کا آرڈر چیلنج کیا، پی ٹی آئی کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات ملتوی کرنے کا کوئی قانونی اور آئینی اختیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ’بروقت عام انتخابات کا ایمانداری، منصفانہ اور قانون کے مطابق انعقاد جمہوریت کے لیے ضروری ہے، انتخابات میں تاخیر شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق متاثر کرنے کے مترادف ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ ’تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن درخواست میں اٹھائے گئے اہم قانونی اور حقائق پر مبنی سوالات کا جواب دے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="دوسری-سماعت" href="#دوسری-سماعت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دوسری سماعت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;28 مارچ کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ ’کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے، سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں، اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’انتخابات آگے کون لے جا سکتا ہے، یہاں آئین خاموش ہے، کیا پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم نہیں کرنی چاہیے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’پارلیمنٹ ترمیم کر لے تو یہ سب سے اچھا ہو گا، سوال یہ ہے کہ ترمیم ہونے تک جو انتخابات ہونے ہیں ان کا کیا ہوگا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت انتخابات کے انعقاد کے لیے فنڈز کی عدم دستیابی کا معاملہ زیر بحث آیا تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’انتحابات کرانے کے لیے مجھ سمیت دیگر افراد کی تنخواہوں پر کٹ لگا دیا جائے تو انتخابات جیسا اہم ٹاسک پورا کیا جاسکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’الیکشن کے لیے پورے بجٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے، 20 ارب کا کٹ ہماری تنخواہوں پر بھی لگایا جاسکتا ہے، حکومت اخراجات کم کر کے 20 ارب نکال سکتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا تھا کہ ’فوج کی نقل و حرکت پر بھی اخراجات ہوتے ہیں، کیا یہ ایسا مسئلہ ہے جسے حل نہیں کیا جاسکتا، دہشت گردی کا مسئلہ 90 کی دہائی سے ہے، کیا نوے کی دہائی میں الیکشن نہیں ہوئے، کئی سیاسی لیڈرز کی جانیں قربان ہوئی، پیپلز پارٹی کی سربراہ کی شہادت بڑا سانحہ تھا، ان تمام حالات کے باوجود انتحابات ہوتے رہے ہیں، دوسری جنگ عظیم میں بھی انتحابات ہوئے تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تیسری-سماعت" href="#تیسری-سماعت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تیسری سماعت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;29 مارچ کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 4 ججز نے پی ٹی آئی کی درخواستیں خارج کیں، ہمارے حساب سے فیصلہ 4 ججز کا ہے، چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں کیا، جب آرڈر آف دی کورٹ نہیں تھا تو صدر مملکت نے تاریخ کیسے دی اور الیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے جاری کیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’قانون واضح ہے کہ اقلیتی فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، جسٹس منصور اور جسٹس جمال خان کا فیصلہ اقلیتی ہے، دونوں ججز کا احترام ہے مگر اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پر غالب نہیں آسکتا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’دہشت گردی کا مسئلہ تو ہے، 20 سال سے ملک میں دہشت گردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوتے رہے ہیں، 90 کی دہائی میں 3 دفعہ الیکشن ہوئے، 90 کی دہائی میں فرقہ واریت اور دہشتگردی عروج پر تھی، 58 (2) (بی) کے ہوتے ہوئے ہر 3 سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199739"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے رجوع کر کے قائل کرنا چاہیے تھا، آپ آج ہی عدالت کو قائل کرلیں، 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا، 8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی تھی، آج ہونے والی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے دلائل دینے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے اختتام پر سپریم کورٹ نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے تحریک انصاف سے تحریری یقین دہانی مانگی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پسِ-منظر" href="#پسِ-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پسِ منظر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199295"&gt;&lt;strong&gt;23 مارچ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 30 اپریل بروز اتوار کو شیڈول پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کو ملتوی کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات 8 اکتوبر کو ہوں گے، آئین کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے انتخابی شیڈول واپس لیا گیا اور نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا تھا کہ اس وقت فی پولنگ اسٹیشن اوسطاً صرف ایک سیکیورٹی اہلکار دستیاب ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر کمی اور ’اسٹیٹک فورس‘ کے طور پر فوجی اہلکاروں کی عدم فراہمی کی وجہ سے الیکشن ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کی تفصیل کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس صورت حال میں الیکشن کمیشن انتخابی مواد، پولنگ کے عملے، ووٹرز اور امیدواروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے متبادل انتظامات کرنے سے قاصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199637"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا تھا کہ وزارت خزانہ نے ’ملک میں غیر معمولی معاشی بحران کی وجہ سے فنڈز جاری کرنے میں ناکامی‘ کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے نشان دہی کی تھی کہ الیکشن کمیشن کی کوششوں کے باوجود ایگزیکٹو اتھارٹیز، وفاقی اور صوبائی حکومتیں پنجاب میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں انتخابی ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کے قابل نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے ردعمل میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199341"&gt;&lt;strong&gt;23 مارچ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو پی ٹی آئی نے پنجاب میں 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199507"&gt;&lt;strong&gt;25 مارچ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ رواں ماہ ہی الیکشن کمیشن نے 30 اپریل بروز اتوار پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات پر پولنگ کے لیے شیڈول جاری کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3 مارچ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات 30 اپریل بروز اتوار کرانے کی تجویز دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت نے تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ تاریخوں پر غور کرنے کے بعد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز کی مقررہ مدت میں کرائے جائیں، تاہم عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو اجازت دی تھی کہ وہ پولنگ کی ایسی تاریخ تجویز کرے جو کہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں 90 روز کی آخری تاریخ سے ’کم سے کم‘ تاخیر کا شکار ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ صدر مملکت اور گورنرز الیکشن کمیشن پاکستان کی مشاورت سے بالترتیب پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تاریخیں طے کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں بالترتیب 14 اور 18 جنوری کو تحلیل ہوئیں، قانون کے تحت اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح 14 اپریل اور 17 اپریل پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات کے انعقاد کی آخری تاریخ تھی لیکن دونوں گورنرز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کی تاریخ مقرر کرنے کی تجویز ملنے کے بعد انتخابات کی تاریخیں طے کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کو اسٹیک ہولڈرز سے مشورے کا کہا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ میں شامل جسٹس امین الدین کی جانب سے سماعت سے معذرت کے بعد موجودہ بینچ کے دیگر چار ججز جمعہ کی صبح ساڑھے 11 بجے مقدمے کی سماعت کریں گے۔</p>
<p>جسٹس امین الدین نے بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد میں کیس سننے سے معذرت کرتا ہوں‘۔</p>
<p>اُن کا اشارہ گزشتہ روز ان کے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جاری کردہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199780/"><strong>تجویز</strong></a> کی جانب تھا جس میں انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا کہا تھا۔</p>
<p>تجویز میں کہا گیا تھا کہ آئین اور رولز چیف جسٹس کو اسپیشل بینچ تشکیل دینے کی اجازت نہیں دیتے، آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائر درخواستوں کے حوالے سے رولز موجود ہیں، سوموٹو مقدمات مقرر کرنے اور بینچز کی تشکیل کے لیے رولز موجود نہیں، پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید پر پابندی آئین اور اسلام کے خلاف ہے۔</p>
<p>اپنے نوٹ میں خصوصی بینچ کے دو ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان نے ازخودنوٹس اور آئینی اہمیت کے حامل مقدمات پر سماعت مؤخر کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا تھا کہ رولز بنائے جانے تک 184/3 کے تمام کیسز کو روک دینا چاہیے۔</p>
<p>پانچ رکنی لارجر بینچ ٹوٹنے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا، اس حوالے سے سپریم کورٹ کے ججز کا چیف جسٹس کے چیمبر میں اجلاس ہوا اور نئے بینچ کی تشکیل اور کیس کو آگے بڑھانے سے متعلق ججز کی مشاورت کی گئی۔</p>
<p>بعد ازاں سپریم کورٹ آرڈر کے مطابق بینچ کے اراکین کے بارے میں فیصلہ جمعہ کو کیا جائے گا اور اس کیس کا فیصلہ کرنے والے بینچ میں جسٹس امین الدین خان شامل نہیں ہوں گے۔</p>
<p>مقدمے کی مزید سماعت کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔</p>
<p>خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ گزشتہ 3 روز سے سماعت کر رہا تھا۔</p>
<p>پانچ رکنی بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل تھا۔</p>
<h4><a id="واضح-ہے-کہ-مختلف-جج-صاحبان-کی-مختلف-آرا-ہیں-بیرسٹر-علی-ظفر" href="#واضح-ہے-کہ-مختلف-جج-صاحبان-کی-مختلف-آرا-ہیں-بیرسٹر-علی-ظفر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>واضح ہے کہ مختلف جج صاحبان کی مختلف آرا ہیں، بیرسٹر علی ظفر</h4>
