<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:48:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:48:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹائم میگزین کے سرورق پر عمران خان کی تصویر، حامی مضمون کے متن پر برہم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1200235/</link>
      <description>&lt;p&gt;معروف امریکی جریدے ’ٹائم میگزین‘ نے اپنے تازہ ایڈیشن میں سابق وزیر اعظم پاکستان اور چیئرمین تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے بارے میں ایک کور اسٹوری شائع کی ہے جس کے عنوان ’عمران خان کی حیران کن کہانی‘ کے ساتھ اُن کی تصویر سرورق پر لگائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1745974/imran-makes-cover-of-time-but-supporters-not-happy"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس آرٹیکل نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی بھرپور توجہ حاصل کی اور سابق وزیر اطلاعات و رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے اسے فوری طور پر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیا اور ساتھ ہی اس کے سرورق کی تصویر بھی لگائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مغربی رسائل میں شائع ہونے والے عمومی آرٹیکلز کی طرح کچھ تعریف اور کچھ تنقید سے بھرا آرٹیکل تھا جس میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تجزیہ کیا گیا اور پاکستان اور عمران خان دونوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائم میگزین نے عمران خان کے ساتھ زوم پر انٹرویو بھی کیا لیکن سوال و جواب کے فارمیٹ کے بجائے پورے آرٹیکل میں انٹرویو کے اقتباسات شائع کیے گئے، جن میں کہیں ان کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا اور کہیں ان کی ناکامیوں پر روشنی ڈالی گئی، انٹرویو کے کچھ اقتباسات کو ٹائم میگزین کی عمران خان اور پاکستان کے بارے میں مثبت اور منفی پیش گوئیوں کی توثیق کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TIME/status/1643063981945372673"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن عمران خان کے حامیوں کو یہ انداز پسند نہیں آیا اور انہوں نے اپنے ناپسندیدہ پاکستانی پبلی کیشنز پر ردعمل کی طرح اِس کا غصہ بھی ٹائم میگزین اور مصنف چارلس کیمبیل پر نکال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے ایک حامی معاذ الدین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’ٹائم میگزین کا تبصرہ عالمِ اسلام کے بارے میں مغرب کے دہرے معیار، محدود نکتہ نظر اور گمراہ کن تصور سے سے زیادہ کچھ نہیں ہے، یہ آرٹیکل ایشیائی ممالک کے بارے میں مغربی دنیا کی نوآبادیاتی سوچ پر مبنی روایتی تصور (استشراق) کی ایک بہترین مثال ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے ایک اور حامی بیا آغا نے دعویٰ کیا کہ ’یہ آرٹیکل حقائق کو مبہم کرنے اور حقارت کو معروضیت کے لبادے میں چھپانے کے استشراقی فن کا نمونہ ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ عمران خان کی خامیوں کی نشاندہی کرنے میں پی ٹی آئی کے ناقدین بھی پیچھے نہ رہے، ایسے ہی ایک ناقد نے لکھا کہ ’آرٹیکل میں صرف اور صرف عمران خان کو ہی پاکستان کے معاشی بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191133"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاذ الدین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹائم میگزین کے مذکورہ آرٹیکل میں شامل نکات کی فرداً فرداً تردید پوسٹ کی جو فوری طور پر مقبول ہو گئی اور چند ہی گھنٹوں کے اندر تقریباً 50 ہزار لوگوں نے ان ٹوئٹس کو دیکھا، پی ٹی آئی کے سیکڑوں حامیوں نے اسے ری ٹوئٹ بھی کیا اور اُن میں سے بھی کچھ ٹوئٹس کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مذکورہ آرٹیکل میں عمران خان کا یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ ’صرف انتخابات ہی اس تلخ سیاسی تقسیم کو ختم کر سکتے ہیں جس سے پورا ملک متاثر ہورہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ ’پاکستان میں سیاسی استحکام انتخابات کے ذریعے آتا ہے، یہ معاشی بحالی کا نقطہ آغاز ہوگا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مذکورہ آرٹیکل میں