<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:35:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:35:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کو نیٹو کی مستقل رکنیت دینے پر کوئی غور نہیں ہورہا، عہدیدار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200040/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیٹو میں امریکا کی سفیر جولیان اسمتھ نے کہا ہے کہ بھارت کے لیے نیٹو کے دروازے کھلے ہیں لیکن فی الحال نیٹو اس خطے میں موجود ممالک کو مستقل رکنیت دینے کے حوالے سے کوئی غور نہیں کررہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1745466/nato-stops-short-of-opening-its-doors-to-india"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جولیان اسمتھ نے خطے میں چین کی بڑھتے ہوئے جارحیت کے بارے میں بھی بات کی اور یہ بھی بتایا کہ اس نے ایشیا پیسیفک خطے کے حوالے سے نیٹو کی حکمت عملی کو کیسے متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک ورچوئل نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’نیٹو کا انڈو پیسیفک خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ رابطے کا طریقہ کار قابل ذکر حد تک میں تبدیل ہوا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں نیٹو کا اس خطے کے ممالک کے ساتھ کوئی خاص ایجنڈا نہیں تھا لیکن حالیہ برسوں میں اس نے ان سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹو میں بھارت کے لیے ایک نئے کردار کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’بھارت اگر دلچسپی رکھتا ہے تو اس کے لیے نیٹو کے دروازے کھلے ہیں لیکن انڈو پیسفک یا ایشیا پیسیفک خطے میں موجود ممالک کو مستقل رکنیت دینے کے حوالے سے ہم کوئی غور نہیں کررہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولیان اسمتھ نے کہا کہ ’نیٹو فی الحال یورو-اٹلانٹک فوجی اتحاد ہی ہے اور اس کو عالمی فوجی اتحاد بنانے کے لیے وسعت دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسلز میں 4 تا 5 اپریل کو نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جولیان اسمتھ نے کہا کہ فی الحال ہم بھارت کو نیٹو کے وزارتی اجلاس میں اس وقت تک مدعو نہیں کرنا چاہیں گے جب تک کہ ہم اس کے مقاصد کے بارے میں علم نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 4 ممالک (آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا اور جاپان) کو مدعو کیا گیا ہے جو پہلے ہی نیٹو کے ساتھ باضابطہ شراکت داری قائم کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولیان سمتھ نے کہا کہ ’یہ وہ 4 ممالک ہیں جو گزشتہ برس میڈرڈ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں ہمارے ساتھ شامل ہوئے تھے‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیٹو میں امریکا کی سفیر جولیان اسمتھ نے کہا ہے کہ بھارت کے لیے نیٹو کے دروازے کھلے ہیں لیکن فی الحال نیٹو اس خطے میں موجود ممالک کو مستقل رکنیت دینے کے حوالے سے کوئی غور نہیں کررہا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1745466/nato-stops-short-of-opening-its-doors-to-india"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جولیان اسمتھ نے خطے میں چین کی بڑھتے ہوئے جارحیت کے بارے میں بھی بات کی اور یہ بھی بتایا کہ اس نے ایشیا پیسیفک خطے کے حوالے سے نیٹو کی حکمت عملی کو کیسے متاثر کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایک ورچوئل نیوز بریفنگ میں کہا کہ ’نیٹو کا انڈو پیسیفک خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ رابطے کا طریقہ کار قابل ذکر حد تک میں تبدیل ہوا ہے‘۔</p>
<p>ماضی میں نیٹو کا اس خطے کے ممالک کے ساتھ کوئی خاص ایجنڈا نہیں تھا لیکن حالیہ برسوں میں اس نے ان سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198803"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نیٹو میں بھارت کے لیے ایک نئے کردار کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’بھارت اگر دلچسپی رکھتا ہے تو اس کے لیے نیٹو کے دروازے کھلے ہیں لیکن انڈو پیسفک یا ایشیا پیسیفک خطے میں موجود ممالک کو مستقل رکنیت دینے کے حوالے سے ہم کوئی غور نہیں کررہے‘۔</p>
<p>جولیان اسمتھ نے کہا کہ ’نیٹو فی الحال یورو-اٹلانٹک فوجی اتحاد ہی ہے اور اس کو عالمی فوجی اتحاد بنانے کے لیے وسعت دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘۔</p>
<p>برسلز میں 4 تا 5 اپریل کو نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جولیان اسمتھ نے کہا کہ فی الحال ہم بھارت کو نیٹو کے وزارتی اجلاس میں اس وقت تک مدعو نہیں کرنا چاہیں گے جب تک کہ ہم اس کے مقاصد کے بارے میں علم نہ ہو۔</p>
<p>تاہم 4 ممالک (آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا اور جاپان) کو مدعو کیا گیا ہے جو پہلے ہی نیٹو کے ساتھ باضابطہ شراکت داری قائم کر چکے ہیں۔</p>
<p>جولیان سمتھ نے کہا کہ ’یہ وہ 4 ممالک ہیں جو گزشتہ برس میڈرڈ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں ہمارے ساتھ شامل ہوئے تھے‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200040</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Apr 2023 09:58:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/020955527a5cdf3.jpg?r=095706" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/020955527a5cdf3.jpg?r=095706"/>
        <media:title>جولیان اسمتھ نے کہا کہ بھارت اگر دلچسپی رکھتا ہے تو اس کے لیے نیٹو کے دروازے کھلے ہیں—فوٹو: یو ایس مشن ٹو ناٹو/ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