<p>دریں اثنا پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کوئی قیاس آرائیاں نہیں کرنا چاہتا، چیف جسٹس اور سینیئر ججز مل کر جو فیصلہ کریں گے اس کے مطابق ہم پیش ہوجائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ایک فیصلہ آچکا تھا جس پر مختلف جج صاحبان کی مختلف آرا ہیں، بہتر ہے کہ وہ آپس میں مشاورت کرکے خود یہ معاملہ حل کرلیں، اس کے بعد وہ فل بینچ بنا لیں یا جو بھی فیصلہ کرلیں وہ ان کی مرضی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ بہت جلد نیا بینچ بن جائے گا اور وہ اس پر سماعت کرے گا، ہمیں امید سپریم کورٹ سے ہی ہے۔</p>
<h4><a id="بینچ-کا-ٹوٹنا-نشاندہی-ہے-کہ-سب-کچھ-ٹھیک-نہیں-ہے-خواجہ-آصف" href="#بینچ-کا-ٹوٹنا-نشاندہی-ہے-کہ-سب-کچھ-ٹھیک-نہیں-ہے-خواجہ-آصف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بینچ کا ٹوٹنا نشاندہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، خواجہ آصف</h4>
<p>سپریم کورٹ کے باہر وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی یہاں آیا ہوں تو مجھے پتا چلا کہ بینچ ٹوٹ گیا ہے، اب کوئی نیا بینچ بنے گا، بینچ کا ٹوٹنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز کی ذمہ داری ہے کہ عدلیہ کے وقار کا تحفظ کریں، جو کچھ نظر آرہا ہے اس سے یہ چیز ثابت نہیں ہو رہی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ انصاف کے ترازو کے پلڑے برابر رکھے، پارلیمنٹ میں اختلاف رائے عام بات ہے لیکن عدلیہ میں اختلاف رائے اچھا نہیں ہے۔</p>
<h3><a id="پہلی-سماعت" href="#پہلی-سماعت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پہلی سماعت</h3>
<p>واضح رہے کہ 27 مارچ کو ہونے والی پہلی سماعت کے اختتام پر عدالت نے وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلے روز صبح ساڑھے 11 بجے تک جواب طلب کرکے سماعت ملتوی کردی تھی۔</p>
<p>سماعت کے بعد جاری ہونے والے تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات ملتوی کرنے کا آرڈر چیلنج کیا، پی ٹی آئی کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات ملتوی کرنے کا کوئی قانونی اور آئینی اختیار نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ’بروقت عام انتخابات کا ایمانداری، منصفانہ اور قانون کے مطابق انعقاد جمہوریت کے لیے ضروری ہے، انتخابات میں تاخیر شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق متاثر کرنے کے مترادف ہے‘۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ ’تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن درخواست میں اٹھائے گئے اہم قانونی اور حقائق پر مبنی سوالات کا جواب دے‘۔</p>
<h3><a id="دوسری-سماعت" href="#دوسری-سماعت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دوسری سماعت</h3>
<p>28 مارچ کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ ’کارروائی کو لمبا نہیں کرنا چاہتے، سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کر سکتا ہے یا نہیں، اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی‘۔</p>
<p>جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’انتخابات آگے کون لے جا سکتا ہے، یہاں آئین خاموش ہے، کیا پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم نہیں کرنی چاہیے؟‘</p>
<p>جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’پارلیمنٹ ترمیم کر لے تو یہ سب سے اچھا ہو گا، سوال یہ ہے کہ ترمیم ہونے تک جو انتخابات ہونے ہیں ان کا کیا ہوگا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوران سماعت انتخابات کے انعقاد کے لیے فنڈز کی عدم دستیابی کا معاملہ زیر بحث آیا تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’انتحابات کرانے کے لیے مجھ سمیت دیگر افراد کی تنخواہوں پر کٹ لگا دیا جائے تو انتخابات جیسا اہم ٹاسک پورا کیا جاسکتا ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’الیکشن کے لیے پورے بجٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے، 20 ارب کا کٹ ہماری تنخواہوں پر بھی لگایا جاسکتا ہے، حکومت اخراجات کم کر کے 20 ارب نکال سکتی ہے‘۔</p>
<p>چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا تھا کہ ’فوج کی نقل و حرکت پر بھی اخراجات ہوتے ہیں، کیا یہ ایسا مسئلہ ہے جسے حل نہیں کیا جاسکتا، دہشت گردی کا مسئلہ 90 کی دہائی سے ہے، کیا نوے کی دہائی میں الیکشن نہیں ہوئے، کئی سیاسی لیڈرز کی جانیں قربان ہوئی، پیپلز پارٹی کی سربراہ کی شہادت بڑا سانحہ تھا، ان تمام حالات کے باوجود انتحابات ہوتے رہے ہیں، دوسری جنگ عظیم میں بھی انتحابات ہوئے تھے‘۔</p>
<h3><a id="تیسری-سماعت" href="#تیسری-سماعت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تیسری سماعت</h3>
<p>29 مارچ کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 4 ججز نے پی ٹی آئی کی درخواستیں خارج کیں، ہمارے حساب سے فیصلہ 4 ججز کا ہے، چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں کیا، جب آرڈر آف دی کورٹ نہیں تھا تو صدر مملکت نے تاریخ کیسے دی اور الیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے جاری کیا؟</p>
<p>جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’قانون واضح ہے کہ اقلیتی فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، جسٹس منصور اور جسٹس جمال خان کا فیصلہ اقلیتی ہے، دونوں ججز کا احترام ہے مگر اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پر غالب نہیں آسکتا‘۔</p>