کہا گیا کہ ’پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، جس کے پاس صرف 4 ارب 60 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی ذخائر باقی رہ گئے ہیں، یعنی 20 ڈالر فی شہری، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس بحران کو صرف انتخابات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1180504"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں امریکا کے سابق سفیر کیمرون منٹر نے کہا کہ ’اگر پاکستان ڈیفالٹ کرگیا  اور اسے تیل نہیں ملا تو کمپنیاں تباہ ہوجائیں گی اور لوگوں کے پاس نوکریاں نہیں رہیں گی جس کے بعد یہ انقلاب کے دہانے پر کھڑا ملک سمجھا جائے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آرٹیکل سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے حکم کو مسترد کرنے سے چند گھنٹے قبل شائع ہوا، لہٰذا اس نے سوشل میڈیا اور امریکا میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہرین کے درمیان کافی بحث چھیڑ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحث ان 3 اہم نکات پر مرکوز تھی کہ کیا پی ڈی ایم حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرے گی اور حکم کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کرائے گی؟ کیا فوج حکومت کو اس حکم نامے پر عملدرآمد پر آمادہ کرے گی؟ اور امریکا کس کا ساتھ دے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل میں آخری سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’امریکا کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایک غریب، شورش زدہ اسلامی ریاست کو سنبھالنے کے لیے عمران خان کے ایک مثالی انتخاب ہونے کے امکانات کم ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل میں نشاندہی کی گئی کہ عمران خان نے امریکا پر اپنی حکومت گرانے کا غلط الزام عائد کیا، علاوہ ازیں اس آرٹیکل میں عمران خان کے طالبان کے حق میں بیان، روس اور چین سے قربت کی کوششیں اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ ان کے اختلافات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معروف امریکی جریدے ’ٹائم میگزین‘ نے اپنے تازہ ایڈیشن میں سابق وزیر اعظم پاکستان اور چیئرمین تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے بارے میں ایک کور اسٹوری شائع کی ہے جس کے عنوان ’عمران خان کی حیران کن کہانی‘ کے ساتھ اُن کی تصویر سرورق پر لگائی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1745974/imran-makes-cover-of-time-but-supporters-not-happy"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اس آرٹیکل نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی بھرپور توجہ حاصل کی اور سابق وزیر اطلاعات و رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے اسے فوری طور پر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیا اور ساتھ ہی اس کے سرورق کی تصویر بھی لگائی۔</p>
<p>یہ مغربی رسائل میں شائع ہونے والے عمومی آرٹیکلز کی طرح کچھ تعریف اور کچھ تنقید سے بھرا آرٹیکل تھا جس میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تجزیہ کیا گیا اور پاکستان اور عمران خان دونوں کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کی گئی۔</p>
<p>ٹائم میگزین نے عمران خان کے ساتھ زوم پر انٹرویو بھی کیا لیکن سوال و جواب کے فارمیٹ کے بجائے پورے آرٹیکل میں انٹرویو کے اقتباسات شائع کیے گئے، جن میں کہیں ان کی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا اور کہیں ان کی ناکامیوں پر روشنی ڈالی گئی، انٹرویو کے کچھ اقتباسات کو ٹائم میگزین کی عمران خان اور پاکستان کے بارے میں مثبت اور منفی پیش گوئیوں کی توثیق کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TIME/status/1643063981945372673"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>لیکن عمران خان کے حامیوں کو یہ انداز پسند نہیں آیا اور انہوں نے اپنے ناپسندیدہ پاکستانی پبلی کیشنز پر ردعمل کی طرح اِس کا غصہ بھی ٹائم میگزین اور مصنف چارلس کیمبیل پر نکال دیا۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے ایک حامی معاذ الدین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’ٹائم میگزین کا تبصرہ عالمِ اسلام کے بارے میں مغرب کے دہرے معیار، محدود نکتہ نظر اور گمراہ کن تصور سے سے زیادہ کچھ نہیں ہے، یہ آرٹیکل ایشیائی ممالک کے بارے میں مغربی دنیا کی نوآبادیاتی سوچ پر مبنی روایتی تصور (استشراق) کی ایک بہترین مثال ہے‘۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے ایک اور حامی بیا آغا نے دعویٰ کیا کہ ’یہ آرٹیکل حقائق کو مبہم کرنے اور حقارت کو معروضیت کے لبادے میں چھپانے کے استشراقی فن کا نمونہ ہے‘۔</p>
