<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:46:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:46:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلپائن: کشتی میں آگ لگنے سے 31 افراد ہلاک، 230 کو بچا لیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1199868/</link>
      <description>&lt;p&gt;فلپائن میں کشتی میں آگ لگنے کے نتیجے میں 31 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ریسکیو آپریشن کی بدولت 230 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ڈیزاسٹر آفیسر نکسن الونزو نے بتایا کہ لیڈی میری جوائے 3 منڈاناؤ جزیرہ کے زمبونگا شہر سے صوبہ سولو کے جولو جزیرے کی طرف رواں دواں تھی کہ بدھ کو رات گئے کشتی میں آگ بھڑک اٹھی جس نے مسافروں کو جہاز سے چھلانگ لگانے پر مجبور کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ نے بِسیلان صوبے کے بلوک جزیرے پر کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے وہ تباہ ہو گئی تاہم بروقت ریسکیو آپریشن کی بدولت فلپائنی کوسٹ گارڈ اور ماہی گیروں سمیت امدادی کارکنوں نے 195 مسافروں اور عملے کے 35 افراد کو بچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1183429"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باسیلان کے گورنر جم سلیمان نے کہا کہ 31 لاشیں نکال لی گئی ہیں جن میں سے 18 ایک ایئر کنڈیشنڈ کیبن سے ملی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوسٹ گارڈ کی طرف سے جاری کی گئی تصاویر میں ایک جہاز کو جلتی ہوئی کشتی پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ جب چھوٹی کشتیوں میں سوار اہلکاروں نے گہرے پانی سے لوگوں کو نکالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسافروں میں شامل فائر فائٹر جیسن اہیجون نے بتایا کہ لوگ خوفزدہ ہو گئے تھے کیونکہ آگ اور دھویں نے کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگوں نے لائف جیکٹس پہننے سے پہلے ہی جہاز سے چھلانگ لگا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;36سالہ آہیجون نے کہا کہ یہ آگ میرے تصور سے باہر ہے، آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1183429"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہیجون نے کہا کہ انہوں نے اور دیگر کوسٹ گارڈ افسران نے دوسرے مسافروں کو کشتی سے باحفاظت نکالنے میں مدد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپائنی کوسٹ گارڈ کے کموڈور ریجرڈ مارفی نے اے ایف پی کو بتایا کہ آگ پھیلتے ہی کپتان نے کشتی کو دوڑانا شروع کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جم سلیمان نے بتایا کہ مرنے والوں میں چھ ماہ کے بچے سمیت کم از کم تین بچے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں ہے کہ اس حادثے میں کتنے لوگ ابھی تک لاپتا ہیں البتہ جم سلیمان نے کہا کہ جہاز پر مسافروں کی تعداد 205 مسافروں کے حامل جہاز کی گنجائش سے زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارفی نے کہا کہ جہاز کوسٹ گارڈ کے چار ارکان اور فوج کے اہلکار نامعلوم تعداد میں سوار تھے لیکن ان کا اندراج نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188622"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی بھی کوسٹ گارڈ اسٹیشن زمبوانگا سے ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ابھی بھی لوگ لاپتا ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارفی نے کہا کہ کوسٹ گارڈ کے تفتیش کار کشتی کا معائنہ اور آگ لگنے کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیمان نے کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کو زمبونگا اور باسیلان لے جایا گیا، جہاں جھلس جانے والے زخمیوں کا علاج کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپائن 7ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل ایک جزیرہ نما خطہ ہے اور ناقص سمندری نقل و حمل کی وجہ سے وہاں اکثر کشتیاں حادثات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فلپائن میں کشتی میں آگ لگنے کے نتیجے میں 31 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ریسکیو آپریشن کی بدولت 230 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ڈیزاسٹر آفیسر نکسن الونزو نے بتایا کہ لیڈی میری جوائے 3 منڈاناؤ جزیرہ کے زمبونگا شہر سے صوبہ سولو کے جولو جزیرے کی طرف رواں دواں تھی کہ بدھ کو رات گئے کشتی میں آگ بھڑک اٹھی جس نے مسافروں کو جہاز سے چھلانگ لگانے پر مجبور کردیا۔</p>
<p>آگ نے بِسیلان صوبے کے بلوک جزیرے پر کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے وہ تباہ ہو گئی تاہم بروقت ریسکیو آپریشن کی بدولت فلپائنی کوسٹ گارڈ اور ماہی گیروں سمیت امدادی کارکنوں نے 195 مسافروں اور عملے کے 35 افراد کو بچایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1183429"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>باسیلان کے گورنر جم سلیمان نے کہا کہ 31 لاشیں نکال لی گئی ہیں جن میں سے 18 ایک ایئر کنڈیشنڈ کیبن سے ملی ہیں۔</p>
<p>کوسٹ گارڈ کی طرف سے جاری کی گئی تصاویر میں ایک جہاز کو جلتی ہوئی کشتی پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ جب چھوٹی کشتیوں میں سوار اہلکاروں نے گہرے پانی سے لوگوں کو نکالا۔</p>
<p>مسافروں میں شامل فائر فائٹر جیسن اہیجون نے بتایا کہ لوگ خوفزدہ ہو گئے تھے کیونکہ آگ اور دھویں نے کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔</p>
<p>آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگوں نے لائف جیکٹس پہننے سے پہلے ہی جہاز سے چھلانگ لگا دی۔</p>
<p>36سالہ آہیجون نے کہا کہ یہ آگ میرے تصور سے باہر ہے، آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1183429"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اہیجون نے کہا کہ انہوں نے اور دیگر کوسٹ گارڈ افسران نے دوسرے مسافروں کو کشتی سے باحفاظت نکالنے میں مدد کی۔</p>
<p>فلپائنی کوسٹ گارڈ کے کموڈور ریجرڈ مارفی نے اے ایف پی کو بتایا کہ آگ پھیلتے ہی کپتان نے کشتی کو دوڑانا شروع کردیا۔</p>
<p>جم سلیمان نے بتایا کہ مرنے والوں میں چھ ماہ کے بچے سمیت کم از کم تین بچے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>یہ واضح نہیں ہے کہ اس حادثے میں کتنے لوگ ابھی تک لاپتا ہیں البتہ جم سلیمان نے کہا کہ جہاز پر مسافروں کی تعداد 205 مسافروں کے حامل جہاز کی گنجائش سے زیادہ تھی۔</p>
<p>مارفی نے کہا کہ جہاز کوسٹ گارڈ کے چار ارکان اور فوج کے اہلکار نامعلوم تعداد میں سوار تھے لیکن ان کا اندراج نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188622"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی بھی کوسٹ گارڈ اسٹیشن زمبوانگا سے ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ابھی بھی لوگ لاپتا ہیں یا نہیں۔</p>
<p>مارفی نے کہا کہ کوسٹ گارڈ کے تفتیش کار کشتی کا معائنہ اور آگ لگنے کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔</p>
<p>سلیمان نے کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کو زمبونگا اور باسیلان لے جایا گیا، جہاں جھلس جانے والے زخمیوں کا علاج کیا گیا۔</p>
<p>فلپائن 7ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل ایک جزیرہ نما خطہ ہے اور ناقص سمندری نقل و حمل کی وجہ سے وہاں اکثر کشتیاں حادثات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1199868</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Mar 2023 07:29:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/31004914121b7ca.png?r=004949" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/31004914121b7ca.png?r=004949"/>
        <media:title>ایک جہاز کو جلتی ہوئی فیری پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