<p>چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’دہشت گردی کا مسئلہ تو ہے، 20 سال سے ملک میں دہشت گردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوتے رہے ہیں، 90 کی دہائی میں 3 دفعہ الیکشن ہوئے، 90 کی دہائی میں فرقہ واریت اور دہشتگردی عروج پر تھی، 58 (2) (بی) کے ہوتے ہوئے ہر 3 سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199739"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے رجوع کر کے قائل کرنا چاہیے تھا، آپ آج ہی عدالت کو قائل کرلیں، 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا، 8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟</p>
<p>ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی تھی، آج ہونے والی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے دلائل دینے تھے۔</p>
<p>سماعت کے اختتام پر سپریم کورٹ نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے تحریک انصاف سے تحریری یقین دہانی مانگی تھی۔</p>
<h3><a id="پسِ-منظر" href="#پسِ-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پسِ منظر</h3>
<p>واضح رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199295"><strong>23 مارچ</strong></a> کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 30 اپریل بروز اتوار کو شیڈول پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کو ملتوی کردیا تھا۔</p>
<p>الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات 8 اکتوبر کو ہوں گے، آئین کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے انتخابی شیڈول واپس لیا گیا اور نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا تھا کہ اس وقت فی پولنگ اسٹیشن اوسطاً صرف ایک سیکیورٹی اہلکار دستیاب ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر کمی اور ’اسٹیٹک فورس‘ کے طور پر فوجی اہلکاروں کی عدم فراہمی کی وجہ سے الیکشن ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>فیصلے کی تفصیل کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس صورت حال میں الیکشن کمیشن انتخابی مواد، پولنگ کے عملے، ووٹرز اور امیدواروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے متبادل انتظامات کرنے سے قاصر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199637"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مزید کہا گیا تھا کہ وزارت خزانہ نے ’ملک میں غیر معمولی معاشی بحران کی وجہ سے فنڈز جاری کرنے میں ناکامی‘ کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے نشان دہی کی تھی کہ الیکشن کمیشن کی کوششوں کے باوجود ایگزیکٹو اتھارٹیز، وفاقی اور صوبائی حکومتیں پنجاب میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں انتخابی ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کے قابل نہیں تھیں۔</p>
<p>الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے ردعمل میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199341"><strong>23 مارچ</strong></a> کو پی ٹی آئی نے پنجاب میں 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1199507"><strong>25 مارچ</strong></a> کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی۔</p>
<p>خیال رہے کہ رواں ماہ ہی الیکشن کمیشن نے 30 اپریل بروز اتوار پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات پر پولنگ کے لیے شیڈول جاری کر دیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>3 مارچ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات 30 اپریل بروز اتوار کرانے کی تجویز دی تھی۔</p>
<p>ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت نے تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ تاریخوں پر غور کرنے کے بعد کیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز کی مقررہ مدت میں کرائے جائیں، تاہم عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو اجازت دی تھی کہ وہ پولنگ کی ایسی تاریخ تجویز کرے جو کہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں 90 روز کی آخری تاریخ سے ’کم سے کم‘ تاخیر کا شکار ہو۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ صدر مملکت اور گورنرز الیکشن کمیشن پاکستان کی مشاورت سے بالترتیب پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تاریخیں طے کریں گے۔</p>
<p>پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں بالترتیب 14 اور 18 جنوری کو تحلیل ہوئیں، قانون کے تحت اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کرانا ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس طرح 14 اپریل اور 17 اپریل پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے عام انتخابات کے انعقاد کی آخری تاریخ تھی لیکن دونوں گورنرز نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کی تاریخ مقرر کرنے کی تجویز ملنے کے بعد انتخابات کی تاریخیں طے کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کو اسٹیک ہولڈرز سے مشورے کا کہا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1199811</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Mar 2023 17:13:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکحسیب بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/301245019000e19.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/301245019000e19.jpg"/>
        <media:title>پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ سماعت کر رہا تھا — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