<p>مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ عمران خان کی خامیوں کی نشاندہی کرنے میں پی ٹی آئی کے ناقدین بھی پیچھے نہ رہے، ایسے ہی ایک ناقد نے لکھا کہ ’آرٹیکل میں صرف اور صرف عمران خان کو ہی پاکستان کے معاشی بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191133"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>معاذ الدین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹائم میگزین کے مذکورہ آرٹیکل میں شامل نکات کی فرداً فرداً تردید پوسٹ کی جو فوری طور پر مقبول ہو گئی اور چند ہی گھنٹوں کے اندر تقریباً 50 ہزار لوگوں نے ان ٹوئٹس کو دیکھا، پی ٹی آئی کے سیکڑوں حامیوں نے اسے ری ٹوئٹ بھی کیا اور اُن میں سے بھی کچھ ٹوئٹس کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔</p>
<p>تاہم مذکورہ آرٹیکل میں عمران خان کا یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ ’صرف انتخابات ہی اس تلخ سیاسی تقسیم کو ختم کر سکتے ہیں جس سے پورا ملک متاثر ہورہا ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے انٹرویو میں کہا کہ ’پاکستان میں سیاسی استحکام انتخابات کے ذریعے آتا ہے، یہ معاشی بحالی کا نقطہ آغاز ہوگا‘۔</p>
<p>تاہم مذکورہ آرٹیکل میں کہا گیا کہ ’پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، جس کے پاس صرف 4 ارب 60 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی ذخائر باقی رہ گئے ہیں، یعنی 20 ڈالر فی شہری، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس بحران کو صرف انتخابات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1180504"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان میں امریکا کے سابق سفیر کیمرون منٹر نے کہا کہ ’اگر پاکستان ڈیفالٹ کرگیا  اور اسے تیل نہیں ملا تو کمپنیاں تباہ ہوجائیں گی اور لوگوں کے پاس نوکریاں نہیں رہیں گی جس کے بعد یہ انقلاب کے دہانے پر کھڑا ملک سمجھا جائے گا‘۔</p>
<p>یہ آرٹیکل سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے حکم کو مسترد کرنے سے چند گھنٹے قبل شائع ہوا، لہٰذا اس نے سوشل میڈیا اور امریکا میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہرین کے درمیان کافی بحث چھیڑ دی۔</p>
<p>یہ بحث ان 3 اہم نکات پر مرکوز تھی کہ کیا پی ڈی ایم حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرے گی اور حکم کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کرائے گی؟ کیا فوج حکومت کو اس حکم نامے پر عملدرآمد پر آمادہ کرے گی؟ اور امریکا کس کا ساتھ دے گا؟</p>
<p>آرٹیکل میں آخری سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’امریکا کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایک غریب، شورش زدہ اسلامی ریاست کو سنبھالنے کے لیے عمران خان کے ایک مثالی انتخاب ہونے کے امکانات کم ہیں‘۔</p>
<p>آرٹیکل میں نشاندہی کی گئی کہ عمران خان نے امریکا پر اپنی حکومت گرانے کا غلط الزام عائد کیا، علاوہ ازیں اس آرٹیکل میں عمران خان کے طالبان کے حق میں بیان، روس اور چین سے قربت کی کوششیں اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ ان کے اختلافات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1200235</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Apr 2023 12:02:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/050811585365c20.gif?r=081610" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/050811585365c20.gif?r=081610"/>
        <media:title>مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ عمران خان کی خامیوں کی نشاندہی کرنے میں پی ٹی آئی کے ناقدین بھی پیچھے نہ رہے—فوٹو: ٹائم میگزین/ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
